جشنِ آزادی اور ہماری حقیقی ذمہ داریاں
مرزا رضوان
14 اگست کو پاکستان اپنا 80 واں یومِ آزادی منانے جا رہا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی سڑکوں پر سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آ رہی ہے، عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا جا رہا ہے، 14 اگست کو ملی نغمے گونجیں گے، اور بچے، نوجوان، بزرگ سب ہی چہروں پر سبز اور سفید رنگ سجائے جشن منائیں گے۔ یہ جذبہ، یہ جوش اور یہ محبت بلاشبہ قابلِ ستائش ہے، لیکن بطور ایک تجزیہ کار جب ہم زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو ایک انتہائی تلخ اور چبھتا ہوا سوال سامنے آتا ہے۔کیا محض ایک دن باجے بجانے، ریلیاں نکالنے اور جھنڈے لہرانے کا نام ہی آزادی ہے؟آزادی ایک نعمت ضرور ہے، لیکن یہ اپنے ساتھ بھاری ذمہ داریاں بھی لے کر آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے بحیثیت مجموعی جشن منانے کے طریقے تو سیکھ لیے، لیکن اس آزادی کی حفاظت اور اس ملک کو سنوارنے کی ذمہ داریوں کو فراموش کر دیا۔ آئیے آج جذباتیت سے ہٹ کر، حقائق اور عقل کی کسوٹی پر اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔کسی بھی قوم کے لیے حقیقی آزادی کا مطلب صرف جغرافیائی سرحدوں کا تعین نہیں ہوتا۔ حقیقی آزادی ان عوامل سے مشروط ہے جب تک کوئی ملک اپنے بجٹ اور ترقیاتی کاموں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) اور بیرونی قرضوں کا محتاج رہتا ہے، وہ مکمل طور پر آزاد نہیں کہلا سکتا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو، اور انصاف کا حصول عام شہری کے لیے آسان ہو۔جہاں ہر شہری کو بلا تفریقِ رنگ، نسل اور مذہب، ریاست کی طرف سے تحفظ، تعلیم، اور روزگار کے یکساں مواقع میسر ہوں۔جب ہم ان پیمانوں پر پاکستان کو پرکھتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ایک جغرافیائی خطہ تو ضرور حاصل کر لیا تھا، لیکن ایک مضبوط، معاشی طور پر خود مختار اور فلاحی ریاست کا خواب آج بھی شرمندہِ تعبیر ہونے کا منتظر ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ ہم اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار صرف حکومتوں، سیاستدانوں اور اداروں کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی ناکامیاں اور کرپشن اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، لیکن کیا ہم نے بطور شہری اپنا فرض ادا کیا ہے؟ یومِ آزادی کے اس موقع پر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ایک عام شہری سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ سرحد پر جا کر لڑے یا اربوں ڈالر کا قرضہ اتارے، لیکن اس سے یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ وہ ٹریفک کے اشارے پر رکے گا۔ کیا ہم اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے کاروبار میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور ناپ تول میں کمی سے گریز کرتے ہیں؟ یاد رکھیں، جو شخص اپنے چھوٹے سے دائرہ کار میں دیانتدار نہیں، وہ اگر کل کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے گا تو وہ بھی وہی کرے گا جو آج کے اشرافیہ کر رہے ہیں۔14 اگست کی رات سڑکوں پر جو اودھم مچایا جاتا ہے، اور 15 اگست کی صبح سڑکوں اور گلیوں میں گرے ہوئے جھنڈوں،چھوٹی چھوٹی جھڈیوں اور کچرے کے ڈھیر ہماری حب الوطنی کا منہ چڑاتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔ جشنِ آزادی پر محض پٹرول جلا کر ریلیاں نکالنے کے بجائے اگر ہر شہری ایک پودا (Tree Plantation) لگائے، تو ہم موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) جیسے سنگین خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، پاکستان اس وقت شدید سماجی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رائے، ان کے عقائد اور ان کے جینے کے حق کا احترام کریں۔ عدم برداشت اور جذباتی ہجوم بن کر فیصلے کرنے کے رجحان نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک پرامن اور مکالمے (Dialogue) پر یقین رکھنے والا معاشرہ تشکیل دیں۔دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت (AI) خلا کی تسخیر اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی جدت پیدا کر رہی ہے، اور ہم آج بھی بنیادی اور فرسودہ بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا وقت سوشل میڈیا کی بے مقصد بحثوں میں ضائع کرنے کے بجائے، ہنر سیکھیں، جدید علوم حاصل کریں اور عالمی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں۔جیسا کہ پٹرولیم مصنوعات اور مہنگائی کے حوالے سے معاشی بوجھ عوام پر مسلسل بڑھ رہا ہے، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معاشی طور پر کمزور قومیں کبھی اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتیں۔ ایک مقروض ریاست اپنے عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کریں۔ہمیں ایسے لیڈروں کو جوابدہ بنانا ہوگا جو محض جذباتی نعرے لگاتے ہیں اور جن کے پاس معاشی بحالی کا کوئی ٹھوس اور قابلِ عمل خاکہ موجود نہیں ہے۔ ہم نے شخصیات کی پوجا اور اندھی تقلید کو اپنا لیا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پالیسیوں اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں۔جب پیٹ خالی ہو، پٹرول اور بجلی کے بل آمدنی سے زیادہ ہوں، اور مستقبل تاریک نظر آ رہا ہو، تو ایسے میں جشنِ آزادی منانا ایک عام اور غریب آدمی کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بحرانوں سے ہی نکل کر عروج پاتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور اصلاح کا راستہ اپنائیں۔یہ 14 اگست محض مبارکبادوں اور ملی نغموں کے ساتھ ساتھ اسے "یومِ احتساب” اور "تجدیدِ عہد”کا دن بھی ہونا چاہیے۔آئیے یہ عہد کریں کہ ہم صرف حقوق مانگنے والے نہیں بلکہ فرائض ادا کرنے والے شہری بنیں گے۔ ہم جھوٹ، فریب، سفارش اور رشوت کو اپنے انفرادی دائرے میں ختم کریں گے۔ اگر آج ہر پاکستانی، چاہے وہ ایک ریڑھی بان ہو، ایک طالب علم ہو، یا ایک سرکاری افسر، صرف اپنا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرنے کا فیصلہ کر لے، تو اس ملک کو کسی غیر ملکی امداد یا معجزے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اصل آزادی اسی دن ملے گی جب ہم فکری، اخلاقی اور معاشی غلامی کی زنجیریں توڑیں گے۔ اللہ کریم وطن عزیز پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم اور اندرونی و بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین






