جشن آزادی اور روشنی کے معمار
منشاقاضی
انسانی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی نمودار ہوتی ہیں جو محض اپنے وجود کے سبب ایک درسگاہ کی مانند ہوتی ہیں۔ وہ اپنی ذات کو بھلا کر خدمتِ خلق کو اپنی پہچان بناتی ہیں اور ان کے افکار و اعمال میں ایسا وقار، ایسی روشنی اور ایسی انسان دوستی جھلکتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیئے مشعلِ راہ بنتی ہے۔ میاں رشید اکبر، چیئرمین "دی ریمپ ہومز” الیٹ ٹاو ن، لاہور، انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ آج انہوں نے یومِ آزادی کا جشن منایا جہاں آپ آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کر رہے ہیں۔ آپ نے اپ نے مہمانوں کو ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں جو ہے وہ خیر مقدم کیا تو فضا میں چاندنی کی لہر دوڑ گئی۔ مہمانِ خصوصی چوھدری محمد حبیب کنول ، مہمانِ اعزاز راو¿ اکبر لطیف صدر روٹری انٹرنیشنل، ممتاز قانون دان سپریم کورٹ خالد حبیب الہی، حاجی نصیر احمد مہمان اعزاز ، میاں سعید ڈیرے والے، میاں امتیاز احمد ، رانا مبشر وفاوی وزیر ، میاں عمران جاوید ایم پی اے، رانا راشد منہاس ایم پی اے، حمیرا قریشی ، منصب مہتاب، حاجی محمد یوسف، ریاض بھٹی، ڈاکٹر اقبال، میاں قاسم بن حمید ، وسیم ظفر، میاں احمد شجاع الرحمن، حماد رمضان خواجہ ، ندیم اکبر، محترمہ نوشین قاسم، زائدہ بٹ، صبا سرفراز ، ملک فائق، توصیف سکندر ، عابدہ پروین ، مافیہ امین، شگفتہ امین ، نازیہ منج، مختار خان، گل رخ خان ، یاسمین فردوس ، شمائلہ اور محمد حسین کی تشریف آوری نے ایک گونہ اطمینان افروز ماحول پیدا کر دیا۔ محترم ناصر شیرازی جب ہال میں داخل ہوئے تو طلبا و طالبات اور خواتین اساتذہ کے سامنے میجر عزیز بھٹی شہید کا سراپا آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ ناصر شیرازی نے جچے تلے الفاظ میں راہنمائی کی شمع فروزاں کی اور ہر مہمان مقرر نے میاں رشید اکبر کی شخصیت خدمت، حکمت اور محبت کے انداز کو سراہتے ہوئے ان کی شخصیت کو سکوت و شگفتگی کا حسین امتزاج قرار دیا۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ میاں صاحب صرف ایک سماجی کارکن یا ایک منتظم نہیں بلکہ وہ ایک ایسے فلسفیِ خدمت ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں رشید اکبر کی خدمات کا دائرہ صرف رہائشی سہولتوں کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی باطنی اور اجتماعی تعمیر کا بھی فکری جتن کرتے ہیں۔ "دی ریمپ ہومز” کا تصور انہوں نے محض ایک کاروباری منصوبے کے طور پر نہیں سوچا بلکہ اسے ایک ایسا مرکز بنایا جہاں انسان سکون، اعتماد اور وقار کے ساتھ جینے کے قابل ہو۔ ہر اینٹ اور ہر دیوار میں محبت کا رنگ ہے، ہر ڈیزائن اور ہر سہولت میں خدمت کا جذبہ پنہاں ہے۔ یہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے—ایسا خواب جس میں انسان کو عزت اور سہولت دونوں میسر ہوں۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا یہ عقیدہ ہے کہ خدمت محض خیرات نہیں، بلکہ انسانی وجود کے باطن کو روشن کرنے کا عمل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان اگر دوسرے انسان کے لیئے آسانیاں پیدا کرے ، تو وہ دراصل اپنی روح کو بھی وسعت عطا کرتا ہے۔ اسی لیئے ان کی خدمات کے پیچھے کوئی ذاتی مفاد نہیں، بلکہ ایک ایسا وڑن ہے جو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد ہے۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ لٹریچر کا مضمون لازمی پڑھایا جائے کیونکہ ادب ہی انسان بناتا ہے۔ راقم کا نام لیکر انہوں نے کہا کہ ادبی شخصیت کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا جا سکتا۔ شیرازی صاحب نے کہا میری مراد منشا قاضی سے ہے اس وقت میری کیفیت کیا ہو گی کہ ایک جرنیل ایک سپاہی کے بارے بات کر رہا ہے۔ ناصر شیرازی کی حوصلہ افزائی مسیحائی سے کم نہیں ، انہوں نے کہا کہ میاں رشید اکبر کی عملی زندگی ایک مسلسل جہدِ مسلسل کی آئینہ دار ہے۔ میاں صاحب نے اپنے ادارے کے ذریعے نہ صرف رہائشی سہولتیں فراہم کیں بلکہ کمیونٹی کو ایک خاندان میں بدلنے کی کوشش بھی کی۔ ان کے نزدیک ایک بستی صرف مکانوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دلوں کے ملاپ کا نام ہے۔ اس ملاپ کو ممکن بنانے کے لیئے انہوں نے اپنے منصوبہ جات میں سماجی بہبود، ہمسائیگی کی روایت اور باہمی تعاون کے اصول کو مرکزی مقام دیا۔ ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی خاموش انسان دوستی ہے۔ وہ شہرت کے خواہاں نہیں، ان کی خدمات کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ پردے کے پیچھے رہ کر بھی معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح میاں سعید ڈیرے والے کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی چوھدری محمد حبیب کنول نے کہا کہ میاں رشید اکبر کے نزدیک انسانیت کی معراج یہ نہیں کہ ہم بڑے بڑے کارنامے دکھائیں بلکہ یہ ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے کاموں میں محبت اور خدمت کا بیج بوئیں۔ یہی بیج وقت کے ساتھ تناور درخت بنتے ہیں جو نسلوں کو سایہ اور سکون فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر فلسفیانہ زاویے سے دیکھا جائے تو میاں رشید اکبر کی شخصیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی اصل حقیقت اس کی مادی کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس کے باطنی رویے اور خدمت کے فلسفے میں ہے۔ مہمانِ اعزاز راو¿ اکبر لطیف صدر روٹری انٹرنیشنل نے میاں رشید اکبرکہا کہ ان کا وجود ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اصل میں ایک "خدمت گزار مخلوق” ہے، اور جب وہ اپنی اس اصل کو پہچان لیتا ہے تو دنیا اس کے وجود سے روشن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میاں رشید اکبر صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک تحریک ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اگر ہم اپنے دلوں میں دوسروں کے لیئے محبت پیدا کریں، اگر ہم دوسروں کو سہولت دینے کو اپنی کامیابی سمجھیں تو ہم بھی اس معاشرتی روشنی کا حصہ بن سکتے ہیں جو میاں رشید اکبر نے جلائی ہے۔ یوں "دی ریمپ ہومز” کی عمارتیں صرف اینٹ پتھر کی تشکیل نہیں بلکہ ایک نظریئے کی مجسم صورت ہیں۔ وہ نظریہ جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدمت انسان کی سب سے بڑی میراث ہے، اور محبت انسان کا سب سے بڑا سرمایہ۔ میاں رشید اکبر نے اسی سرمایہ کو اپنا کر ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی "انسان دوست” ہی نہیں بلکہ "انسانیت کے معمار” ہیں۔ میاں محمد سعید ڈیرے والے نیکی اور خیر کے کاموں میں ہمیشہ سبقت لے جاتے ہیں اور وہ نئی نسل سے بڑی محبت کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر رانا مبشر نے یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی سعادت حاصل کی ، ممتاز قانون دان خالد حبیب الہی ، حاجی نصیر احمد ، میاں امتیاز احمد ، نے بھی خطاب کیا محترم ناصر شیرازی نے کہا کہ یہ شاید عرض کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے کہ بچے فطرتًا محبت اور پیار کے طلبگار ہوتے ہیں ان کی معصوم اور پاک روحیں انسانیت کی ایک ایسی جگمگاتی ہوئی شمعیں ہوتی ہیں جنہیں روشن رکھنا ہر صحت مند مہذب اور ترقی پذیر دنیا کے معاشرے کی ذمہ داری ہے ناصر شیرازی نے کہا کہ بچے فطرت کا انمول اور بے پایاں خزانہ ہیں۔ اور یہ خزانہ اللہ تعالیٰ نے میاں اکبر رشید کو بے پایاں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں سب کچھ مل سکتا ہے لیکن بچے ملنا فطرت کی بے پایاں رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا بھر کی تفریح گاہوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اپنے بچوں کو مستقبل کا ذمہ دار شہری بنانے کے لیئے انہیں کھلی فضاو ں میں لے جا کر فطرت کے مناظر سے آشنا کرتے ہیں تاکہ بچے شعوری طور پر ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر سکیں اور میاں صاحب نے ان یتیم بے سہارا بچوں کو اس پرشکوہ عمارت کے اندر ہی بہاروں کا ماحول دے رکھا ہے۔ منصب مہتاب نے کہا یہ کہنے کی بھی شاید ضرورت نہیں ہے کہ بچوں کی صحت ان کی تعلیم ان کی رہائش اور ان کی خوراک کو پاکیزہ رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ انسانی شعور کا برائیوں سے پاک رکھنا۔ اور یہ پاکیزہ ماحول ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ منصب مہتاب نے کہا کہ آپ یہ سن کر یقینا مسرت محسوس کریں گے کہ بچے محسوساتِ عالم میں بڑوں سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بڑے لوگ اظہارِ بیان کی قوت رکھتے ہیں جبکہ بچے صرف محسوسات کی حد تک اپنا پوشیدہ ادراک رکھتے ہیں ہنسنا رونا قہقے لگانا تالیاں بجانا مسرت کے ساتھ بڑوں سے لپٹ جانا کیا یہ ساری باتیں شعور و ادراک کے بغیر ممکن ہیں۔ کوئی غصے کے ساتھ دیکھے تو بچے کے چہرے پر خوف و ڈر کی ساری علامات ظاہر ہو جاتی ہیں اور مسکرا کر دیکھنے سے اس کے باطن کی تمام تر رعنائیاں اس کے چہرے پر بکھر جاتی ہیں۔ منصب مہتاب نے کہا کہ معلوم ہوا احساس و ادراک میں بچے بڑوں سے ہرگز پیچھے نہیں۔ میاں محمد سعید ڈیرے والے نے کہا کہ آنے والے دور کے ان معماروں۔ ڈاکٹروں فوجی جرنیلوں۔ سائنس دانوں۔ دانشوروں۔ مصوروں۔ وزیروں انشائ پردازوں اور شاعروں کو اپنا حقیقی مقام حاصل کرنے میں ان کی بھرپور امداد کرنی چاہیئے میاں سعید ڈیرے والے نے کہا کہ جنت میں اپنا محل بنانے والوں میں میاں اکبر رشید کا نامِ نامی اسمِ گرامی سرِ فہرست آتا ہے میاں سعید ڈیرے والے نے کہا کہ مستقبل کے یہ خود مختار قابل دانشور جانے والی نسلوں کے بعد اپنا فرض ادا کر سکیں گے یہی وہ جذبہ ہے جس نے میاں اکبر رشید کو اور ان کے ساتھیوں کو اس امر پر آمادہ کیا کہ اجتماعی زندگی بڑوں کی تفریح کی طرز پر بچوں کی ذہنی۔ فکری اور ان کی مادر علمی دی ریمپ ہومز کی پروقار تقریب جشن آزادی کا اہتمام کیا جائے جس میں شرکت کرنے والے مہمان یہاں پر مقیم بچوں کو اپنی ذہنی اور فطری خوبیوں بھلائیوں کے اظہار سے متاثر کریں۔ تمام مہمانوں نے تمام مہمانوں نے جشن ازادی کی اس موقع پر اپ نے دست مبارک سے درخت لگائے اور آلودہ ماحول میں اپنے حصے کی آکسیجن چھوڑتے چلے جائیں۔ میاں رشید اکبر بو شجر سایہ دار اور سمربار ہیں جن کی ایک شرط ہے کہ ان کے اوپر لگے ہوئے پھلوں کو سنگ باری سے نہ اتارا جائے اور کسی سیاد کی نیت میں فتور اتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی شاخِ نشیمن کو جھکا دیتا ہوں اور وہ آرام سے توڑتے چلے جائیں
وہ پیڑ جن پر پرندوں کے گھر نہیں ہوتے
دراز جتنے بھی ہوں معتبر نہیں ہوتے






