ڈینگی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے
رفیع صحرائی
مون سون کی بارشیں جہاں گرمی کی شدت سے کچھ نجات کا باعث بنتی ہیں، وہیں اگر نکاسیِ آب کا مناسب انتظام نہ ہو تو یہی بارشیں کئی خطرناک بیماریوں کے لیے راستہ بھی ہموار کر دیتی ہیں۔ ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں جگہ جگہ کھڑا پانی، گندگی کے ڈھیر، بند نالیاں اور بارش کے بعد جمع ہونے والا پانی ایک ایسے دشمن کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں جس کا نام ڈینگی مچھر ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر بروقت اور مو¿ثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون کے آغاز سے اب تک متعدد مقامات سے ڈینگی لاروا کی موجودگی سامنے آ چکی ہے اور کئی مقامات کو سیل بھی کیا گیا ہے۔ لاہور میں بھی ہزاروں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے بھی ڈینگی بخار کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ڈینگی کو محض ایک موسمی بیماری سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اسے ایک سنجیدہ عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر لیا جائے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ڈینگی کو آئے کئی برس گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی ہمارے معاشرے میں اس مرض کے بارے میں مطلوبہ سطح کی آگاہی موجود نہیں۔ بہت سے لوگ یہ تک نہیں جانتے کہ ڈینگی مچھر کہاں پیدا ہوتا ہے، کس وقت زیادہ فعال ہوتا ہے، اس کی ابتدائی علامات کیا ہیں اور اس سے بچاو¿ کے لیے معمولی مگر مو¿ثر احتیاطی تدابیر کون سی ہیں۔ نتیجتاً بیماری اس وقت تشویشناک صورت اختیار کر لیتی ہے جب مریض اس میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ڈینگی کے خلاف جنگ صرف اسپرے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اصل کامیابی مچھر کی افزائش گاہوں کے خاتمے میں ہے۔ گھروں کی چھتوں پر پڑے پرانے ٹائر، ٹوٹے ہوئے برتن، گملوں کی پلیٹیں، پانی کی ٹینکیاں، کولروں میں جمع پانی، کھلے ڈرم اور ایسی تمام جگہیں جہاں بارش کا پانی چند دن تک کھڑا رہ سکے، ڈینگی مچھر کی افزائش کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ڈینگی کنٹرول مہم کا آغاز سرکاری دفاتر سے زیادہ ہمارے گھروں اور محلوں سے ہونا چاہیے۔اس سلسلے میں ہمارے اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ بارش کے فوراً بعد پانی کی نکاسی یقینی بنائیں، نالوں اور گٹروں کی صفائی کا مو¿ثر نظام قائم کریں اور ان مقامات کی مسلسل نگرانی کریں جہاں ہر سال پانی جمع ہوتا ہے۔ محکمہ صحت کو حساس علاقوں میں سرویلنس بڑھانے، لاروا کی نشاندہی اور بروقت انسدادِ مچھر اقدامات کے لیے مربوط نظام تشکیل دینا چاہیے۔ محض کاغذی کارروائی، چند روزہ اسپرقے اور اجلاسوں سے ڈینگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ مستقل نگرانی اور عملی اقدامات ہی اس وبا کا راستہ روک سکتے ہیں۔اس کے ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ڈینگی کے خلاف بھرپور اور مسلسل مہم چلائی جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ ڈینگی کی ابتدائی علامات میں اچانک تیز بخار، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، جسم اور جوڑوں میں درد، متلی، کمزوری اور بعض صورتوں میں جسم پر سرخ دھبے شامل ہو سکتے ہیں۔ عوام کو یہ بھی سمجھایا جائے کہ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود سے علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً بخار کے دوران ادویات کے استعمال میں اپنی مرضی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ڈینگی سے بچاو¿ کے لیے لباس بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں مچھروں کی بہتات ہو، جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپنے والے کپڑے پہننے چاہئیں اور مچھر بھگانے والے لوشن یا دیگر محفوظ ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ گھروں میں کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیوں کا استعمال بھی مچھروں کے داخلے کو کم کر سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ صاف پانی کو بھی کھلے برتنوں میں جمع نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ ڈینگی مچھر گندے پانی کا محتاج نہیں؛ صاف اور ٹھہرا ہوا پانی بھی اس کی افزائش کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے گرد موجود مچھروں کو بھی کنٹرول کیا جائے، تاکہ مچھر متاثرہ شخص سے وائرس لے کر دوسرے افراد تک منتقل نہ کر سکیں۔ یعنی ڈینگی کے خلاف حکمت عملی صرف مریض تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے ماحول کو محفوظ بنانا بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے۔ہمیں ہر سال مون سون کے بعد ڈینگی کے پھیلاو¿ پر تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر ایسی حکمت عملی بنانا ہوگی جس سے بارش شروع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ افزائش گاہوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، بازاروں اور سرکاری اداروں کو بھی آگاہی مہم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ بچوں کو اگر ابتدائی عمر ہی سے بتایا جائے کہ ایک چھوٹا سا پانی کا برتن بھی خطرناک مچھر کی نرسری بن سکتا ہے تو وہ اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کی صفائی میں مو¿ثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ڈینگی صرف حکومت کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی صرف محکمہ صحت اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو مو¿ثر منصوبہ بندی، اداروں کو عملی کارروائی اور عوام کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے گھروں، گلیوں، محلوں اور شہروں میں پانی کھڑا نہیں ہونے دیں گے تو ڈینگی مچھر کو افزائش کا موقع ہی نہیں ملے گا۔قدرت ہمیں ہر سال مون سون کے ذریعے ایک طرح کی وارننگ دیتی ہے، مگر ہم اکثر اس وارننگ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈینگی کے خطرے کو معمولی سمجھنے کے بجائے اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ ایک مچھر بظاہر بہت چھوٹا دشمن ہے، مگر اس کی غفلت ہزاروں خاندانوں کو آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ڈینگی کے خلاف سب سے مو¿ثر ہتھیار خوف نہیں، آگاہی، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اور عوام مل کر آج سے قدم اٹھائیں تو کل کے ہسپتالوں میں مریضوں کی قطاریں کم کی جا سکتی ہیں اور مون سون کو بیماری کا موسم بننے سے روکا جا سکتا ہے۔






