اے دل ناداں
تحریر: خالد غورغشتی
محبت ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ تو عین عبادت ہے، حُسنِ بشریت کا وہ وصف ہے، جو نازک دل کو پھول کی پتی کی مانند لطیف بنا دیتا ہے۔ یہ ایسا آئینہ ہے، جس میں محبوب کی ہر ادا خوبیوں سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔ آج انسانیت الفتوں کے لیے ترستی، اپنائیت کے واسطے مچلتی اور قربتوں کی طلب میں لرز رہی ہے، مگر افسوس ہم نے نفرتوں کے ایسے جال بچھا دیے ہیں کہ چاہ کر بھی ایک دوسرے کی قربت سمیٹ نہیں پاتے۔
آج سلام بعد میں کیا جاتا ہے، پہلے منصب، دولت اور شہرت دیکھی جاتی ہے۔ انسانیت کہیں چہرہ تکتی رہ گئی اور ہم ایک دوسرے کو وعظ و نصیحت کرتے رہ گئے۔ ہم دِکھتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ زبان پر مِٹھاس، دل میں زہر لیے، ایک دوسرے کو ڈستے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے دل سیاہی کا منظر پیش کرتے ہیں اور ہم لبوں پر ہمدردی کا میک اپ سجائے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سب کچھ دوسروں کے لیے کر رہے ہیں، حالاں کہ آج کل بغیر مطلب دعا سلام بھی کم ہی رہ گئی ہے۔
کوئی ایک پل بھی ایسا نہیں جہاں ہم بغیر مفاد کے ہمدردی کریں۔ ہماری منزل اور چاہت صرف دولت بن چکی ہے۔ چار بندوں کے درمیان ایک کو مخاطب کر کے باقی تین کو نظر انداز کرنا، ہم اپنی فتح سمجھتے ہیں۔ کوئی بیمار ہو، لاچار ہو یا حادثے کا شکار ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ہمدردی سے اکاؤنٹ بھر جاتے ہیں۔ کسی حادثے، انوکھے واقعے یا انتقال کی خبر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہے۔ کمنٹس پڑھ کر یُوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سے بڑا ہمدرد کوئی اور نہیں، لیکن اگر کسی کے پاس جانا پڑ جائے یا جیب سے خرچ کرنا پڑے تو ہماری حالت غیر ہو جاتی ہے۔
جب تک ہم چِیخ چِیخ کر ہمدردی نہ جتلائیں، ہمیں اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج خیراتی ادارے ہر گلی اور محلے میں کُھل چکے ہیں۔ ان کے مالکان دنوں نہیں، گھنٹوں میں امیر کبیر ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے ہماری وہ سوچ کارفرما ہے، جس کے مطابق اگر چپ چاپ، کسی کو بتائے بغیر، حق دار تک حق پہنچا دیا جائے تو ہمارا نام کون لے گا؟ ہمیں سیٹھ، خان، ملک، چوہدری یا حاجی صاحب کون کہے گا؟ حالاں کہ یہی ادارے کروڑوں پاؤنڈ اور ڈالر وصول کر کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سوا ہمیں کیا منفعت دیتے ہیں؟
یہ ادارے زیادہ سے زیادہ نیکی یہی کرتے ہیں کہ روزانہ مرنے والوں کی پوسٹیں لگا کر خود کو نمایاں کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم مُردوں سے کفن اتار کر کھانے والے بن چکے ہیں۔ ایمبولینس سے لے کر میت کی نمائش تک، ہر خدمت خلق کو کاروبار بنا لیا گیا ہے۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ اللہ کے احکامات کے خلاف حقیقی حق داروں تک پہنچنے سے قبل ہی ہڑپ کر لی جاتی ہے، جب کہ رشتے دار اور پڑوسی محتاجی کی حالت میں دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
اگر کوئی ان حقائق کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرے اور کہے کہ خیراتی اداروں کے بجائے اپنے رشتے داروں اور محلے داروں کا خیال رکھیے تو فوراً جواب آتا ہے: اتنا بڑا ادارہ ہے، آپ کو کیا علم یہ کتنا بڑا کام کر رہا ہے؟ مگر جب ذرا تفصیل پوچھی جائے تو کوئی ٹھوس دلیل یا شفاف حساب سامنے نہیں آتا۔
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال و دولت سے نوازا ہے تو ہمیں اپنے ماضی پر ضرور نظر ڈالنی چاہیے۔ ایک وقت تھا جب ہم خود مجبور، محتاج اور بے بس تھے۔ آج اگر ہم اس مقام پر ہیں تو ہمارے اردگرد بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں، جو ایک سہارے، ایک موقع اور ایک ہاتھ کی تلاش میں ہیں۔ اگر ہم کسی ایک فرد کا کاروبار سنوار دیں، کسی ایک گھر کا چولہا مستقل جلا دیں تو یہی حقیقی صدقہ، یہی اصل محبت اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔
آئیے، رشتے داروں کو مضبوط کیجیے، پڑوسیوں کا ہاتھ تھامیے اور دکھاوے کی نیکی کے بجائے خاموش خدمت کو اپنا شعار بنائیے۔ محبت کا یہی تقاضا ہے، انسانیت کی یہی پہچان اور دین کی یہی اصل روح ہے۔ ورنہ اے دل ناداں ہم شور تو بہت کریں گے، مگر سکون ہمیشہ ہم سے دور ہی رہے گا۔






