قوانین موجود ، عمل ندارد
تحریر۔۔۔صفدر علی خاں
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں قوانین کی کمی نہیں۔ ٹریفک سے لے کر تعلیم، صحت، تجارت، ماحولیات، بلدیات، حتیٰ کہ روزمرہ سماجی رویّوں تک بلکہ ہر شعبے کے لیے قانون موجود ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس قانون نہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی شعور سے محروم دکھائی دیتا ہے۔اگر محض ٹریفک قوانین پر ہی نظر ڈال لی جائے تو صورتحال کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہیلمٹ پہننا، سگنل کی پابندی، اوور اسپیڈنگ سے گریز۔۔۔یہ سب قوانین کتابوں میں تو موجود ہیں مگر سڑکوں پر ان کا وجود شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں مگر نہ قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی معاشرتی ضمیر جاگتا ہے۔یہی صورتحال دیگر شعبوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں حاضری کے قواعد موجود ہیں مگر عملدرآمد کمزور ہے۔ تعلیمی اداروں میں ضابطۂ اخلاق لکھا ہوا ہے مگر طلبہ اور اساتذہ دونوں اس سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ بازاروں میں ناپ تول کے قوانین ہیں مگر گاہک آج بھی لُٹ رہا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں مگر آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسی صورتحال کا اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ جائزہ لیں تو ایک واضح فرق سامنے آتا ہے۔وہاں قانون صرف عام شہری کے لیے نہیں ہوتا بلکہ حاکم طبقہ بھی اسی قانون کے تابع ہے۔ترقی یافتہ ریاستوں میں وزرا،جج،جرنیل اور سربراہان حکومت بھی ٹریفک سگنل پر رک کر لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں۔کوئی وی آئی پی کلچر نہیں،کوئی سائرن اور پروٹوکول کے نام پر قانون شکنی نہیں۔یہی مساوی اطلاق قانون کی اصل روح ہے لہذا اصل سوال یہی ہے کہ اگر ان قوانین پر واقعی عملدرآمد شروع ہو جائے تو ہمارا معاشرہ کس حد تک بہتر ہو سکتا ہے؟
سب سے پہلا فائدہ نظم و ضبط کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جب شہری یہ جان لیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی پر سزا یقینی ہے تو خودبخود رویّوں میں بہتری آتی ہے۔ قومیں اخلاقی خطبوں سے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی سے مہذب بنتی ہیں۔دوسرا بڑا فائدہ اعتماد کی بحالی ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ریاست قانون پر خود بھی عمل کر رہی ہے اور دوسروں سے بھی کرواتی ہے تو ریاستی اداروں پر اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی اعتماد معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔تیسرا فائدہ معاشی بہتری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اگر ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل ہو، کرپشن کے خلاف قوانین واقعی نافذ ہوں اور سرکاری وسائل کا ضیاع روکا جائے تو قومی خزانے پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اسی اصول پر آگے بڑھے ہیں۔چوتھا اور شاید سب سے اہم فائدہ سماجی انصاف ہے۔ جب قانون طاقتور اور کمزور میں فرق نہ کرے تو معاشرے میں احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔ یہی احساسِ انصاف جرائم کی شرح کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں مسئلہ صرف قانون پر عملدرآمد کا نہیں بلکہ منتخب اطلاق کا بھی ہے۔ طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے سخت ۔۔۔ یہ رویّہ پورے نظام کو کھوکھلا کر چکا ہے۔ جب تک قانون بلا تفریق لاگو نہیں ہوگا، اس کے ثمرات بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قانون کو محض کاغذی دستاویز نہ سمجھیں بلکہ اسے اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ ریاست کو چاہیے کہ اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرے، جبکہ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون کی پابندی کسی احسان کا نام نہیں بلکہ شہری ذمہ داری ہے۔اگر پاکستان میں موجود قوانین پر آدھا بھی دیانت داری سے عملدرآمد ہو جائے تو یہی ملک نظم و ضبط، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے لیکن سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم واقعی قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں یا محض اس کے نعرے۔۔۔؟






