#کالم

” نعت” کی خوشبو سے مہکتی ایک نورانی شام ، بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کے چوتھے ماہانہ نعتیہ مشاعرے کی روح پرور روداد

shaid

شاہد نسیم چوہدری

فیصل آباد کی ادبی، دینی اور روحانی سرگرمیوں میں نعتیہ ادب ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر صرف صنعت و تجارت کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ علم، ادب، شعر و سخن اور عشقِ رسول کے حوالے سے بھی اپنی ایک خوبصورت پہچان رکھتا ہے۔ یہاں جب اہلِ محبت جمع ہوتے ہیں اور موضوعِ سخن ذاتِ اقدسِ مصطفیٰ ہو تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے، عقیدت بن جاتے ہیں، اشعار محض اشعار نہیں رہتے، درود و سلام کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں اور محفل محض ایک ادبی نشست نہیں رہتی بلکہ دلوں کو منور کرنے والی روحانی مجلس بن جاتی ہے۔14 اگست 2026ئ، جمعہ المبارک کا دن بھی فیصل آباد میں ایسی ہی ایک نورانی کیفیت لے کر آیا، جب بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کے زیرِ اہتمام جشنِ آمدِ رسول کی مناسبت سے چوتھا ماہانہ نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ یہ باوقار اور روح پرور محفل شام چار بجے خادمِ نعت پروفیسر سید رضا حسین گیلانی کی رہائش گاہ ”نعت منزل“، 276/B ستارہ کالونی، فیصل آباد میں سجائی گئی۔اس محفل کی سب سے خوبصورت اور منفرد بات یہ تھی کہ روایت کے مطابق اس مشاعرے کی صدارت کسی شخصیت کے سپرد نہیں کی گئی بلکہ ہمیشہ کے لیے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ کو اس محفل کا صدر مانا گیا۔ یہی عقیدت اس محفل کو عام مشاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اہلِ نعت کا یہ تصور دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ ان کی شاعری، ان کی محفل اور ان کی تمام تر محبتوں کا مرکز و محور ذاتِ اقدس ? ہے۔محفل کا آغاز سید عبید اللہ گیلانی، ساہیوال نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ قرآنِ کریم کی تلاوت سے ماحول میں ایک ایسی روحانی کیفیت پیدا ہوئی جس نے محفل کے آغاز ہی کو نور و برکت سے بھر دیا۔ بعد ازاں نعتیہ اشعار کا سلسلہ شروع ہوا اور اہلِ محبت نے اپنے اپنے انداز میں بارگاہِ رسالت مآب میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔اس خوبصورت محفل کی نظامت اور سرپرستی کے فرائض خادمِ نعت پروفیسر سید رضا حسین گیلانی نے نہایت محبت، خلوص اور خوبصورتی سے انجام دیے۔ پروفیسر رضا حسین گیلانی کی رہائش گاہ ”نعت منزل“ کا نام ہی اس بات کا آئینہ دار ہے کہ یہاں نعت، محبتِ رسول اور اہلِ ادب کی قدر و منزلت کو خصوصی مقام حاصل ہے۔محفل میں فیصل آباد اور گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے متعدد ممتاز شعرائے کرام اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔ ان میں پروفیسر ریاض احمد قادری، پروفیسر سید رضا حسین گیلانی، سید فاروق حسین شاہ، محمد افضل خاکسار گولڑوی، سید مسعود چشتی، ساغر شہزاد ہاشمی، ڈاکٹر مقصود احمد عاجز، پروفیسر مسعودالرحمن، رستم نقیبی، ارشد بیلی، حمید اللہ صوفی، حکیم محمد اکرم شاہد، محمدشاہد نسیم، فقیر حسین چشتی گولڑوی، محمد عصام اسعدی، ضمیر حسین اطہر قادری، عباس علی حیدر، محمد قاسم رشید ہادی اور کم عمر نعت خواں محمد نقیب الحسن نقیبی شامل تھے۔بیرونِ شہر سے تشریف لانے والے معزز مہمان شعرائے کرام نے بھی محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔ سید لیاقت حسین گیلانی چشتی گولڑوی، بوریوالا، عظیم نعت خواں کی حیثیت سے خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جبکہ گلزار احمد گلزار، شاہکوٹ، علامہ محمد احمد زاہد، سانگلہ ہل، اور پیر محمد محسن اعجاز سیفی، جڑانوالہ نے بھی شرکت فرما کر اس نعتیہ اجتماع کو چار چاند لگا دیے۔نعت خوانی کے مرحلے میں سید لیاقت حسین گیلانی، علامہ سید محمد طلحہ ضیاء گیلانی، محمد افضل قادری بہگامی اور علامہ طلحہ شاہ ہاشمی نے بارگاہِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔خصوصاً سید لیاقت حسین گیلانی نے انتہائی خوبصورت انداز میں ترنم کے ساتھ نعتیہ کلام پیش کیا۔ ان کی آواز، اندازِ ترنم اور ادائیگی نے محفل میں ایک خاص سماں پیدا کر دیا۔ حاضرین نے نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ کلام سماعت کیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ الفاظ زبان سے ادا نہیں ہو رہے بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکل کر دلوں ہی تک پہنچ رہے ہیں۔اس محفل میں موجود سامعین بھی محض سامعین نہیں تھے بلکہ عشقِ رسول سے سرشار وہ خوش نصیب لوگ تھے جو نعت سننے کے لیے وقت نکال کر جمع ہوئے تھے۔ ان میں عبداللطیف شاہ، سید حسناد ضیائ گیلانی، محمد رمضان سیفی، سرفراز احمد سلیمی، محمد ذیشان سیالوی، محمد وجدان علی چشتی اور اسجد یعقوب شامل تھے۔محفل کی انتظامی ذمہ داریاں سید مبشر قدیر گیلانی، سید علی رضا گیلانی، سید ربیع عباس رضا گیلانی، سید حسین حیدر گیلانی اور سید عبدالہادی گیلانی نے بخوبی نبھائیں۔ پروفیسر سید رضا حسین گیلانی صاحب کے صاحبزادگان اور انتظامیہ کے دیگر افراد نے مہمانوں کی خدمت اور میزبانی میں خصوصی دلچسپی لی۔ ایک کامیاب ادبی و روحانی محفل کے پیچھے منتظمین کی خاموش محنت ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور ”نعت منزل“ میں ہونے والی یہ نشست اس کا خوبصورت نمونہ تھی۔یہ محفل سہ پہر چار بجے شروع ہوئی اور تقریباً ساڑھے سات بجے شب اختتام پذیر ہوئی۔ اختتام پر ساغر شہزاد ہاشمی اور سید لیاقت حسین گیلانی نے سلام پیش کیا۔ سلام کی اس عقیدت بھری کیفیت نے پوری محفل کو ایک بار پھر جذبات و محبت سے بھر دیا۔ اس کے بعد بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی، جس میں ملک و ملت، اہلِ اسلام، تمام حاضرین اور امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کی گئیں۔بعد ازاں تمام مہمانانِ گرامی کی پرتکلف طعام سے تواضع کی گئی۔ میزبانی کے تمام امور میں پروفیسر سید رضا حسین گیلانی صاحب کے صاحبزادگان اور انتظامیہ پیش پیش رہے۔ یوں یہ محفل صرف شعر و سخن کی نشست نہ رہی بلکہ محبت، اخلاص، میزبانی، ادب اور عقیدت کا حسین امتزاج بن گئی۔
بزمِ فروغِ نعت کی یہ محفل اس اعتبار سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ اس سلسلے کی پہلے ہی تین ماہانہ محافل منعقد ہو چکی ہیں اور یہ چوتھی نشست تھی۔ یعنی نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے ایک مسلسل اور مستقل روایت قائم کی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں جب ادبی محافل تیزی سے محدود ہوتی جا رہی ہیں، وہاں ہر ماہ نعتیہ مشاعرے کا اہتمام یقیناً قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید کاوش ہے۔سب سے بڑھ کر اس سلسلے کی روحانی بنیاد یہ ہے کہ ہر ماہ اس محفل کی صدارت ہمیشہ کے لیے آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ کے نام سے منسوب ہے۔ یہ روایت محض ایک عنوان نہیں بلکہ اس بزم کے فکری اور روحانی مزاج کا اعلان ہے۔ نعت گو شاعر اپنی صلاحیت، اپنے الفاظ اور اپنے جذبے کے ساتھ جس بارگاہ کا ذکر کرتے ہیں، اس بارگاہ کے ادب اور عظمت کو ملحوظ رکھنا ہی نعت کی اصل روح ہے۔نعتیہ شاعری اردو ادب کی وہ صنف ہے جس میں شاعر کو لفظ کے ساتھ ساتھ ادب، عقیدت اور احساس کی انتہائی نازک حدود کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں تخیل کی بلندی کے ساتھ دل کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔ نعت کہنا دراصل ایک ایسی سعادت ہے جس میں شاعر اپنے فن کو محبتِ رسول کے تابع کر دیتا ہے۔14 اگست کی یہ محفل اس لیے بھی یادگار رہے گی کہ اسی روز وطنِ عزیز پاکستان اپنی آزادی کی خوشی منا رہا تھا اور اسی دن ”بزمِ فروغِ نعت“ کے عاشقانِ رسول جشنِ آمدِ رسول کی نسبت سے ایک نورانی محفل سجا رہے تھے۔ ایک طرف وطن کی آزادی کا جشن تھا اور دوسری طرف دلوں کی آزادی کا پیغام؛ ایک طرف سبز ہلالی پرچم کی بہار تھی اور دوسری طرف درود و سلام سے مہکتی ہوئی نعتیہ محفل۔ایسی محافل معاشرے میں محبت، احترام، برداشت، روحانیت اور تہذیبی اقدار کو مضبوط کرتی ہیں۔ یہ نئی نسل کو اپنے دینی و ادبی ورثے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ خصوصاً اس محفل میں کم عمر نعت خواں محمد نقیب الحسن نقیبی کی شرکت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ نعتیہ ادب کی یہ روایت نئی نسل تک بھی منتقل ہو رہی ہے۔فیصل آباد کے ادبی منظرنامے میں ”بزمِ فروغِ نعت“ کا یہ سلسلہ یقیناً ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی محافل کا دائرہ مزید وسیع ہو، نوجوان شعرا اور نعت خواں اس میں شریک ہوں، نئی نسل کو نعتیہ ادب کی عظمت سے روشناس کرایا جائے اور عشقِ رسول کو ادب، اخلاق اور کردار کے ذریعے زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ آخر میں سب حاضرین محفل کیلئے اعلی طعام کا بندوبست تھا۔پروفیسر سید رضا حسین گیلانی اور ان کے رفقائے کار مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نعت کی خوشبو کو ماہ بہ ماہ پھیلانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ دعا ہے کہ بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کا یہ سلسلہ اسی خلوص و محبت کے ساتھ جاری و ساری رہے، اس کی محافل میں مزید برکت ہو، اہلِ نعت کی تعداد بڑھے، نوجوان نسل اس قافلے کا حصہ بنے اور ”نعت منزل“ سے اٹھنے والی عشقِ رسول ? کی یہ خوشبو پورے شہر اور پھر پورے ملک تک پھیلتی چلی جائے۔کیونکہ جہاں نعت ہوتی ہے، وہاں محبت ہوتی ہے؛ جہاں محبتِ رسول ہوتی ہے، وہاں دلوں کو سکون ملتا ہے؛ اور جہاں دلوں میں مصطفیٰ کی محبت زندہ ہو، وہاں انسانیت، ادب اور اخلاق کی شمع کبھی بجھ نہیں سکتی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے