تحریکِ استحقاق یا قانون کی بالادستی؟ فیصل آباد کا معاملہ، اداروں کا امتحان
محمد ندیم بھٹی
ریاستی اداروں کی مضبوطی کا اصل پیمانہ کسی عہدے، اختیار یا شخصیت کی طاقت نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ھے۔ منتخب نمائندہ ھو، پولیس افسر ھو یا عام شہری، سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔ فیصل آباد کے آر پی او سہیل سکھیرا کے خلاف پیش کی گئی تحریکِ استحقاق نے اسی بنیادی اصول کو ایک بار پھر اہم بحث بنا دیا ھے کہ اداروں کے درمیان اختلافات کو کس طرح قانون، آئین اور قواعد کے دائرے میں رہتے ھوئے حل کیا جانا چاہیے۔دستیاب معلومات کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ نے جھنگ کے ایک قتل کیس کے سلسلے میں ویڈیو کے حصول اور آر پی او سے رابطے کے دوران مبینہ رویے کو بنیاد بناتے ھوئے تحریکِ استحقاق پیش کی۔ دوسری جانب آر پی او سہیل سکھیرا نے کمیٹی کے سامنے اپنا مو¿قف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے مطابق جواب دہ ہیں، رکن اسمبلی کی دل آزاری کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور مطلوبہ ویڈیو ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ ان کا مو¿قف یہ بھی تھا کہ زیرِ تفتیش مقدمے کی تفتیش کو کسی دباو¿ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔یہاں اصل سوال کسی ایک شخصیت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ یہ ھے کہ کیا واقعی پارلیمانی استحقاق متاثر ھوا، یا ایک انتظامی اور تفتیشی اختلاف کو تحریکِ استحقاق کا معاملہ بنا دیا گیا؟پارلیمانی استحقاق کوئی معمولی شکایت نہیں بلکہ منتخب ایوان کا باقاعدہ قانونی اختیار ھے۔ اس کا مقصد ارکانِ اسمبلی کو اپنے پارلیمانی اور عوامی فرائض آزادانہ طور پر ادا کرنے کے لیے ضروری تحفظ فراہم کرنا ھے۔ اگر کسی رکن کو اس کے فرائض کی انجام دھی سے روکا جائے، دھمکایا جائے یا اس کے پارلیمانی اختیار میں غیر قانونی مداخلت کی جائے تو معاملہ یقیناً سنجیدہ نوعیت اختیار کرسکتا ھے۔لیکن ہر اختلاف کو استحقاق کی خلاف ورزی قرار دینا بھی درست نہیں۔ کسی سرکاری افسر سے اختلاف، کسی ریکارڈ کے حصول میں تاخیر، کسی انتظامی فیصلے سے ناراضی یا کسی ملاقات میں پیدا ہونے والی تلخی خود بخود تحریکِ استحقاق نہیں بن جاتی۔ اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ھے کہ کیا واقعی رکنِ اسمبلی کے پارلیمانی فرائض یا اسمبلی سے وابستہ کسی قانونی استحقاق میں مداخلت ھوئی۔دوسری طرف منتخب نمائندے کی عزت اور تکریم بھی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ھے۔ اگر کوئی رکن اسمبلی کسی شہری کی شکایت، قتل کیس یا عوامی مسئلے کے سلسلے میں پولیس افسر سے رابطہ کرتا ھے تو اسے مناسب، شائستہ اور ادارہ جاتی جواب ملنا چاہیے۔ پولیس افسر ریاستی اختیار کا نمائندہ ضرور ھے، لیکن وہ قانون سے بالاتر نہیں۔ اسی طرح منتخب نمائندہ بھی قانون سے بالاتر نہیں۔یہی اصول آر پی او فیصل آباد سہیل سکھیرا کے کردار کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ھے۔ ایک سینئر پولیس افسر کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری قانون کے نفاذ، امن و امان کے قیام اور میرٹ پر تفتیش کو یقینی بنانا ھے۔ سہیل سکھیرا کے بارے میں ان کے پیشہ ورانہ انداز، قانون پسندی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو اہم قرار دیا جاتا ھے۔ ایسے افسر کے لیے حساس مقدمات میں شواہد اور قانونی طریقہ کار کو ترجیح دینا پولیس کے پیشہ ورانہ کردار کا لازمی تقاضا ھے۔خاص طور پر قتل جیسے سنگین مقدمات میں پولیس افسر کی اولین ذمہ داری شواہد کا تحفظ، غیر جانب دارانہ تفتیش اور قانون کے مطابق کارروائی ھے۔ اگر کوئی افسر کسی تفتیشی مواد کو صرف اس لیے فراہم نہیں کرتا کہ وہ قانونی طور پر ایسا کرنے کا مجاز نہیں، تو اس عمل کو محض عدم تعاون قرار دینا مناسب نہیں۔ تاہم اگر کسی شہری یا منتخب نمائندے کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا جائے تو اس پہلو کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ھے۔سہیل سکھیرا کی ایک قابلِ ذکر پیشہ ورانہ خوبی یہ بھی ھے کہ انہوں نے اپنے مو¿قف کو قانون اور ضابطے کے دائرے میں پیش کرنے کو ترجیح دی۔ پولیس کے اعلیٰ عہدے پر موجود افسر کی اصل طاقت صرف اس کا عہدہ نہیں بلکہ اس کی پیشہ ورانہ ساکھ، ریکارڈ اور قانون پر اعتماد ھوتا ھے۔ اگر کوئی افسر حساس تفتیش میں دباو¿ قبول کرنے کے بجائے قانونی طریقہ کار پر قائم رہتا ھے تو ایسے رویے کو ادارہ جاتی استحکام کے لیے مثبت سمجھا جانا چاہیے۔ تاہم اچھی شہرت کسی افسر کو احتساب سے بالاتر نہیں کرتی۔ اگر کوئی شکایت سامنے آئے تو اس کی شفاف تحقیقات ھونی چاہئیں۔ قانون پسند افسر کے لیے بھی سب سے مضبوط دفاع یہی ھوتا ھے کہ وہ مکمل ریکارڈ، شواہد اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے اپنا مو¿قف ثابت کرے۔اصل سوال یہ بھی ھے کہ کیا تحریکِ استحقاق کسی پولیس افسر کو دباو¿ میں لانے کا ذریعہ بن سکتی ھے؟ اس کا جواب واضح طور پر نفی میں ھونا چاہیے۔اگر کسی قتل کیس کی تفتیش جاری ھے تو شواہد، بیانات، ویڈیوز اور دیگر تفتیشی مواد کو قانون کے مطابق محفوظ رکھنا پولیس کی ذمہ داری ھے۔ کسی سیاسی یا انتظامی دباو¿ کے تحت تفتیش کا رخ تبدیل کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ھوگا۔ پولیس کی تفتیشی خودمختاری کا مطلب پولیس کو بے لگام اختیار دینا نہیں بلکہ اسے میرٹ اور قانون کے مطابق کام کرنے کی ضروری آزادی دینا ھے۔اسی طرح منتخب نمائندوں کا کردار بھی انتہائی اہم ھے۔ عوامی نمائندے شہریوں کے مسائل اسمبلی اور انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں۔ پولیس سے رابطہ بھی ان کی عوامی ذمہ داری کا حصہ ہوسکتا ھے، لیکن کسی زیرِ تفتیش مقدمے میں سفارش، دباو¿ یا کسی خاص نتیجے کے حصول کو پارلیمانی استحقاق کا لازمی حصہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ فرق واضح رہنا چاہیے کہ عوامی نمائندگی اور تفتیشی مداخلت دو مختلف معاملات ہیں۔اب یہ سوال بھی پیدا ھوتا ھے کہ کیا موجودہ تحریکِ استحقاق ذاتی عناد یا آر پی او فیصل آباد کو ”لیٹ ڈاو¿ن“ کرنے کے لیے پیش کی گئی؟ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس بارے میں حتمی فیصلہ دینا مناسب نہیں۔ کسی تحریک کو بدنیتی پر مبنی قرار دینے کے لیے واضح شواہد درکار ہوتے ہیں۔ صرف یہ حقیقت کہ ایک رکن اسمبلی نے پولیس افسر کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کی، بدنیتی ثابت نہیں کرتی۔اسی طرح صرف آر پی او کا اپنا مو¿قف پیش کرنا بھی اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ رکن اسمبلی کا اعتراض غلط تھا۔ اصل حقیقت مکمل ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ کارروائی سے سامنے آئے گی۔استحقاق کمیٹی کو چاہیے کہ وہ جذباتی فضا سے نکل کر شواہد کا جائزہ لے۔ آئی جی پنجاب کی مبینہ ہدایت کا ریکارڈ دیکھا جائے، مطلوبہ ویڈیو کی دستیابی یا عدم دستیابی کی تصدیق کی جائے، ملاقات میں موجود افراد کے بیانات لیے جائیں اور یہ طے کیا جائے کہ مبینہ گفتگو کس تناظر میں ہوئی۔ سب سے اہم بات یہ معلوم کی جائے کہ آیا اس واقعے سے واقعی رکن اسمبلی کے پارلیمانی فرائض متاثر ہوئے یا معاملہ ایک انتظامی اختلاف تک محدود تھا۔اگر خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون اور پارلیمانی قواعد کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر خلاف ورزی ثابت نہ ھو تو تحریک کو ادارہ جاتی دباو¿ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ یہی غیر جانب دارانہ انصاف ھے۔درحقیقت پارلیمانی استحقاق اور پولیس کی تفتیشی۔۔۔۔خودمختاری ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ اسمبلی قانون سازی کرتی ھے، حکومت انتظامی نظام چلاتی ھے، پولیس قانون نافذ کرتی ھے اور عدالتیں انصاف فراہم کرتی ہیں۔ ہر ادارہ اپنی آئینی اور قانونی حدود میں رھے تو ریاست مضبوط ھوتی ھے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ھوتا ھے جب کوئی ادارہ دوسرے کے اختیار میں غیر ضروری مداخلت شروع کردے۔ پاکستان میں ادارہ جاتی کشمکش کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو پہنچتا ھے۔ سیاسی اور انتظامی محاذ آرائی کے نتیجے میں پولیس کی توجہ اصل جرائم سے ہٹتی ھے، افسران دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہیں اور عوام کے اندر یہ تاثر پیدا ھوتا ھے کہ انصاف قانون سے نہیں بلکہ تعلق، سفارش اور طاقت سے ملتا ھے۔ یہ تاثر ریاست کے لیے انتہائی خطرناک ھے۔فیصل آباد کا موجودہ معاملہ اسی لیے ایک بڑی اصلاحی مثال بن سکتا ھے۔ اگر اسے ذاتی جنگ بنا دیا گیا تو چند افراد جیت یا ہار سکتے ہیں، لیکن ادارے کمزور ھوں گے۔ اگر اسے قانون اور قواعد کے مطابق حل کیا گیا تو اسمبلی کا وقار بھی بڑھے گا اور پولیس کی پیشہ ورانہ ساکھ بھی مضبوط ھوگی۔یہ وقت ”کون طاقتور ھے؟“ پوچھنے کا نہیں بلکہ ”قانون کیا کہتا ھے؟“ پوچھنے کا ھے۔منتخب نمائندے کو یہ سمجھنا ھوگا کہ اس کا اصل اختیار عوام کی نمائندگی ھے، جبکہ پولیس افسر کا اصل اختیار قانون کا نفاذ ھے۔ دونوں کو یہ تسلیم کرنا ھوگا کہ کسی بھی اختیار کی آخری حد قانون ھے۔اگر کسی رکن اسمبلی کو واقعی محسوس ھو کہ اس کے استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ھے تو اسے قانونی اور پارلیمانی طریقہ اختیار کرنے کا پورا حق ھے۔ لیکن اس حق کا استعمال شواہد اور قواعد کے مطابق ھونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی پولیس افسر کو غیر قانونی دباو¿ کا سامنا ھو تو اسے بھی قانون کے مطابق اپنا مو¿قف پیش کرنے اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے کا حق حاصل ھے۔اداروں کے درمیان اختلاف جمہوریت کا حصہ ھے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا ھے۔ہمیں یہ طے کرنا ھوگا کہ ریاست میں عہدہ بڑا ھے یا قانون؟جواب صرف ایک ھے: قانون۔۔۔۔آر پی او فیصل آباد سہیل سکھیرا کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ھونا چاہیے۔ نہ انہیں محض الزام کی بنیاد پر قصوروار قرار دیا جائے اور نہ سرکاری عہدے کی وجہ سے انہیں احتساب سے بالاتر سمجھا جائے۔ اسی طرح رکن اسمبلی کی تحریکِ استحقاق کو بھی محض سیاسی کارروائی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ شواہد، قواعد اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ھونا چاہیے۔ ریاستیں شخصیات سے نہیں، اداروں سے بنتی ہیں؛ ادارے طاقت سے نہیں، قانون سے مضبوط ھوتے ہیں۔اگر آج ہم قانون کو شخصیت پر ترجیح دیتے ہیں تو کل ہر شہری کے لیے انصاف کا راستہ مضبوط ھوگا۔ اگر ہم شخصیت کو قانون پر ترجیح دیں گے تو کل یہی روایت ہمارے اپنے خلاف استعمال ہوسکتی ھے۔اس لیے فیصل آباد کا یہ معاملہ کسی ایک آر پی او، کسی ایک ایم پی اے یا کسی ایک ادارے کی فتح یا شکست نہیں ھونا چاہیے۔ یہ قانون کی بالادستی کا امتحان ھونا چاہیے۔اگر تحقیق سے ثابت ھوتا ھے کہ پارلیمانی استحقاق متاثر ھوا تو ذمہ داری طے ھونی چاہیے۔ اگر ثابت ھوتا ھے کہ معاملہ محض غلط فہمی یا انتظامی اختلاف تھا تو اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ اور اگر کسی فریق کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ثابت ھوتا ھے تو قانون کے مطابق کارروائی ھونی چاہیے نہ سیاسی دباو¿، نہ ذاتی انا، نہ ادارہ جاتی ضد۔ صرف قانون۔کیونکہ قانون کی بالادستی کا مطلب کسی ایک ادارے کی فتح نہیں؛ قانون کی بالادستی کا مطلب قانون کی فتح ھے۔فیصل آباد کے اس معاملے کا بہترین انجام یہی ھوگا کہ نہ کوئی شخصیت فاتح قرار پائے اور نہ کوئی ادارہ شکست خوردہ۔ فیصلہ صرف اس بنیاد پر ھو کہ حقائق کیا ہیں، قانون کیا کہتا ھے اور عوامی مفاد کس راستے میں ھے۔ یہی پارلیمانی وقار ھے، یہی پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری ھے اور یہی ایک مہذب ریاست کی پہچان ھے۔اگر فیصلہ قانون کے مطابق ھوگا تو دونوں ادارے مضبوط ھوں گے؛ اگر فیصلہ انا کے مطابق ھوا تو دونوں کمزور ھوں گے۔ تاریخ ہمیشہ یہی گواھی دیتی ھے کہ ریاستیں شخصیات کی طاقت سے نہیں، قانون کی بالادستی سے مضبوط ھوتی ہیں۔






