جدید تعلیم کا مرکز ڈی پی ایس راجن پور
تحریر پیر مشتاق رضوی
راجن پور کی بنجر زمینوں میں علم و ہنر کا ایک ایسا گلستاں مہک رہا ہے جس کی خوشبو نے نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملک کے تعلیمی ایوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پبلک سکول راجن پور آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہ کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن اس معجزے کے پیچھے کوئی جادو نہیں بلکہ پرنسپل نوید انجم کی انتھک محنت، بلند وژن اور تعلیمی انقلاب لانے کا وہ سچا جذبہ ہے جس نے اس ادارے کی تقدیر بدل کر رکھ دی ہے۔ تعلیمی سال 2024-25ء کی کارکردگی رپورٹ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قیادت مخلص ہو اور ارادے ہمالیہ سے بلند ہوں، تو وسائل کی کمی کبھی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اس مختصر عرصے میں ادارے نے وہ سنگِ میل عبور کیے ہیں جو دہائیوں پر محیط سفر میں بھی ناممکن دکھائی دیتے تھے۔
تعلیمی معیار میں آنے والی تبدیلی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے، جہاں کامیابی کا تناسب 60 فیصد کی پست سطح سے اٹھ کر 96 فیصد کی بلندیوں کو چھونے لگا ہے۔ یہ کامیابی اس وقت مزید مستند ہو جاتی ہے جب ڈی پی ایس راجن پور کے طلبہ قومی سطح کے مقابلوں میں اپنی دھاک بٹھاتے ہیں۔ کینگرو میتھمیٹکس، آئی کیٹس (ICATS) اور کوئز پور جیسے معتبر قومی پلیٹ فارمز پر ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہاں کے بچے اب صرف نصابی کتابوں کے اسیر نہیں بلکہ عالمی معیار کی ذہنی صلاحیتوں سے لیس ہو چکے ہیں۔ اس تعلیمی سفر کا سب سے درخشاں پہلو او-لیول (O-Levels) کا باقاعدہ الحاق اور کلاسز کا اجراء ہے، جس نے پسماندہ سمجھے جانے والے اس ضلع کے بچوں کے لیے بین الاقوامی تعلیم کے دروازے ان کی دہلیز پر کھول دیے ہیں۔
ادارے کی عمارت اور ماحول اب کسی جدید بین الاقوامی کیمپس کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایکٹیویٹی رومز سے لے کر ای-لائبریری تک اور اسپورٹس ایرینا سے لے کر جدید تدریسی نظام تک، ہر گوشہ پرنسپل نوید انجم کی جدت پسندی کی کہانی سناتا ہے۔ یہاں صرف پڑھایا نہیں جاتا بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی کے لیے ہاؤس سسٹم اور مختلف سوسائٹیز کے ذریعے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔ اے آئی پی ایس (AIPs) اور فارمیٹو اسیسمنٹ جیسے جدید تعلیمی ماڈلز کی شمولیت نے تدریس کے روایتی اور اکتا دینے والے طریقوں کو تخلیقی اور دلچسپ بنا دیا ہے، جس سے طلبہ میں سیکھنے کا ایک نیا ولولہ پیدا ہوا ہے۔
ڈی پی ایس راجن پور اب صرف ایک سکول نہیں رہا بلکہ یہ ضلع کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ پرنسپل نوید انجم کی زیرِ سرکردگی منعقد ہونے والی بین الاقوامی ثقافتی کانفرنس اور علمی و ادبی مشاعروں نے راجن پور کے چہرے سے گرد صاف کر کے اسے ایک روشن خیال معاشرے کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ "عورت بااختیار کانفرنس” اور صوفی روایات کے امین خواجہ غلام فریدؒ کی یاد میں منعقدہ تقاریب نے نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقبل کی ضرورتوں کو بھانپتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کیریئر کونسلنگ کا آغاز کرنا ان کے دور اندیش ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ آج راجن پور کا ہر شہری اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو نہ صرف ان کے بچوں کا مستقبل سنوار رہا ہے بلکہ ضلع کی پہچان کو وقار اور عزت عطا کر رہا ہے۔ یہ کامیابیوں کا وہ سفر ہے جس نے ڈی پی ایس راجن پور کو جنوبی پنجاب کا ایک ایسا ماڈل بنا دیا ہے جس کی مثالیں اب دور دور تک دی جائیں گی۔ ان شاء اللہ !






