#کالم

ڈاکٹر وزیر آغا کی ادبی جہتیں

1200x630

محمد نوید مرزا

ڈاکٹر وزیر آغا اردو کی ایک ایسی طلسماتی شخصیت کا نام ہے،جن کی سحر انگیزی ان کی نظم و نثر دونوں میں واضح نظر آتی ہے ڈاکٹر صاحب بیک وقت شاعر،ادیب،نقاد اور انشائیہ نگار تھے۔اس کے علاؤہ ان کی ایک پہچان بطور مدیر بھی رہی اور انھوں نے سہ ماہی ،،اوراق،، جیسے عظیم ادبی جریدے کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اس کے ذریعے سیکڑوں شعراء و ادباء کو ایک پلیٹ فارم بھی مہیا کیا۔اوراق میں شائع ہونا ایک اعزاز ہوتا تھا اور میں بھی بارہا اس جریدے میں شائع ہوا ہوں۔
ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922ء کو وزیر کوٹ سرگودھا میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی اور گورنمنٹ کالج سے ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں انھوں نے بی اے کیا اور 1943ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر صاحب نے 1956ء میں اردو ادب میں طنز و مزاح کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر صاحب کی ادبی سرگرمیوں کی ابتداء 1960ء میں ادبی دنیا کے جوائنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے ہوئی۔انھوں نے 1965ء میں لاہور سے ہی سہ ماہی اوراق کا آغاز کیا ،جو 45 برس تک شائع ہوتا رہا۔اس دوران مختلف ناموں سے لکھنے کا کام بھی چلتا رہا۔ڈاکٹر صاحب کے دس شعری مجموعوں پر مشتمل کلیات،چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل بطور شاعر ان کی پہچان ہے ،خاص طور پران کی نظمیں تو بہت ہی کمال کی ہیں۔اس کے علاؤہ 15 تنقیدی اور 6 انشائیوں کے مجموعے ان کی الگ شناخت ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے شعری،علمی و ادبی کام پر پاکستان و بھارت میں خاصا تحقیقی کام ہو چکا ہے۔صرف بھارت میں ہی ان کے فن پر 14 سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے فن کی کئی جہتیں ہیں۔بطور شاعر انھوں نے غزلیں بھی لکھیں،مگر وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ان کی نظمیں تازگی،توانائی،انفرادیت اور آفاقیت ایک ساتھ لئے ہوئے ہیں۔بقول ڈاکٹر انور سدید،،وزیر آغا کی نظموں میں استعارے کے پھیلاؤ کے ہمراہ موضوع کا دائرہ بھی وسعت اختیار کرتا ہے اور شعر کہتے وقت ان کی بصیرت اور بصارت دونوں بیدار اور بیک وقت مصروف کار ہو جاتی ہیں،،
شاعری کی طرح ڈاکٹر صاحب کی تنقید اور انشائیہ نگاری بھی درجہء کمال کی ہیں۔ان کے انشائیے اس صنف کو بے مثال شہرت میں طرف لے گئے ہیں۔انھوں نے انشائیے کی صنف میں گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔وہ اس حوالے سے لکھتے ہیں،،انشائیہ اس نثری صنف کا نام ہے ،جس میں انشائیہ نگار اسلوب کی تازہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشیاء و مظاہر کے مخفی مفاہیم کو کچھ اس طرح گرفت میں لیتا ہے کہ انسانی شعور اپنے مواد سے ایک قدم باہر آکر نئے مواد کو وجود میں لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے،،
آخر میں صرف یہی کہوں گا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت تھے،جنھوں نے شعر و نثر دونوں میدانوں میں نمایاں خدمات سر انجام دیں اور شہرت و عزت حاصل کی۔آپ نے 08 ستمبر 2010ء میں لاہور میں وفات پائی۔آخر میں ڈاکٹر صاحب کا منتخب کلام پیش خدمت ہے۔۔۔۔۔

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے
پھر یوں ہوا کہ لوگ ہمیں تولنے لگے

آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت
ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے

وہ خوش مزاج ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں
طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا

کبھی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری
کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

اتنا نہ پاس آ کے تجھے ڈھونڈتے پھریں
اتنا نہ دور جا کے ہمہ وقت پاس ہو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے