#کالم

مسیحائی سے غفلت تک. چند سطریں

AlsayB

عالیہ خان
alyiakhan875@gmail.com
انسانی تاریخ میں طبّی پیشے کو ہمیشہ ایک مقدّس درجہ دیا گیا ہے۔ کسی بھی تہذیب، مذہب یا معاشرت کا مطالعہ کر لیں، معالج کو ہمیشہ رحم، خدمت، ہمدردی اور اخلاق کا پیکر سمجھا گیا ہے۔ مریض جب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتا ہے تو اس کی نظریں ایک ہی دروازے پر ٹکی ہوتی ہےوہ دروازہ جس کے پیچھے سفید کوٹ پہنے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرہ مسیحا کہتا ہے۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ یہ مسیحائی کا ادارہ ایک نئے بحران سے گزر رہا ہے؛ ایسا بحران جو جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں نے جنم دیا ہے۔حالیہ ہفتوں میں لاہور کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوںلیڈی ولنگڈن ہسپتال اور سر گنگا رام ہسپتال سے سامنے آنے والی ویڈیوز نے نہ صرف طبّی برادری کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ پوری قوم کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ہمارے معالج کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا جدید دور کی سکرینوں کی چمک نے سفید کوٹ کی حرمت کو کمزور کر دیا ہے؟ کیا سوشل میڈیا کی دوڑ نے انسانی جان کے احترام کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟آپریشن تھیٹر وہ جگہ ہے جہاں ڈاکٹر زندگی کا سب سے مشکل امتحان دیتے ہیں۔ وہاں ہر لمحہ احتیاط، سکون اور یکسوئی کا متقاضی ہوتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں یہ حساس ماحول ایک تماش گاہ میں بدلتا نظر آتا ہے۔ زچگی کے پیچیدہ آپریشن کے دوران، جب ایک ماں زندگی اور موت کی لکیر پر کھڑی تھی، عملے کے کچھ افراد کی مسکراہٹیں، کیمرے کی جانب بنائے گئے پوز، اور دو آپریشن ایک ہی وقت میں چلتے دکھائی دیے۔ یہ منظر صرف افسوسناک نہیں بلکہ طبی اخلاقیات کی ایسی سنگین خلاف ورزی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں اظہارِ خیال کی آزادی تو دی، مگر اس کے ساتھ حدود کی پامالی اور ذمہ داریوں سے غفلت کا بھی دروازہ کھول دیا۔ ڈاکٹرز کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ حساس ترین ماحول میں بھی موبائل کیمرہ بند نہیں رکھتے، مریض کی پرائیویسی کو اہمیت نہیں دی جا رہی، سوشل میڈیا کے لائکس، ویوز اور شہرت طبّی اخلاقیات سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں، اور سب سے بڑھ کر انسانی دکھ، درد اور تکلیف دیکھ کر دل کا نرم ہو جانا جیسے جذبات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہ منظر صرف ڈاکٹرز تک محدود نہیں؛ نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف، اور سیکیورٹی اہلکار بھی اسی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں سر گنگا رام ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈ کی خون کے نمونے لیتے ہوئے ویڈیو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہسپتالوں کا نظام کہاں کھڑا ہے؟ ذمہ داریاں کس حد تک غیر متعلقہ افراد کے حوالے ہو چکی ہیں؟ اور مریضوں کی زندگیاں کتنی غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں؟ہمارا معاشرہ اب بھی ڈاکٹر کو عزت و احترام دیتا ہے۔ لوگ مریض کو لے کر ہسپتال پہنچتے ہیں تو ان کے دلوں میں امید کی ایک کرن ہوتی ہے کہ ڈاکٹر کچھ ضرور کریں گے۔ مگر جب وہی ڈاکٹر کیمرے کے پیچھے مصروف نظر آئیں، جب آپریشن تھیٹر جیسے مقدس مقام میں بھی غیر سنجیدگی غالب آ جائے، جب خون لینے جیسے نازک کام میں بھی تربیت یافتہ عملے کی جگہ غیر متعلقہ افراد نظر آئیں… تب سوال اٹھتا ہے، کیا ہم مسیحائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ڈاکٹر ایک پیشہ نہیں، ایک عہد ہے۔ یہ عہد یہ کہتا ہے کہ مریض کی تکلیف اپنی تکلیف سمجھو۔ لیکن آج سوشل میڈیا کی یلغار نے اس عہد کو کمزور کر دیا ہے۔ اب بہت سے معالجین کے لیے "لمحے” مریض نہیں، بلکہ وائرل ویڈیوز بن گئے ہیں۔ یہ تبدیلی خاموش نہیں، بلکہ خطرناک ہے۔یہ غلط ہو گا کہ ہم صرف ڈاکٹروں یا ہسپتالوں کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ یہ مسئلہ ہمارے پورے معاشرے کی سوچ اور ترجیحات سے جڑا ہوا ہے۔ ہم ایسے دور کا حصہ ہیں جہاں حادثہ ہو یا مصیبت مدد کرنے سے پہلے ویڈیو بنائی جاتی ہے، موت کے مناظر بھی وائرل ہوتے ہیں، مریضوں کے چہروں، تکلیفوں اور جسمانی کمزوری کو سوشل میڈیا کنٹنٹ بنا دیا جاتا ہے، اور انسانی دکھ ہماری آنکھوں میں احساس نہیں جگاتا بلکہ "ٹاپ ٹرینڈ” بنا دیتا ہے۔ یہ بے حسی صرف طبّی پیشے کی نہیں، پورے معاشرے کی بیماری ہے۔ہسپتال انتظامیہ کا فرض ہے کہ آپریشن تھیٹر میں موبائل فون مکمل طور پر بند ہوں، کیمرہ لے جانے پر سخت پابندی ہو، غیر تربیت یافتہ افراد کو مریضوں کے قریب تک رسائی نہ ہو، نگرانی کا نظام مضبوط ہو، اور اخلاقی تربیتی سیشن مسلسل جاری رہیں۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو پالیسی سطح پر واضح قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ایم ڈی سی کے ضابطے موجود تو ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔ ایسے واقعات میں شامل ہر فرد کے لیے سزائیں سخت ہونی چاہئیں۔ڈاکٹرز اور طبی عملے کا کردار سب سے اہم ہے۔ جب تک وہ خود اپنے پیشے کی حرمت کا احساس نہیں کریں گے، کوئی قانون، کوئی نوٹس، کوئی انکوائری اس بحران کو ختم نہیں کر سکے گی۔سوشل میڈیا بذات خود دشمن نہیں، یہ صرف ایک ذریعہ ہےمسئلہ انسانوں کے رویّوں میں ہے۔ یہی سوشل میڈیا ہسپتالوں کے مسائل، بدانتظامی اور غفلت کو بے نقاب بھی کرتا ہے، اور اداروں کو حرکت میں بھی لاتا ہے۔ مگر جب یہ ذریعہ حدود سے تجاوز کر کے اخلاقیات کو روند دیتا ہے، تب یہ ایک خطرہ بن جاتا ہے۔کیونکہ ڈاکٹرز صرف علاج نہیں کرتے، معاشرہ ان پر بھروسہ کرتا ہے۔ ہسپتال علاج گاہ نہیں، انسانی حرمت کا مرکز ہوتے ہیں۔ مریض صرف جسم نہیں، جذبات اور اعتماد کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ آپریشن تھیٹر کسی کی زندہ رہنے کی آخری امید ہو سکتا ہے، تماشہ گاہ نہیں۔ اگر ہم نے اس وقت اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کے پاس ایک ایسا نظامِ صحت ہوگا جہاں مسیحائی نہیں، مشینی پن،

مسیحائی سے غفلت تک. چند سطریں

زمانہ پھر آۓ گا 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے