#کالم

آہ ! میاں محمد یونس! ایک مخلص انسان کی رخصتی کا دکھ !

Untitled 5

جاویدایازخان

یہ ہمارے اباجی کی زندگی کے آخری دنوں کی بات ہے جب وہ چل پھر بھی نہیں سکتےتھے۔میں وہاڑی سے چھٹی پر ان کے پاس آیا ہوا تھا۔ایک دن میں نے پوچھا اباجی آپ گھر سے باہر نہیں نکلتے کیوں نہ آج اپنی گاڑی میں بٹھا کر باہر گھما لاوں ؟ تو وہ کہنے لگے ضرور میں بھی یہی چاہتا ہوں۔میں انہیں فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر شہر کی جانب چلا تو کہنے لگے مجھے دو آدمیوں سے ملنا ہے ان کے پاس لے چلو تو میں پوچھا وہ کون ہیں تو فرمایا ایک تو میاں محمد یونس اور دوسرے محمد سعید سلیمی ہیں میں نے پوچھا اباجی کوئی ان سے کام ہے یا بات کرنی ہے ؟ تو کہنے لگے نہیں انہیں صرف دیکھنا ہے ان کی صورت میں مجھے اپنے پرانے دوست نظر آتے ہیں۔مجھے معلوم تھا کہ یہ دونوں اباجی کے بہت قریبی اور پرانے دوستوں کے فرزند ہیں۔ہم نے سعیدسلیمی صاحب کی دوکان کے سامنے گاڑی روکی تو سعید سلیمی دوڑ کر گاڑی کے اباجی کے قریب آکر روائتی ادب سے ملے اور پھر میاں محمدیونس ے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو میاں صاحب نے بھی ان کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔کہنے لگے میں اب دعائیں ہی دے سکتا ہوں کہ اللہ تمہیں اپنے والد کے نقش قدم پر یوں ہی چلتے رہنے کی توفیق عطا فرماے ۔اباجی کی وفات کے بعد میری ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے میرے بھائی اور بیٹے کا تعلق تو ان سے بہت رہا مگر میری ملاقات کبھی کبھار ہوتی تو وہ ہمیشہ یہ دوہراتے کہ میں نے سب کچھ آپ کے اباجی سے سیکھا ہے۔ہمارے اباجی کی ان کی شخصیت سے نسبت بھی میرے لیے باعثِ فخر رہی ہے۔ گذشتہ روز احمدپور شرقیہ میں میاں محمد یونس کی وفات کی افسوسناک خبر سنتے ہی مجھےاپنے اور ان کے والد مرحوم کی یاد آٓگئی میاں محمد یوسف مرحوم جو میاں کلاتھ ہاوس کی احمدپورشرقیہ میں ابتدا کرنے والی شخصیت تھے اور جنہوں نے شہر میں ایک باوقار تجارت کی بنیاد رکھ کر یہ ثابت کیا کہ تجارت صرف کاروبار نہیں عبادت اور خدمت بھی ہے۔ان کی وضع داری ،خلوص ،سماجی خدمت کا جذبہ اور دکھی انسانیت سے محبت انہیں ہمارے اباجی تک لے آئی وہ اباجی کے چند ان قریبی دوستوں میں شمار ہوتےتھے جو ہر انسانی خدمت کے لیے ان کی شانہ بشانہ کھڑے نظر آتےتھے۔ریڈ کراس ہو یا ٹی بی کلینک ،شہر میں امن وامان ہو یا باہمی یکجہاتی کی ضرورت ، شہر کے تاجران کی نمائندگی ہو یا علاقے کی ترقی کی سوچ ہو ،غریبوں کی مدد کرنا ہو یا معذروں کی فلاح وبہبود ہو میاں محمد یوسف مرحوم اباجی کی آواز پر ہمیشہ لبیک کہتےتھے اور کسی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے۔شرافت اور وضع داری ان کی شخصیت کا نمائیاں وصف تھا۔خلوص نیت کے ساتھ لوگوں کے کام آنا ان کی عادت تھی۔ملنساری اور خوش اخلاقی کے باعث ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبولیت رکھتے۔ہم نے ان سے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کا سبق سیکھا۔دوستوں اور ساتھیوں سے وفاداری کو وہ تعلق کی بنیاد سمجھتے تھے۔وعدے کی پاسداری اور قول وفعل میں سادگی وہ تعلق کی بنیاد سمجھتے تھے۔دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ضرورت کے وقت کام آنا ان کی انفرادی خوبی تھی ،فلاحی اور خیر کے کاموں میں پیش پیش رہنا ان کے جذبہ خدمت کا ثبوت تھا۔اختلاف میں بھی شائستگی برقرار رکھنا ان کی سیاسی وسماجی تربیت کی علامت تھا۔سب سے بڑھ کر انا ئ ،نمود وتکبر سے دور رہ کر عزت کے ساتھ زندگی گزارنا ان کی شخصیت کا حسن تھا۔یہی خوبیاں انہیں ہمارے اباجی جیسے درویش صفت سماجی کارکن کے قریب تر لے آئیں اور وہ یک جان دو قالب ہو کر رہ گئے اور احمدپور شرقیہ میں سماجی خدمات کی ایسی طویل داستان مرتب کی جس کی مثال نہیں ملتی۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
بیٹا پھر وارث میراث پدر کیونکر ہو
کہتے ہیں کہ ایک اچھا باپ اپنی اولاد کے لیے صرف جائداد ،مال ودولت یا زمین اور کاروبار نہیں چھوڑتابلکہ اپنی خوبیاں ،اقدار ،شرافت ،وضع داری اور انسان دوستی بھی وراثت میں منتقل کرتا ہے۔بعض وراثتیں کاغذوں پر لکھی جاتی ہیں ،مگر کچھ وارثتیں خون ،کردار اور تربیت کے ذریعے نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہیں۔میاں محمد یونس مرحوم کو بھی شرافت ،خلوص ،وضع داری ،خدمت خلق اور انسان دوستی کی یہ دولت اپنے والد مرحوم سے وارثت میں ملی تھی۔انہوں نے اپنے والد سے ملنے والی اس قیمتی وراثت کو محض سنبھال کر ہی نہیں رکھا بلکہ اسے آگے بڑھایا ،سنوارا اور اس میں اپنے کردار کی نیکیوں کا اضافہ کیا۔یہی کسی باپ کی سب سے بڑی کامیابی اور کسی بیٹے کی سب سے بڑی سعادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والد کی اچھی روایات کا امین بننے کے ساتھ ساتھ ان میں اپنا حصہ بھی شامل کرے ۔میاں محمد یونس نے اپنے والد کی شرافت اور خدمت کی روایت کو آگے بڑھا کر ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے والد کے بیٹے نہیں بلکہ ان کی بہترین روایات کے بھی حقیقی وارث اور ایک عظیم باپ کے صیح جانشین بھی تھے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے جو وراثت پائی تھی اسے زندگی بھر اپنے کردار سے محفوظ رکھا اور رخصت ہوتے وقت اسے مزید مالا مال کرکے اگلی نسل کے حوالے کر گئے۔یہی وارثت ہے جسے وقت کی گردش بھی کبھی ختم نہیں کرسکتی ۔ ان کے قدموں کے نشان لوگوں کے د۔کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی جانشین تھے۔کہتےہیں کہ محبتیں یادوں میں اور ان کی نیکیاں معاشرے کی روایتوں میں زندہ رہتی ہیں اور جن کی زندگی خدمت،اخلاص اور ان کی پوری زندگی انسان دوستی سے عبارت تھی۔میاں محمد یونس مرحوم کو انجمن تاجران احمسدپور شرقیہ کا صدر اور سرپرست اعلیٰ اور مارکیٹ کمیٹی احمدپور شرقیہ کے چیرمین رہنے کا اعزازبھی حاصل رہا اور مسلم لیگ نون کی صدارت کا فرض بھی اد کرتے رہے لیکن ہمیشہ ذاتی اور انفرادی مفادات سے بالا تر ہوکر خدمات انجام دیں۔ان کے سیاسی نظریات اپنی جگہ مگر ان کی ذاتی شخصیت کا ہر مکتبہ فکر گرویدہ رہا۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رخصت تو ہو جاتے ہیں مگر ان کی خدمات اور شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔انہیں ہمیشہ تاجروں کی نمائندگی اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے بطور صدر انجمن تاجران احمدپورشرقیہ اور سرپرست اعلیٰ اور صدر مسلم لیگ احمدپورشرقیہ ایک مخلص ،وضعدار اور متحرک شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کی سیاسی وابستگی ہمیشہ بےمثال رہی اور وہ ہمیشہ انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کرتے رہے۔ان کی اصل پہچان کسی عہدے یا منصب سے زیادہ ان کا جذبہ خدمت تھا جو ہر نیک اور فلاحی کام کے موقع پر انہیں سب سے آگے کھڑا دکھائی دیتا تھا۔میاں محمد یونس مرحوم سچے اور پرانے اور پکے مسلم لیگی تھے جو معاشرے میں چراغ جلانے کے لیے شور نہیں کرتے تھے بس خاموشی سے روشنی بانٹتے رہتے تھے۔کسی کی مشکل میں کام آنا ،کسی فلاحی کام میں حصہ ڈالنا ،اجتماعی بھلائی کے لیے قدم بڑھانا ان کی فطرت میں شامل تھا۔یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو وقت کی گرد میں گم نہیں ہونے دیتے۔سیاست میں برداشت اور روداری،تجارت میں ایمانداری اور اصول پسندی ان کا ہمیشہ خاصا رہا اپنے سیاسی نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا اور اسی پاداش میں جنرل مشرف کے مارشل لا ء کے دور میں سیاسی قید وبند کی صعوبتیں بھی ڈیرہ غازی خان جیل میں برداشت کرنا پڑیں مگر ان کی نظریاتی استقامت میں کوئی فرق نہ آیا ۔آج احمدپورشرقیہ ایک امن پسند سیاستدان ،تاجران کے قائد ،سماجی ورکر اور بےشمار خوبیوں کی حامل شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔آج اپنی وفات کے وفت تک بھی وہ انجمن تاجران احمدپور شرقیہ کے سرپرست اعلیٰ تھے۔ان کی وفات احمدپورشرقیہ کے تجارتی،سیاسی ،سماجی حلقوں کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں ہے۔ان کی کمی اور خلا کو ہمیشہ محسوس کیا جاے گا۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی یاد، ان کی خدمات اور ان سے وابستہ محبتیں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ موت جسم کو ہم سے جدا کرتی ہے، مگر اچھے کردار اور نیک اعمال کو نہیں مٹا سکتی۔ ایسے لوگ اپنی زندگی سے زیادہ الوگوں کی یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میاں محمد یونس مرحوم کی تمام نیکیوں، سماجی و فلاحی خدمات اور اخلاص کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کی خطاو¿ں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اللہ ان کے درجات بلند فرماے آمین !

آہ ! میاں محمد یونس! ایک مخلص انسان کی رخصتی کا دکھ !

17/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے