”جنم جنم کی میلی چادر“ فیملی تھیٹر کی واپسی
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
نشو بیگم میری بہت اچھی اور دیرینہ دوست ہیں۔ انہی کے ساتھ گزشتہ دنوں تماثیل تھیٹر میں ”جنم جنم کی میلی چادر“ کی ریہرسل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ریہرسل دیکھتے ہوئے ایک طرف فنکاروں کی محنت، مکالموں کی ادائیگی اور ڈرامے کی تیاری کے مختلف مراحل میرے سامنے تھے تو دوسری طرف مجھے لاہور کے تھیٹر کا وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جب اسٹیج صرف قہقہوں، جگتوں اور رقص کا نام نہیں تھا۔ اسٹیج پر کہانی بھی ہوا کرتی تھی، کردار بھی زندہ محسوس ہوتے تھے، مکالمے بھی دیر تک یاد رہتے تھے اور فنکار اپنی اداکاری کے ذریعے ناظرین کو ہنساتے بھی تھے اور رلاتے بھی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ لوگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ تھیٹر جانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔ والدین بچوں کو ساتھ لے جاتے، میاں بیوی اکٹھے ڈرامہ دیکھتے اور ایک شام فن اور تفریح کے نام کر کے خوشگوار یادوں کے ساتھ گھر واپس آتے تھے۔”جنم جنم کی میلی چادر“ کی ریہرسل کے دوران مجھے سب سے زیادہ جس بات نے متاثر کیا، وہ اسے فیملی ماحول کے مطابق رکھنے کی شعوری کوشش تھی۔ تفریح بھی موجود ہے، مزاح بھی، موسیقی بھی اور رقص بھی، لیکن کوشش یہ نظر آتی ہے کہ کسی مقام پر تفریح کو فحاشی یا غیر ضروری جسمانی نمائش کا محتاج نہ بنایا جائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ریہرسل دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ اگر ہمارے تھیٹر کو واقعی اپنی کھوئی ہوئی فیملی آڈیئنس واپس لانی ہے تو راستہ یہی ہے۔ایک زمانہ تھا جب لاہور کا تھیٹر پورے ملک میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا۔ ہمارے اسٹیج نے بڑے بڑے اداکار، مصنف، ہدایت کار اور کامیڈین پیدا کیے۔ لوگ تھیٹر دیکھنے صرف ہنسنے نہیں جاتے تھے بلکہ ایک مکمل کہانی دیکھنے جاتے تھے۔ کرداروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے مکالموں پر تالیاں بجاتے اور بعض اوقات آنکھوں میں نمی لیے ہال سے باہر نکلتے تھے۔ تھیٹر ہمارے معاشرے کا آئینہ بھی تھا اور تفریح کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی۔پھر وقت کے ساتھ کمرشل ازم بڑھا، مقابلہ شدید ہوا اور ناظرین کو ہال تک کھینچنے کے لیے ایسے حربے اختیار کیے جانے لگے جنہوں نے رفتہ رفتہ اسٹیج کی شناخت بدل دی۔ کہانی پس منظر میں چلی گئی، کردار کمزور ہوتے گئے اداکاری کی جگہ جگت بازی نے لینا شروع کردی اور بعض مقامات پر ذو معنی مکالموں، غیر ضروری حرکات اور غیر شائستہ رقص کو کامیابی کا آسان نسخہ سمجھ لیا گیا۔ اس سب کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وہ فیملیز جو کبھی تھیٹر کی اصل طاقت ہوا کرتی تھیں، اس سے دور ہوتی چلی گئیں۔یہاں تک کہ ہمارے معاشرے میں یہ جملہ عام ہوگیا کہ اب فیملی کے ساتھ تھیٹر کون دیکھ سکتا ہے۔ یہ تاثر ایک دن میں پیدا نہیں ہوا بلکہ برسوں کے تجربے نے اسے جنم دیا۔ جب والدین کو یہ خدشہ ہونے لگے کہ کسی لمحے ایسا مکالمہ یا منظر سامنے آ سکتا ہے جس پر انہیں اپنے بچوں کے سامنے شرمندگی محسوس ہو تو وہ تفریح کا کوئی دوسرا ذریعہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یوں تھیٹر نے اپنے ہاتھوں سے اپنے ناظرین کا ایک بہت بڑا طبقہ کھو دیا۔اسی پس منظر میں ”جنم جنم کی میلی چادر“ کی واپسی میرے نزدیک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ڈرامہ تقریباً پینتیس برس پہلے اسٹیج پر پیش کیا گیا تھا اور اب اسے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تماثیل تھیٹر میں اس کا احیا محض ایک پرانے ڈرامے کو دوبارہ اسٹیج پر لانے کا نام نہیں بلکہ اس سوچ کو واپس لانے کی ایک کوشش بھی ہے کہ کمرشل تھیٹر صاف ستھرا دلچسپ فیملی کے ساتھ دیکھنے کے قابل اور کاروباری اعتبار سے کامیاب بھی ہوسکتا ہے۔اس ڈرامے کے پروڈیوسر بابو ہیں جبکہ ہدایت کاری معروف فنکار نسیم وکی نے سنبھالی ہے۔ نمایاں فنکاروں میں نشو بیگم، دردانہ رحمان، ارباز خان، مناہل، ناصر چنیوٹی،حامد رنگیلا اور نسیم وکی سمیت دوسرے فنکار شامل ہیں جبکہ نئی نسل کے فنکاروں کو بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا گیا ہے۔ سینئر اور جونیئر فنکاروں کا یہ امتزاج بھی خوش آئند ہے، کیونکہ کسی فن کی روایت اسی وقت آگے بڑھتی ہے جب تجربہ نئی نسل تک منتقل ہوتا رہے۔نسیم وکی ایک طویل عرصے سے تھیٹر سے وابستہ ہیں۔ وہ ناظر کی نفسیات اور اسٹیج کی ضرورت دونوں کو سمجھتے ہیں۔ ان جیسے تجربہ کار فنکار جب ہدایت کاری کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے فیملی تھیٹر کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو اس کوشش کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح نشو بیگم اور دردانہ رحمان جیسے تجربہ کار فنکاروں کی موجودگی بھی اس پروڈکشن کو اس پرانے تھیٹر کی روایت سے جوڑتی ہے جس میں اداکاری اور کردار بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ریہرسل دیکھتے ہوئے مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ موسیقی اور رقص کو تھیٹر سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ہماری ثقافت میں موسیقی، رقص، مزاح اور خوشی کے اظہار کی اپنی جگہ موجود ہے۔ اصل مسئلہ رقص نہیں بلکہ اس کی پیشکش ہے۔ ایک خوبصورت، مہذب اور فنکارانہ رقص کسی ڈرامے کی خوبصورتی بڑھا سکتا ہے، لیکن جب اسے محض جسمانی نمائش اور سستی مقبولیت کا ذریعہ بنا دیا جائے تو وہی چیز اعتراض کا سبب بن جاتی ہے۔ ”جنم جنم کی میلی چادر“ میں رقص موجود ہونے کے باوجود اسے شائستگی کے دائرے میں رکھنے کی کوشش یہ پیغام دیتی ہے کہ تفریح اور تہذیب ایک دوسرے کی دشمن نہیں۔ہم برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ اسٹیج ڈرامہ خراب ہوگیا ہے، فیملی کے ساتھ نہیں دیکھا جا سکتا، اچھی کہانیاں ختم ہوگئی ہیں اور معیاری تھیٹر واپس آنا چاہیے۔ ہماری یہ شکایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اب ہمیں اپنے کردار کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ اگر کوئی پروڈیوسر لاکھوں روپے لگا کر صاف ستھرا فیملی ڈرامہ بناتا ہے اور ناظرین اسے دیکھنے ہی نہیں جاتے تو وہ کب تک ایسا تجربہ کرتا رہے گا؟