#کالم

زمانہ پھر آۓ گا 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

کبھی سائیکل ہماری زندگی کا سب سے سادہ اور قابل اعتماد ساتھی ہوا کرتی تھی ۔گلیوں میں صبح کے وقت اسکول جاتے بچوں کی قطاریں ،شام کے وقت دفتر سے لوٹتے ملازمین اور مزدور اور بازار سے گھر کا سامان لاتے ہوۓ بزرگ سب کے قدموں کے ساتھ ایک سایکل ضرور چلتی دکھائی دیتی تھی ۔پھر وقت بدلا ترقی کے نام پر موٹر سائیکل اور گاڑیاں ہماری ضرورت  اور شاید انا کا حصہ بھی بنتی چلی گیں  ۔سائیکل مرمت کا شعبہ بھی تنزلی کا شکار ہو گیا اور سائیکل کی جگہ موٹرسائیکل اور کار مکینک اہمیت اخیتار کر گئے اور سائیکل  مرمت کرنے والےکاریگر   دوسری مزدوریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ایساہی ہمارے دوست استاد منیرخان کے ساتھ ہوا ۔آج پچاس سال بعد  پیٹرول کی قیمتیں دیکھ کر بےاختیار سائیکل اور استاد منیر خان کی یاد آگئی  جسے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ سائیکل کا وہ زمانہ ایک مرتبہ پھر ضرور آۓ گا ۔ان کے خیال میں بڑھتے ہوۓ استعمال کی باعث دنیا کا تیل ایک دن ختم ہوجاۓ گا یا پھر اتنا مہنگا اور کم یاب ہو گا کہ لوگوں کی دسترس میں نہیں رہے گا ۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے اباجی جو ایک آرمی کے کمیشنڈ افسر تھے ہمیشہ سائیکل سواری کرتے ۔ان کی ایک مخصوص سی سائیکل ہوا کرتی تھی جس پر وہ پورادن اپنا کام کاج کرتے اور ہمارے بےحد اسرار پر بھی آخری عمرمیں بھی وہ موٹر سائیکل کی بجاۓ سائیکل ہی استعمال کیا کرتے تھے ۔اباجی روزآنہ تقریبا” پچاس کلو میٹر سائیکل پر سفر طے کیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود میں نے انہیں کبھی تھکا ہوا نہیں پایا ۔میں نے اپنی آنکھوں سے ریاست بہاولپور کے کنٹرولر جنرل  پراپرٹیز جے ایچ مارڈن  مرحوم کو سائیکل پر دفتر آتے جاتے دیکھا ہوا ہے ۔بریگیڈیر نذیر علی شاہ صاحب مرحوم  کا گھر ہمارے گھر کے سامنے ہوا کرتا تھا اور وہ ہمیشہ باوردی پیدل آیا جایا کرتے تھے ۔جبکہ بہاولپور شہر میں رنگ برنگ سائیکل رکشوں کی بہار ہوا کرتی تھی جو گھنٹوں کا سفر منٹوں میں نہایت سستا فراہم کرتے تھے ۔ہمارے ہیڈماسٹر اور دیگر اساتذہ روزآنہ سائیکلوں پر ہی احمدپور شرقیہ سے ڈیرہ نواب صاحب آیاکرتے تھے ۔طالب علم تو ایک سائیکل پر تین تین بیٹھ کر پڑھنے جاتے تھے ۔نہ پیٹرول کی فکر ہوتی نہ چالان کا خوف ستاتا تھا ۔ تب سائیکل مکینک کی اہمیت کسی موٹر مکینک سے کم نہ تھی ۔

آج سے تقریبا” پچاس سال قبل ہمارۓ دوست استاد منیر کی سائیکل مرمت کی دوکان ہوا کرتی تھی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہم سب دوست بےروزگار تھے اور کبھی نوکری کی کوشش کرتے تو کبھی مایوس ہوکر کاروبار کی خیالی پلاو پکاتےرہتے تھے ۔ایک دن استاد جی نے تجویذ دی کہ اس کی دوکان پر ایک دو سائیکل لیکر کرایے پر چلا دیں تو روزگار کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔اس دور میں کرایہ پر سائیکل چلانے کے کاروبار کو بڑاعروج حاصل ہوا کرتاتھا ۔لوگوں نے درجن درجن بھر سائیکلیں کھڑی کی ہوتی تھیں اور غریب لوگ فی گھنٹہ کے حساب سے سائیکل لیتےاور بحفاظت جلد ازجلد لوٹا دیتے تاکہ کرایہ کم سے کم ادا کرنا پڑۓ۔کراۓپر سائیکل دینے کا کاروبار کم سرمایہ سے شروع ہونے والا ایک مفید اور منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا تھا ۔استاد جی نے ان سائیکلوں کی  مفت مرمت ،دیکھ بھال اور کاوربار سنبھالنے کی ذمہ داری خود لی ۔گویا ہم نے صرف سائیکل لے کر دینے تھے ۔ہم نے استاد جی سے کہا یار ! وقت بدل رہا ہے لوگ سائیکل سے موٹر سایکل کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ سائیکل کھڑے ہی رہ جائیں اور ہم اپنی جمع پونجی ہی گنوادیں ۔استاد جی کاخیال تھا کہ سائیکل پر کبھی زوال نہیں آسکتا کیونکہ یہ ایک سب سے  سستی اور کم خرچ سواری اور ضرورت ہے ۔لیکن پھر ہماری بات ہی درست ثابت ہوئی اور مارکیٹ سے سائیکل رفتہ رفتہ غائب ہو گئے ۔کرایے پر سائیکل دینے والی دوکانوں پر اب موٹر سائیکل کرایے پر ملنے لگے تو ہم اکثر استاد جی کا مذاق اڑاتے کہ استاد جی دیکھو سائیکل ختم ہو گئے ؟  استاد جی نے سائیکل مرمت کی دوکان بند کردی مگروہ کہتے رہے یار ! یاد رکھنا یہ سائیکل پھر آئیں گے اور میرا سائیکل مرمت کا کاروبار بھی پھر سے چمکے گا ۔لیکن بات موٹر سائیکل سے کاروں اور موٹر رکشوں تک جا پہنچی اور سٹرکیں سائیکلوں سے خالی ہوگئی ۔البتہ آج بھی بچوں کی سائیکل ضرور دیکھنے کو ملتی ہیں ۔پچھلے دنوں استاد جی سے بات ہوئی تو کہنے لگے یار ! میں سائیکل مرمت کا کام دوبار سے شروع نہ کردوں ؟ لوگوں نے پھر سے سائیکل خریدنا اور چلانا شروع کردیا ہے ۔کیونکہ لوگ جان چکے کہ سایکل بچت بھی ہے اور صحت بھی ہے ۔ آج عام آدمی جب پیٹرول پمپ پر کھڑا ہوتا ہے تو میٹر کی رفتار اس کے دل کی دھڑکن سے بھی زیادہ تیز دوڑتی محسوس ہوتی ہے ۔چند لیٹر پیٹرول ڈلوانے کے بعد جیب کا بوجھ ہلکا اور دل کا بوجھ بھاری محسوس ہونے لگتا ہے ۔مہنگائی کے اس دور میں سفر کرنا بھی ایک باقاعدہ معاشی منصوبہ بندی کا تقاضا کرنے لگا ہے ۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہر چھوٹے فاصلے کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی ضروری ہے ؟ کیا واقعی تیل انسانی دسترس میں نہیں رہے گا ؟ پیٹرول کی یہ اونچی اڑان کہیں پھر سائیکل کی پہچان تو نہیں بن جاۓ گی ؟ گیس اور این ایل جی کی نایابی یا کمیابی لکڑی  اور گوہے کی اہمیت پھر سے تو نہ بڑھا دۓ گی ؟  ڈیزل کی مہنگائی سفر کو مہنگا اور مشکل  اور مشکل ترتو نہیں بنادے گی ؟ آج ہمیں ایک بار پھر سائیکل کی سادگی اور افادیت یاد آتی ہے اور استاد منیر کی سائیکل کرایے پر چلانے کی تجویذ بھی یاد آتی ہے کیونکہ سائیکل نہ پیٹرول مانگتی ہے ،نہ شور مچاتی ہے اور نہ دھواں چھوڑتی ہے اور پھر نہ ہی کسی حادثے کا خوف ہوتا ہے ۔یہ خاموشی سے رواں دواں انسان کواس کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔صحت کے مفید ،ماحول کے لیے بہتر اور جیب کے لیے ہلکی اور سستی سواری جیسی خوبیاں کسی اور سواری میں نظر نہیں آتی ۔استاد منیر کی سائیکل کرایے پر چلانے کی تجویذ قابل غور ہے کیونکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوںاور شہروں نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا اور وہاں سائیکل کرایہ نظام قائم ہے جہاں شہری چند سکوں یا معمولی فیس کے عوض سایکل لے کر اپنا مختصر سفر طے کرتے ہیں۔وہاں کے  پارکوں ،میٹرواسٹیشن ،دفاتر اور تعلیمی اداروں کے باہر قطاروں میں کھڑی سائیکلیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ترقی کا مطلب ہمیشہ مہنگی سواری نہیں ہوتا بلکہ سادہ اور پائیدار حل بھی ترقی کا حصہ ہوتے ہیں ۔استادمنیر خان کی سائیکل کرایے پر چلانے کی تجویذ قابل عمل اس لیے بھی ہے کہ یہ ہمارے معاشرۓ میں سادگی اور کفایت شعاری کے کلچر کو بھی فروغ دے سکتی ہے اور توانائی بچت کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں بھی کمی لا سکتی ہے ۔دوسری جانب استاد منیر جیسے  بےشمار لوگوں  اور خصوصی  بےروزگار نوجوانوں کے لیے ایک آسان اور   اچھا کاروبار بھی بن سکتا ہے ۔آج توانائی کی بچت ہمارے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے کیونکہ اصل مسئلہ صرف پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتیں نہیں بلکہ ہماری سہل پسندی اور عادات بھی ہیں ۔ہم نے چھوٹے فاصلے بھی موٹر سائیکل پر طے کرنے کو اپنی سہولت اور وقت کی بچت سمجھ لیا ہے حالانکہ تھوڑا سا پیدل چلنا یا سائیکل چلانا نہ صرف جسم کو صحت مند رکھتا ہے بلکہ ذہن کو بھی تازگی دیتا ہے ۔

استاد منیرخان کی پیشن گوئی "یہ زمانہ پھر آۓ گا ” کے مطابق ممکن ہے کہ  کل کے پاکستان میں ہم دوبارہ وہی منظر دیکھیں جہاں گلیوںمیں سائیکلوں کی گھنٹیاں بجتی دکھائی دیں اور لوگ مہنگے پیٹرول کی بجاۓ اپنی ٹانگوں کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوں  اور استاد منیر کی سایکل مرمت کی دوکان پر ممکن ہے کہ پھر سے رونق لگی ہو کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب توانائی اور ایندھن مہنگا ہوجاۓ تو انسان کو اپنی اصل طاقت یا دآجاتی ہے ۔ہم نے قومی توانائی بچت مہم کا حسہ بننا ہے تو سب سےاچھا ہمارا عمل سائیکل  کا فروغ  ہی ہو سکتا ہے ۔سائیکل کے استعمال میں اضافہ دراصل  توانائی اور ایندھن کے استعمال میں کمی کا باعث بن سکتا ہے ۔  

زمانہ پھر آۓ گا 

امن فروش کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے