شدید گرمی: احتیاط، شعور اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
موسم ہمیشہ سے انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا رہا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں موسمی تغیرات نے دنیا بھر کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ کہیں شدید بارشیں تباہی مچا رہی ہیں، کہیں جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے، کہیں برفانی گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور کہیں سورج کی تپش انسانی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ہر سال گرمی کا موسم پہلے سے زیادہ سخت دکھائی دیتا ہے اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت انسانی صحت، زراعت، معیشت اور روزمرہ زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان دنوں شدید گرمی سے متعلق مختلف پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ ایسے پیغامات میں بعض معلومات درست اور مفید ہوتی ہیں جبکہ بعض دعوے مبالغہ آمیز یا غیر مصدقہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی پیغام کو اندھا دھند آگے بڑھانے کے بجائے مستند ذرائع سے اس کی تصدیق کرے، لیکن اگر پیغام کا بنیادی مقصد جان و مال کا تحفظ ہو تو اس میں موجود مفید احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔
شدید گرمی صرف بے آرامی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک خاموش قاتل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ہیٹ اسٹروک، جسم میں پانی کی کمی، کم بلڈ پریشر، دل کے مریضوں کے مسائل، گردوں پر دباؤ اور بچوں و بزرگوں کی صحت پر منفی اثرات گرمی کی شدت کے ساتھ بڑھ جاتے ہیں۔ ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے واقعات صرف احتیاط سے روکے جا سکتے تھے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ پیاس لگنے کا انتظار کیا جاتا ہے، حالانکہ جب پیاس محسوس ہوتی ہے تو جسم پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے گرمی کے موسم میں وقفے وقفے سے پانی پینا، تازہ پھل استعمال کرنا، نمکیات کی کمی پوری کرنا اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھوٹے بچے گرمی کی شدت کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتے جبکہ بزرگوں میں پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد کو گھر کے دوسرے افراد کی توجہ اور مدد درکار ہوتی ہے۔ انہیں ٹھنڈی جگہ پر رکھنا، پانی پلانا اور غیر ضروری مشقت سے بچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
گرمی کے موسم میں گاڑیاں بھی احتیاط چاہتی ہیں۔ بند گاڑی دھوپ میں چند ہی منٹوں میں انتہائی گرم ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی بچے یا پالتو جانور کو کبھی بھی بند گاڑی میں اکیلا نہ چھوڑا جائے، چاہے چند منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ گاڑی کی باقاعدہ دیکھ بھال، ٹائروں کا مناسب پریشر، انجن کولنٹ کی جانچ اور غیر ضروری آتش گیر اشیاء سے گریز محفوظ سفر کے لیے ضروری ہیں۔
اسی طرح ایل پی جی سلنڈر اور دیگر آتش گیر اشیاء کو دھوپ میں رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ گھروں اور دکانوں میں گیس سلنڈروں کو ہمیشہ ہوادار اور سایہ دار جگہ پر رکھا جائے۔ بجلی کے خراب تار، اوور لوڈنگ اور ناقص کنکشن بھی گرمی کے موسم میں آگ لگنے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے ان کی بروقت مرمت ضروری ہے۔
گرمی کے ساتھ بجلی کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہر فرد اگر غیر ضروری برقی آلات بند رکھنے کی عادت اپنائے تو نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ قومی نظام پر بھی کم دباؤ پڑے گا۔ توانائی کا دانشمندانہ استعمال صرف معاشی نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔
گرمی کا سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑتا ہے جو روزانہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ تعمیراتی مزدور، کسان، ٹریفک پولیس، ڈیلیوری رائیڈرز، صفائی کرنے والے کارکن اور دیگر محنت کش طبقہ اکثر شدید دھوپ میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ ایسے افراد کے لیے پینے کے پانی، سایہ دار جگہوں اور آرام کے مختصر وقفوں کا انتظام کرے۔ اگر ہر محلہ، ہر مسجد، ہر بازار اور ہر ادارہ اپنی سطح پر ٹھنڈے پانی کا ایک سبیل نما انتظام کر دے تو بے شمار زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔
شدید گرمی کا ایک پہلو ماحولیاتی آلودگی بھی ہے۔ درختوں کی کٹائی، بے ہنگم شہری تعمیرات، کنکریٹ کے پھیلاؤ اور سبزہ ختم ہونے سے شہروں میں گرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔ آج ایک درخت لگانا صرف ماحول دوستی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں شجرکاری کو محض سرکاری مہم کے بجائے قومی عادت بنانا ہوگا۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف سائنس دانوں یا حکومتوں کا مسئلہ ہے، حالانکہ یہ ہر گھر کا مسئلہ بن چکی ہے۔ پانی کا ضیاع روکنا، درخت لگانا، توانائی کی بچت کرنا، پلاسٹک کے بے جا استعمال سے بچنا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں۔
گرمی کے دوران طبی علامات کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو شدید چکر آئیں، جسم کا درجہ حرارت بہت بڑھ جائے، پسینہ آنا بند ہو جائے، الجھن، بے ہوشی یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو اسے فوری طور پر ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، پانی یا مناسب مشروب دیں اگر وہ ہوش میں ہو، اور جلد از جلد طبی امداد حاصل کریں۔ ایسی صورت حال کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمیں اپنے اردگرد رہنے والے تنہا بزرگوں، بیمار افراد اور ضرورت مند خاندانوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کسی کے گھر میں پنکھا تو ہو مگر بجلی کا بل ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو، یا کسی کے پاس ٹھنڈا پانی خریدنے کے وسائل نہ ہوں۔ ایسے وقت میں






