مادر بزرگ من
تحریر: نبیلہ عادل
ڈاکٹر فضلیت بانو ایک نہایت قابل معلمہ ایک شفیق ماں اور اعلیٰ پاے کی ادیبہ ہیں اللہ پاک کی ذات ان کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔ ڈاکٹر صاحبہ سے میری شناسائی کا دورانیہ تقریباً نوبرس کا ہے میری ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں محکمہ تعلیم میں بطور ایس ایس ٹی معلمہ منتخب ہوئی اور ہماری ٹریننگ ضلع اوکاڑا میں منعقد کی گئی۔ ڈاکٹر فضلیت بانو اس سیشن میں بطورایم ٹی اواپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ سیشن کے پہلے روز جب وہ کمرہ جماعت میں داخل ہوئیں تو انہوں نے سیاہ رنگ کی عبایا اور ہلکے نیلگوں رنگ کا اسکارف زیب تن کر رکھا تھا۔ بلند قدو قامت اور بارعب و باوقار شخصیت کی مالکہ جن کی آمد سے ہی موجود تمام افراد پر ایک سحر کی سی کیفیت چھا گئی۔انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے کیا ان کی آواز بڑی بارعب اور خوش کن تھی جو دل و دماغ کو مسرور کر رہی تھی۔ الفاظ کا زبردست چناواور خوبصورت انداز بیان کہ دل سے نکلی بات سیدھے دل پر اثر کرے کے مصداق تھی۔ یہی وجہ تھی کہ تمام لوگ بڑے انہماک سے ان کی گفتگو سن رہے تھے۔ان کی خوبصورت گفتگو، ان کی قدو قامت اور علمی بصیرت کو چار چاند لگارہی تھی۔اس سیشن میں میرے سمیت تیس کے لگ بھگ نومنتخب اساتذہ کرام موجود تھے جو محترمہ کی سحرانگیز شخصیت سے مرعوب ہورہے تھے۔یہ سیشن میرے لیے بڑا ہی بابرکت ثابت ہوا کہ مجھے ڈاکٹر فضلیت بانو جیسی نابغہ روزگار ہستی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔میرا تعلق ایک ایسے پسماندہ علاقے سے ہے کہ جہاں خواتین کی تعلیم ایک دیوانے کا خواب تصور کی جاتی ہے مگر میں خواتین میں سب سے زیادہ خوش قسمت ہوں جس نے ایم اے اردو اور بی ایڈ کی تعلیم مکمل کی اور بطور سرکاری معلمہ ایس ایس ٹی اردو منتخب ہوئی۔محکمہ تعلیم میں قدم رکھنے کے بعد میں نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا مگر محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد میرے دل و دماغ میں جو ہمت و حوصلہ پیدا ہوا اس نے مجھے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے تقویت بخشی اور میں نے ایم فل اردو کے لیے منہاج یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لے لیا تو ایک بار پھرمیری قسمت چمک اٹھی کہ وہاں بھی ڈاکٹر فضلیت بانو کا سایہ نصیب ہوگیا۔اس یونیورسٹی میں ڈاکٹر صاحبہ بطور صدر شعبہ اردو اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔جہاں تک میری ان سے شناسائی کا تعلق ہے میں اس بات کی عینی شاہد ہوں کہ ڈاکٹر فضلیت بانو بطور معلمہ بڑی نفیس مزاج کی مالکہ اورآہنی عزم رکھنے والی بہترین راہ نما ہیں۔انہوں نے جن مشکل اور کٹھن حالات کا سامنا کرتے ہوے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا یہ کسی کم ہمت اور کم حوصلگی کی حامل خاتون کے بس کی بات نہیں لیکن ڈاکٹر فضلیت بانو نے اپنے ان کٹھن حالات کا بڑی جوانمردی اور دیدہ دلیری سے سامنا کرکے اپنی منزل کو پالیا۔انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کے ساتھ ساتھ شعبہ تعلیم و تدریس سے بھی منسلک رہیں اور اپنے خاندان کو بھی بہ طریق احسن سنبھالا۔یہ ان کی شب وروز کی جدو جہد اور پختہ عزم کا نتیجہ ہے کہ آج ان کی اولاد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور کامیاب زندگی بسر کررہی ہے۔ان کی کامیابیوں کا سہرہ بھی بلا شبہ محترمہ ڈاکٹر صاحبہ کے سر ہی جاتا ہے جنہوں نے قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی پرورش میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے اس تربیتی پروگرام میں جتنی بھی راہ نمائی ملی اس کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچی کہ انسان میں اگر عزم و ہمت ہو تو اس کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ان کے عزم و ہمت اور بلند حوصلگی سے مجھے ایک ایسی تقویت نصیب ہوئی جس کو میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی لہٰذاا میں نے بھی اپنا نصب العین ایک معلمہ بننا ہی مقرر کیا اور مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کنے کا فیصلہ کیا۔ میرے دل میں ایک خلش جو حسرت بن کر پنپتی رہی کہ کاش میں اس ذی وقار شخصیت سے علم کا فیض حاصل کر سکوں لیکن کہاں میں اور کہاں وہ اعلیٰ مرتب استاد کامل لیکن یہ دعا ہمیشہ میرا معمول رہی کہ ان سے کوئی براہ راست نسبت حاصل ہو جائے۔خیر دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے سو میں نے ایم فل بھی اپنے دل سے دعاوں کا سلسلہ منقطع نہیں کیا اور بالآخر ایک دن میری دعائیں رنگ لے آئیں اورمجھے منہاج یونیورسٹی لاہورسے ایم فل اردوکرنیکا موقع ملا تو میری خوشی کی انتہا اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی جب مجھے معلوم ہوا کہ صدر شعبہ اردو کی مسند پر ڈاکٹر فضیلت بانو براجمان ہیں۔جس پر میں اللہ کریم کی حکمت پر انگشت بدنداں رہ گئی کہ ا س نے میری ہر وہ دعا قبول فرمائی جو میں نے اپنے دل میں مانگی تھیں۔اس طرح ان سے اس یونیورسٹی میں براہ راست اکتساب فیض کا موقع ملا جو میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ یقیناً وہ جس مقام و مرتبہ کی معلمہ ہیں ان کا بات کرنے کا انداز اسی قدر بھر پورومو¿ثر اور جامع ہے۔علم و ادب کے حو الے سے اگر کوئی مشکلات درپیش ہوں تو میں صرف اور صرف ان سے راہ نمائی لینے کی کوشش کرتی جن کا وہ تسلی بخش جواب مستند دلائل کے ساتھ بیان فرماتیں جو ان کی علمی فہم و بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شخصیت اتنی بارعب اور سحر انگیز کے ان کی بزم سے رخصت ہونے کو جی نہیں چاہتا۔ حلقہ ادب میں اس قدر معروف و مقبول ہونے کے باوجود اس قدر سادگی کہ پہلی نظر دیکھنے والے کو احساس ہی نہ ہو کہ وہ کسی قدر بڑی شخصیت کے سامنے کھڑا ہے۔ان کا خمیر جیسے قدرت نے محبت اور خلوص سے گوندھا ہے۔ اپنے شاگردوں کی راہ نمائی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ اساتذہ بلاشہ والدین ہوتے ہیں اس کا






