ویلکم بیک ٹو ایسٹ انڈیا کمپنی۔۔۔۔لیکن ذمہ دارکون؟
ملک سلمان
ایسے سانحات ایک دن میں نہیں ہوتے اس کے پیچھے لاپرواہی اور قانون سے بالاتر ہونے کا مسلسل احساس ہے۔ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی مسلسل خاموشی نے افسران کے دل و دماغ سے قانون شکنی پر سزا کا ڈر ختم کردیا۔ بیوروکریسی کو یقین ہے کہ اس سیٹ پر آنے والا ہر افسر صرف اچھے تعلقات بنانے اور من مرضی کے افسران کو شیلٹر دینے ناپسندیدہ کو صوبہ بدری کرنے آتا ہے نہ کہ قانون کی بالادستی یا احتساب کیلئے۔ بد قسمتی سے یہ اہم ترین سیٹیں احتساب، قانون کی بالادستی کی بجائے پوسٹ ریٹائرمنٹ ارینجمنٹس کے طور پر تعلقات بنانے کے لیے استعمال ہونے لگی ہیں۔ اس لیے اب افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کا کوئی ڈر یا لحاظ باقی نہیں رہا۔ پریڈ گراو¿نڈ میں شاہی بگھی کی انٹری دیکھی تو بہت خوشی اور فخر ہوا کہ واقعی ہم دنیا میں اہم ہوچکے ہیں اور برطانوی شاہی خاندان پاکستان کا یوم آزادی منانے پاکستان آیا ہے لیکن بیک گرو¿نڈ کمنٹری میں محکم اعلیٰ کی آمد کا سنا تو بنا شک و شبہ یہی مطلب سمجھا کہ صدر پاکستان ہوں گے لیکن یہاں تو گریڈ بیس کے دو سرکاری ملازمین نکلے۔ ماضی میں یہی پریکٹس دیکھتے آئے ہیں کہ اہم تقریبات میں ایسے ملازمین حکومتی شخصیات کے استقبال و انتظام کیلئے الرٹ کھڑے ہوتے ہیں۔سٹیٹ پروٹوکول کے مطابق سرکاری تقریبات میں صرف صدر مملکت ہی بگھی پر بیٹھ کر سلامی لے سکتے ہیں۔ گریڈ 20 کے ان سرکاری ملازمین نے سٹیٹ پروٹوکول اور صدارتی استحقاق کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے خود کو محکم اعلیٰ بھی ڈکلئیر کروا لیا۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اِتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
گورا صاحب چلے گئے، کالا صاحب چھوڑ گئے
پاکستان 100 ٹریلین کا مقروض ہوچکا ہے اور ہر محکمے کے افسران کو اپنی فورس اپنے ڈالے اور اپنا پروٹوکول سکواڈ چاہئے۔سب سے پہلے محکمہ پولیس کے افسران نے پولیس فورس کے مسلح جوانوں، سرکاری گاڑیوں، دفاتر اور یونیفارم کو ذاتی تشہیر، رعب و دبدبے کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔ڈی پی او، سی پی او، آرپی او کو شاہی سلامی کے ساتھ ویلکم اور رخصت کا کام آج بھی زوروشور سے چل رہا ہے۔ ویلکم اور رخصت کرنے کیلئے پولیس لائن میں باقاعدہ سلامی کا چبوترہ، پریڈ اور گھڑ سوار دستہ سمیت سارے ٹشن پورے کیے جاتے ہیں۔ پولیس کے دیکھا دیکھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے کہاں پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے بھی تجاوزات کے خاتمے کے لیے بنائی گئی پیرا فورس کو ٹک ٹاک کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا بعد ازاں فوڈ اتھارٹی، پی ایچ اے، انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی، ٹی ڈی سی پی، محکمہ جنگلات سمیت ہر محکمے نے اپنے ڈالے، اپنی فورس اور اپنا پروٹوکول سکواڈ بنا لیا۔کئی ڈالوں اور ان گنت سرکاری گارڈ و ماتحت افسران کے ہمراہ 4×4گاڑی سے اترنے اور قافلے کے ہمراہ چلتا افسر سرکاری ملازم کم اور ڈان زیادہ لگتا ہے۔ یہی اثرات اوپر سے نیچے منتقل ہوتے ہیں جہاں ضلعی و تحصیل افسران بھی ساری صلاحتیں خود کو ماورائے قانون ثابت کرنے پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناو¿ مہم چلا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔ سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔90سیکنڈ کی سوشل میڈیا ریل میں خود کو منصف اعلیٰ ثابت کرنے کیلئے ایس ایچ او، انسپکٹر اور ڈی ایس پی کو بے عزت کرنا پولیس کھلی کچہری کی واحد کارگردگی بن کررہ گیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے حکم پر ستمبر2024 میں سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی چیف سیکرٹریز نے افسران کو "ٹک ٹاکری” سے روکنے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ سرکاری ملازمین کی مسلسل ٹک ٹاکری اور سیلف پروجیکشن کے خاتمے کیلئے وزیراعظم کے احکامات پر چند ماہ قبل سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کیا گیا۔ہر دوسرا افسر ٹک ٹاکر بن چکا ہے لیکن کسی ایک کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکی اس طرح روٹیشن پالیسی بھی پک اینڈ چوز بن کر رہی گئی ہے کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کیلئے فری ہینڈ چل رہا ہے۔سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 کے مطابق کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاو¿نٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاو¿نٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوگئے ہیں اور ہر کوئی کیمرہ اٹھائے یہ بتانے اور جتلانے میں لگا ہے کہ اس نے سرکاری کام کرکے بہت بڑا کارنامہ کردیا ہے اور اس کارنامے کیلئے کم از کم نشان امتیار اور ستارہ جرات ہونا چاہئے۔