تھیٹر فن ضرور ہے لیکن ایک معاشی سرگرمی بھی ہے۔ پروڈیوسر کو فنکاروں کے معاوضے ادا کرنے ہوتے ہیں، ہال کے اخراجات برداشت کرنا ہوتے ہیں، سیٹ، ملبوسات، لائٹنگ، ساو¿نڈ، تشہیر اور انتظامات پر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس سارے نظام سے بہت سے خاندانوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کار مسلسل خسارہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر صاف ستھرا ڈرامہ خالی کرسیوں کے سامنے کھیلا جائے اور دوسری طرف غیر معیاری یا ولگر ڈرامے کے ٹکٹ فروخت ہوتے رہیں تو اگلی مرتبہ سرمایہ کار بھی وہیں جائے گا جہاں اسے اپنا سرمایہ واپس آتا دکھائی دے گا۔مارکیٹ بڑی حد تک وہی چیز پیدا کرتی ہے جس کی طلب موجود ہوتی ہے۔ تھیٹر بھی اس اصول سے الگ نہیں۔ اگر ولگیریٹی کے ٹکٹ فروخت ہوں گے تو ولگیریٹی کو کاروباری کامیابی سمجھا جائے گا، اور اگر معیاری فیملی تھیٹر کے ہال بھرنے لگیں گے تو پروڈیوسر خود بخود اس طرف آئیں گے۔ اس لیے اچھے تھیٹر کی خواہش کا اظہار صرف گفتگو، تنقید اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے نہیں بلکہ ٹکٹ خرید کر بھی کرنا ہوگا۔ بعض اوقات ایک ٹکٹ خریدنا بھی اپنی ثقافتی پسند کے حق میں ووٹ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔اچھا تھیٹر تماشائی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مصنف بہترین کہانی لکھ سکتا ہے، ہدایت کار پوری مہارت کے ساتھ اسے اسٹیج پر منتقل کرسکتا ہے، فنکار جان دار اداکاری کرسکتے ہیں اور پروڈیوسر خوبصورت سیٹ لگا سکتا ہے، لیکن اگر سامنے کرسیاں خالی ہوں تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ تھیٹر کا اصل حسن ہی فنکار اور ناظر کے درمیان براہِ راست تعلق ہے۔ اداکار مکالمہ بولتا ہے تو سامنے بیٹھا ناظر اسی لمحے ردعمل دیتا ہے۔ کہیں قہقہہ بلند ہوتا ہے، کہیں تالیاں بجتی ہیں اور کہیں مکمل خاموشی کسی جذباتی منظر کی کامیابی کی گواہی دیتی ہے۔ یہ تعلق ٹیلی ویڑن، یوٹیوب اور موبائل فون کی اسکرین کبھی مکمل طور پر پیدا نہیں کرسکتے۔پاکستان میں ویسے بھی پورے خاندان کے لیے صحت مند تفریح کے مواقع محدود ہیں۔ تھیٹر اس خلا کو بڑی خوبصورتی سے پ±ر کرسکتا ہے، لیکن اس کے لیے تھیٹر والوں کو بھی فیملی آڈیئنس کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ اعتماد ایک رات میں واپس نہیں آئے گا۔ برسوں سے تھیٹر سے دور رہنے والے خاندانوں کو مسلسل اچھی پروڈکشنز دے کر یقین دلانا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں اور بزرگوں کے ساتھ ہال میں بیٹھ سکتے ہیں۔اگر ”جنم جنم کی میلی چادر“ اس سلسلے کی ابتدا ہے تو اسے صرف ایک ڈرامے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی فیملی پروڈکشن بھی آنی چاہیے۔ اچھے مصنفوں کو واپس لایا جائے، کہانی کو دوبارہ مرکز بنایا جائے، اداکار کو جگت کے بجائے کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے اور نوجوان فنکاروں کو سینئرز سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اسی تسلسل سے فیملیز کا اعتماد واپس آئے گا۔دوسری طرف تمام ذمہ داری ناظرین پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ پروڈیوسر، ہدایت کار اور فنکاروں پر شاید اس سے بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر فیملیز دوبارہ تھیٹر کا رخ کرتی ہیں تو ان کے اعتماد کی حفاظت کرنا ہوگی۔ ایک غیر مناسب مکالمہ، ایک ذو معنی جگت یا ایک غیر ضروری حرکت کئی ماہ کی محنت سے پیدا ہونے والا اعتماد لمحوں میں ختم کرسکتی ہے۔ اگر فیملی تھیٹر کا نام استعمال کیا جائے تو پھر اس نام کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔میرے نزدیک ”جنم جنم کی میلی چادر“ محض ایک تھیٹر پروڈکشن نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ یہ جانچنے کا موقع کہ لاہور کا ناظر واقعی فیملی تھیٹر واپس چاہتا ہے یا صرف اس کی کمی کی شکایت کرتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کا موقع کہ صاف ستھرا ڈرامہ بھی کاروباری اعتبار سے کامیاب ہوسکتا ہے اور یہ سوچنے کا موقع بھی کہ ہم آنے والی نسل کو کس قسم کا تھیٹر دینا چاہتے ہیں۔پروڈیوسر بابو نے سرمایہ لگایا، نسیم وکی نے ہدایت کاری کی ذمہ داری اٹھائی، سینئر اور نوجوان فنکار اسٹیج پر آگئے اور تماثیل تھیٹر میں ایک فیملی پروڈکشن پیش کرنے کی کوشش شروع ہوگئی۔ بنانے والوں نے اپنی طرف سے قدم اٹھا دیا ہے۔ اب اگلا قدم ناظرین کا ہے۔جو لوگ برسوں سے یہ شکایت کرتے آئے ہیں کہ فیملی تھیٹر ختم ہوگیا ہے، انہیں اب ایسے تجربات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ فیملیز تھیٹر جائیں، ڈرامہ دیکھیں، اچھا کام ہو تو کھل کر اس کی تعریف کریں اور دوسروں کو بھی دیکھنے کی ترغیب دیں۔ جہاں کوئی خامی محسوس ہو وہاں مہذب اور تعمیری تنقید ضرور کی جائے، کیونکہ حمایت کا مطلب آنکھیں بند کرکے ہر چیز کو قبول کرنا نہیں۔ اصل مقصد اچھے کام کی حوصلہ افزائی اور کمزوری کی اصلاح ہونا چاہیے۔تھیٹر صرف فنکار نہیں بناتے، ناظرین بھی بناتے ہیں۔ اسٹیج پر کل کیا پیش ہوگا، اس کا فیصلہ کسی حد تک آج خریدے جانے والے ٹکٹ بھی کرتے ہیں۔ اگر ہم ولگیریٹی کے ٹکٹ خریدیں گے تو ولگیریٹی بکے گی اور اگر ہم معیاری فن کے ٹکٹ خریدیں گے تو معیاری فن بڑھے گا۔”جنم جنم کی میلی چادر“ نے ماضی کی ایک یاد کو حال کے اسٹیج پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس یاد کو محض ماضی کا قصہ رہنے دیتے ہیں یا اسے مستقبل کے تھیٹر کی بنیاد بناتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ لاہور کے تھیٹر میں وہ وقت پھر واپس آئے جب باہر گاڑیوں سے پورے خاندان اتریں، والدین بچوں کا ہاتھ پکڑ کر ہال میں داخل ہوں، پردہ اٹھے، ایک اچھی کہانی شروع ہو، قہقہے بھی سنائی دیں، کسی منظر پر آنکھ بھی نم ہو اور ڈرامہ ختم ہونے پر ناظر یہ محسوس کرے کہ اس نے اپنی شام محض گزاری نہیں بلکہ ایک اچھا فن دیکھا ہے۔اگر ”جنم جنم کی میلی چادر“ اور اس جیسے دوسرے ڈرامے اس سفر کی ابتدا بن سکتے ہیں تو ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ کیونکہ فیملی تھیٹر کی واپسی صرف پروڈیوسر، ڈائریکٹر یا فنکار کے ہاتھ میں نہیں، اس کا ایک ٹکٹ ہمارے ہاتھ میں بھی ہے۔اور شاید لاہور کے تھیٹر کو آج اسی ایک فیصلے کی ضرورت ہے کہ ہم کس قسم کا اسٹیج دیکھنا چاہتے ہیں۔تفریح کے لیے فحاشی ضروری نہیں، فن کافی ہے۔






