#کالم

مکہ معاہدہ: بحرِ ہند میں بدلتی ہوئی بساط

mehndi

محمد مہدی

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو ترک وزیر خارجہ نے نیٹو کے آرٹیکل 5سے مماثل قرار دیا ہے۔نیٹو میں بھی کسی رکن پر حملہ باقی ممالک کو ازخود جنگ میں داخل نہیں کرتا؛ اجتماعی ردعمل سیاسی فیصلے اور حالات کے جائزے سے مشروط ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ صرف سیاسی یقین دہانی تک محدود رہے گا یا رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ دفاعی اور اسٹریٹجک انتظام کی صورت اختیار کرے گا؟مکہ معاہدے کے ممکنہ اثرات صرف خشکی تک محدود نہیں رہیں گے۔ترکیہ کیلئے بحرِ ہند کوئی نیا میدان نہیں۔ انقرہ 2009ءسے خلیجِ عدن اور صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی کارروائیوں میں شریک رہا ہے۔ ترک بحریہ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کی CTF-151 کی کمان بھی کئی مرتبہ سنبھال چکی ہے، جبکہ صومالیہ کی بحریہ اور ساحلی محافظوں کی تربیت میں بھی اس کا کردار ہے۔اس لیے مکہ معاہدے کے بعد ترکیہ کیلئے بحرِ ہند میں موجودگی کو ایک نئے دفاعی فریم ورک سے جوڑنا اصل پیش رفت ہوگی۔ بھارت گزشتہ کئی برسوں سے بحرِ ہند میں اپنی بحری قوت اور علاقائی شراکت داری کو وسعت دے رہا ہے۔ نئی دہلی اب خود کو صرف ایک بڑی بحری طاقت نہیں بلکہ خطےکے ایک سیکورٹی پرووائیڈرکے طور پر بھی پیش کرتا ہے۔ Information Fusion Centre–Indian Ocean Region، مختلف کثیر ملکی بحری مشقیں اور علاقائی شراکت داریاں اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔اگر پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی تعاون مستقبل میں بحری سلامتی، نگرانی، انٹیلی جنس اور مشترکہ مشقوں تک پھیلتا ہے تو بھارت کو ایک نئی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ترک بحری جہاز کل کراچی پہنچیں گے اور بھارتی بحریہ کےخلاف صف آرا ہوجائیں گے۔ اصل تبدیلی اس سے کہیں زیادہ خاموش مگر اہم ہوسکتی ہے۔جدید بحری طاقت کا تعلق صرف جنگی جہازوں کی تعداد سے نہیں۔ رسائی، معلومات، بندرگاہیں، رسد، نگرانی اور اتحادی افواج کے درمیان Interoperability بھی طاقت کا حصہ ہے۔ اگر ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی، پاکستان کا جغرافیہ اور عسکری تجربہ، اور سعودی عرب کی مالی و جغرافیائی اہمیت ایک دوسرے سے مربوط ہوجائیں تو پاکستان کا Strategic operating environment وسیع ہوسکتا ہے۔پاکستان کیلئے سب سے بڑا اثاثہ اس کا جغرافیہ ہے۔ کراچی اور گوادر ایسے سمندری خطے میں واقع ہیں جہاں خلیجِ فارس، بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے اہم راستے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اگر مکہ معاہدہ مستقبل میں Maritime Intelligence، مشترکہ مشقوں، Logistics، Surveillance اور دفاعی ٹیکنالوجی تک پھیلتا ہے تو اس جغرافیے کی اہمیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ترکیہ کی صومالیہ میں موجودگی اور سعودی عرب کی Red Sea security میں دلچسپی کے ساتھ اگر پاکستان کا Arabian Sea footprint کسی مربوط انتظام کا حصہ بن جاتا ہے تو مشرقی بحیرہ عرب سے باب المندب تک ایک نیا Security Continuum تشکیل پا سکتا ہے۔یہ واضح رہے کہ مکہ معاہدہ قومی دفاعی صلاحیت کا متبادل نہیں۔ پاکستان کو اپنی بحری قوت، Maritime surveillance، Air defence، Anti-submarine Warfare اور Long-range Reconnaissance میں سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی۔ اتحادی کی طاقت اسی وقت فائدہ دیتی ہے جب اپنی بنیاد بھی مضبوط ہو۔تینوں ممالک کی طاقت کا حسن بھی یہی ہے کہ ان کی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں۔ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل اور اہم جغرافیہ ہے، ترکیہ دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں آگے ہے، جبکہ پاکستان کے پاس بڑی عسکری قوت، جنگی تجربہ، فضائی طاقت اور ایٹمی صلاحیت ہے۔ اگر یہ مختلف صلاحیتیں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں تو ایک ایسا نیٹ ورک بن سکتا ہے جس کی اہمیت محض تین ممالک کے تعلقات سے کہیں زیادہ ہوگی۔تاہم سعودی عرب اور بھارت کے درمیان توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے گہرے مفادات موجود ہیں۔ نئی دہلی غالباً براہِ راست تصادم کے بجائے اپنی Indian Ocean partnerships، maritime surveillance اور علاقائی موجودگی کو مزید مضبوط کرے گا۔ یوں مقابلہ بندوق سے پہلے رسائی اور شراکت داری کی سطح پر ہوگا۔آخرکار فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ مکہ معاہدہ کاغذ سے نکل کر عملی ادارہ بنتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ سیاسی مشاورت اور باہمی دفاعی یقین دہانی تک محدود رہا تو اس کے اثرات بھی محدود ہوں گے۔ لیکن اگر مشترکہ بحری مشقیں، انٹیلی جنس شیئرنگ، Maritime-domain awareness، Logistics Agreements، دفاعی پیداوار اور مشترکہ Deployment شروع ہوگئے تو بحرِ ہند کی اسٹریٹجک بساط واقعی بدل سکتی ہے۔ مکہ معاہدے کے ایام ہی میں بھارت کے نئے ناظم الامور سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ منصب سنبھالنے کے بعد ان کی پہلی ملاقات مجھ سے ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ہی حقیقی استحکام کا واحد راستہ ہے۔ جب تک ہم سیزفائر سے ا?گے بڑھ کر پائیدار امن کی طرف نہیں جاتے، دونوں ملکوں کے عوام کو کشیدگی کے بداثرات سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔

مکہ معاہدہ: بحرِ ہند میں بدلتی ہوئی بساط

زندہ رہنے کا ثبوت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے