لاہور کی شاہراہیں اور بدترین ٹریولنگ ٹائم
حروف بے زباں
مرزا رضوان
شہر صرف اینٹوں، سیمنٹ اور عمارتوں کے بے جان ڈھانچوں کا نام نہیں ہوتے، بلکہ یہ اپنے باسیوں کی سانسوں کے ساتھ دھڑکتے اور حرکت کرتے حیات بخش وجود کا نام ہیں۔ کسی بھی زندہ دل، ترقی یافتہ اور متحرک شہر کی اصل نبض اس کا ٹریفک نظام اور شہری نقل و حرکت (Urban Mobility) ہوتی ہے۔ جب شہر کی نسوں میں خون کی طرح دوڑتی گاڑیوں کا بہاو¿ رک جائے تو پورا سفر گاہ مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے، اور اگر وہی بہاو¿ روانی پکڑ لے تو پورا شہر زندگی، توانائی اور معاشی سرگرمیوں سے دمکنے لگتا ہے،پنجاب کا دل، تاریخی و ثقافتی مرکز "لاہور” ہمیشہ سے اپنے رنگوں، رونقوں اور کھانے پینے کے شائقین کی وجہ سے دنیا بھر میں معروف رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی بے ہنگم ٹریفک اور شدید ازدحام کا لیبل بھی ماضی میں اس کے ماتھے پر چپکا دیا گیا تھا۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی ورلڈ ٹریفک انڈیکس (World Traffic Index) کی عالمی رپورٹ نے نہ صرف اس روایتی تاثر کو رد کیا ہے بلکہ لاہور کو دنیا کے کئی ترقی یافتہ میٹروپولیٹن شہروں کے مقابلے میں ایک نمایاں پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ورلڈ ٹریفک انڈیکس کے تازہ ترین اعداد و شمار پر مبنی عالمی جائزے کے مطابق، بدترین ٹریولنگ ٹائم اور شدید ٹریفک جام کے عالمی اشاریوں میں لاہور کی کارکردگی اور ٹریولنگ ٹائم دنیا کے149 بڑے شہروں سے نمایاں طور پر بہتر ثابت ہوا ہے۔ یہ محض ایک عدد یا سرکاری دعویٰ نہیں، بلکہ ایک ایسا سائنسی ریکارڈ ہے جو عالمی سطح پر مختلف میٹروپولیٹن شہروں میں گاڑیوں کی اوسط رفتار، سڑکوں کی گنجائش اور سفری تاخیر کے باریک بینی سے کیے گئے تجزیے کے بعد مرتب کیا جاتا ہے۔دنیا کے وہ شہر جنہیں جدید انفراسٹرکچر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سگنلز اور جدید ترین فلائی اوورز کے شاہکار سمجھا جاتا ہے، اس فہرست میں لاہور سے کہیں نیچے اور بدترین ٹریولنگ ٹائم کے گراف میں اوپر دکھائی دیتے ہیں۔اگر ہم دنیا کے دیگر معروف عالمی دارالحکومتوں اور تجارتی مراکزی شہروں کا لاہور کے ساتھ موازنہ کریں تو حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں۔معاشی اور صنعتی طاقت کا مرکز ہونے کے باوجود بدترین ٹریولنگ ٹائم میں 76ویں نمبر پر ہے،ناطقہ اور جدیدیت کی عالمی علامت سمجھا جانے والا یہ شہر 90ویں نمبر پر موجود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود صدیوں پرانے انفراسٹرکچر کی وجہ سے 119ویں نمبر پر ٹریفک کے دباو¿ کا شکار ہے،سیاحت اور فیشن کا عالمی مرکز بدترین سفری تاخیر میں 142ویں نمبر پر ہے۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی اور بلیٹ ٹرینوں کا گڑھ ہونے کے باوجود 145ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ان اعداد و شمار کی روشنی میں لاہور کا 149 عالمی شہروں کے مقابلے میں بہتر ٹریولنگ ٹائم برقرار رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اگر انتظامی حکمت عملی درست ہو تو عالمی معیار کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔اس شاندار عالمی پیش رفت اور مثبت تبدیلی کے پسِ پردہ اگر کسی کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ عزم اور عملی حکمت عملی کی کارفرمائی ہے، تو وہ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی اور ان کی باصلاحیت ٹیم ہے۔ سید عبدالرحیم شیرازی نے جب سے لاہور ٹریفک پولیس کی کمان سنبھالی ہے، انہوں نے روایتی ناکہ بندی اور محض چالان کاٹنے والے طریقہ کار کی جگہ جدید سائنسی، فنی اور انتظامی اصلاحات کا سنگِ بنیاد رکھا۔انہوں نے اس بنیادی نقطے کو سمجھا کہ ٹریفک کا بہاو¿ صرف چوراہوں پر کھڑے ہو کر دستی اشارے دینے سے درست نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے بنیادی چوک پوائنٹس (Choke Points) کا خاتمہ، تجاوزات کی پاکسازی، اور بلا امتیاز قانون کی بالادستی ضروری ہے۔سید عبدالرحیم شیرازی کی قیادت میں جو بہترین اصلاحات متعارف کروائی گئیں، کینال روڈ، فیروز پور روڈ، مال روڈ، جیل روڈ، گلبرگ اور سرکلر روڈ جیسے مصروف ترین روٹس پر ٹریفک کی روانی میں سب سے بڑی رکاوٹ سڑک کنارے تجاوزات تھیں۔ ٹریفک پولیس نے ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان تجارتی مراکز سے قائم و عارضی تجاوزات کا صفایا کیا۔ لاہور کی تاریخ میں پہلی بار شاہراو¿ں پر "لین ڈسپلن” (Lane Discipline) کی پاسداری پر سختی سے عمل درآمد کرایا گیا۔ موٹر سائیکل سواروں، رکشوں اور ہیوی ٹریفک کو مخصوص لینز میں محدود رکھنے کے لیے آگاہی اور انفورسمنٹ کی یکساں پالیسی اپنائی گئی۔ ہسپتالوں، بڑے شاپنگ مالز اور تعلیمی اداروں کے باہر غلط پارکنگ کے خلاف نو پارکنک زونز بنائے گئے اور لفٹرز کی مدد سے بلا تاخیر کارروائیاں کی گئیں۔ سڑکوں پر حادثات اور بے ہنگم ڈرائیونگ پر قابو پانے کے لیے بغیر ڈرائیونگ لائسنس اور کم سن ڈرائیورز کے خلاف مہم چلا کر والدین میں احساسِ ذمہ داری بیدار کیا گیا۔سی ٹی او لاہور کی اصلاحات کا ایک اور سب سے روشن باب "سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ” ہے۔ سڑکوں پر محض اہلکار کھڑے کرنے کے بجائے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے کیمروں، ڈرون سمارٹ مانیٹرنگ اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے شہر کی مرکزی شاہراو¿ں کو چوبیس گھنٹے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔جب کسی مقام پر گاڑی خراب ہونے یا کسی حادثے کے باعث رش بنتا ہے تو "ایمرجنسی رسپانس سکواڈ” منٹوں میں موقع پر پہنچ کر روٹ کو کلیئر کرواتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور ایف ایم 88.6 کے ذریعے شہریوں کو ہر لمحے ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ متبادل راستوں کا انتخاب کر سکیں۔اسی طرح ٹریفک وارڈنز کے رویے اور فیلڈ ڈیوٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ان کی ویلفیئر، باڈی کیمروں کی فراہمی اور میرٹ پر مبنی حوصلہ افزائی کا نظام قائم کیا گیا۔ جب فیلڈ میں کھڑا وارڈن خود کو بااختیار اور محفوظ سمجھتا ہے تو وہ سخت ترین موسم،چاہے وہ لاہور کی کڑکتی گرمی ہو، موسلا دھار بارش یا سردیوں کی شدید دھند—میں بھی مسکراتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔وارڈن پولیس اور سی ٹی او کی کوششوں کے ساتھ ساتھ لاہور کے انفراسٹرکچر مثلاً اورنج لائن، میٹروبس اور سگنل فری کوریڈورز نے بھی اس سفری روانی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہترین انفراسٹرکچر بھی اس وقت تک ناکام رہتا ہے جب تک اسے چلانے والے ہاتھ اور اس پر سفر کرنے والے شہری نظم و ضبط کا مظاہرہ نہ کریں۔ورلڈ ٹریفک انڈیکس میں لاہور کی یہ پوزیشن محض ایک کاغذی کامیابی نہیں بلکہ اس کا براہِ راست فائدہ ہر اس شہری کو پہنچ رہا ہے جس کا پیٹرول اور وقت سڑکوں کے جام میں ضائع ہونے سے بچتا ہے۔ تاہم، یہ اعزاز ایک نیا چیلنج بھی لے کر آیا ہے،اس معیار کو نہ صرف برقرار رکھنا ہے بلکہ اسے مزید بہتر بنانا ہے۔لاہور ایک پھیلتا ہوا میٹروپولیس ہے جہاں روزانہ ہزاروں نئی گاڑیاں سڑکوں پر اترتی ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے دباو¿ کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹریفک اصلاحات کے اس تسلسل کو جاری رکھنا ہوگا، اور شہریوں کو بھی بطور ذمہ دار ڈرائیور اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔یہ عالمی رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ جب قیادت کے پاس واضح وڑن ہو، سی ٹی او سید عبدالرحیم شیرازی جیسے فرض شناس افسران میدان میں موجود ہوں، اور ٹیم کا ہر سپاہی اپنے عزم پر قائم رہے، تو مسائل کے بڑے سے بڑے پہاڑ بھی راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ لاہور کا بدترین ٹریولنگ ٹائم کے عالمی خوف سے نکل کر دنیا کے 149 بڑے شہروں کو مات دینا ہر لاہوریے کے لیے باعثِ فخر ہے!






