آبنائے ہرمز اور ایران: جنگ، جغرافیہ اور بدلتی عالمی بساط
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں زمین، پانی اور سیاست اس طرح باہم گندھ جاتے ہیں کہ وہاں ہونے والی ہر ہلچل عالمی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ Strait of Hormuz بھی ایسا ہی ایک مقام ہے، مگر آج کے حالات میں اس کی اہمیت محض جغرافیائی نہیں رہی بلکہ یہ ایک ممکنہ جنگی اسٹیج بن چکی ہے جہاں طاقت کے توازن، عالمی معیشت اور علاقائی سیاست کا امتحان ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کا جغرافیہ خود اپنی زبان میں طاقت کی کہانی سناتا ہے۔ یہ ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جو Persian Gulf کو Gulf of Oman سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں Iran کی پہاڑی اور نسبتاً بلند ساحلی پٹی واقع ہے، جبکہ جنوب میں Oman اور United Arab Emirates کے نسبتاً ہموار اور ترقی یافتہ ساحل ہیں۔ یہی جغرافیائی ساخت ایران کو ایک قدرتی برتری فراہم کرتی ہے اس کے ساحلی پہاڑ، تنگ آبی راستے اور جزائر اسے دفاعی اور جارحانہ دونوں حوالوں سے ایک مضبوط پوزیشن دیتے ہیں۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی اور جنگی ماحول سے گزر رہا ہے چاہے وہ ایران اور Israel کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہو، یا United States کی خطے میں مسلسل موجودگی آبنائے ہرمز ایک حساس اعصابی نقطہ بن چکی ہے۔ ہر بحری جہاز، ہر تیل بردار ٹینکر اور ہر فوجی نقل و حرکت ایک بڑے تصادم کے امکان کی علامت محسوس ہوتی ہے۔
ایران کے لیے اس آبنائے کی سب سے بڑی طاقت اس کا جغرافیہ ہے، مگر اسی جغرافیے نے اسے ایک مستقل دباؤ میں بھی رکھا ہوا ہے۔ ایران کے پاس آبنائے کے قریب واقع جزائر خصوصاً قشم، ہرمز اور ابوموسیٰ ایسے مقامات ہیں جہاں سے وہ نہ صرف نگرانی بلکہ عسکری کنٹرول بھی قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ جزائر ایران کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال میں آبی راستے کو محدود یا متاثر کر سکے۔ جدید میزائل سسٹمز، نیول مائنز اور چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کی مدد سے ایران ایک "asymmetric warfare” کی حکمت عملی اپناتا ہے جو بڑی بحری طاقتوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔
لیکن یہی طاقت ایران کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھی ہے۔ موجودہ جنگی فضا میں، جہاں معمولی اشتعال بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے، آبنائے ہرمز کسی بھی وقت ایک flashpoint میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر یہاں کوئی حادثہ یا محدود جھڑپ بھی ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ روٹس اور مالیاتی منڈیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اس لیے یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی استحکام کا سوال بن جاتا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بحری موجودگی اس خطے میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید جنگی جہاز، ڈرونز اور نگرانی کے نظام اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اس آبی گزرگاہ کو کسی بھی قیمت پر کھلا رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایران اپنی جغرافیائی برتری اور مقامی علم کو استعمال کرتے ہوئے ایک دفاعی دائرہ قائم کرتا ہے جو بظاہر چھوٹا مگر عملی طور پر انتہائی پیچیدہ اور مؤثر ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے—topography یعنی زمینی ساخت۔ ایران کے ساحلی علاقے زیادہ تر rugged اور پہاڑی ہیں، جو اسے قدرتی دفاع فراہم کرتے ہیں۔ یہ علاقے نہ صرف عسکری تنصیبات کے لیے موزوں ہیں بلکہ دشمن کے لیے انہیں نشانہ بنانا بھی مشکل بناتے ہیں۔ دوسری جانب خلیجی ریاستوں کے ساحل زیادہ تر ہموار اور شہری ترقی سے بھرپور ہیں جو انہیں معاشی طور پر مضبوط مگر عسکری طور پر نسبتاً کم محفوظ بناتے ہیں۔ یہی فرق جنگی حکمت عملی میں ایک اہم عنصر بن جاتا ہے۔
موجودہ حالات میں ایک اور تبدیلی بھی نمایاں ہے توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف عالمی رجحان۔ اگرچہ ابھی تک تیل کی اہمیت کم نہیں ہوئی، مگر مستقبل میں renewable energy کے بڑھتے استعمال سے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے خلیجی ممالک پائپ لائنز اور متبادل راستوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ اس chokepoint پر انحصار کم کیا جا سکے۔
تاہم، اس تمام تبدیلی کے باوجود، حقیقت یہی ہے کہ آبنائے ہرمز آج بھی عالمی سیاست کا ایک مرکزی کردار ہے۔ ایران اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے اور اپنی پالیسیوں میں اسے ایک leverage کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جب بھی اس پر اقتصادی پابندیاں یا سفارتی دباؤ بڑھتا ہے، آبنائے ہرمز کا حوالہ ایک غیر اعلانیہ پیغام بن کر سامنے آتا ہے ایک ایسا پیغام جو دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے کہ جغرافیہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ جغرافیہ، معیشت اور نفسیات بھی اس کے اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی موجودگی ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتی ہے، جو عالمی طاقتوں کو محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مکمل جنگ کے امکانات کے باوجود ایک "controlled tension” برقرار رکھی جاتی ہے۔
اگر ہم اس پورے منظرنامے کو ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک آبی راستہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی تقدیر ہے—ایسی تقدیر جو ایران کو طاقت بھی دیتی ہے اور آزمائش میں بھی رکھتی ہے۔ موجودہ جنگی حالات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دنیا کے کچھ خطے ہمیشہ کشمکش کا مرکز رہیں گے، کیونکہ وہاں جغرافیہ خود سیاست کو جنم دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ طاقت کا بہاؤ بھی جاری رہتا ہے۔ یہاں لہریں صرف سمندر کی نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بھی ہیں، اور انہی لہروں پر مستقبل کے بڑے فیصلے طے ہوتے ہیں۔ ایران کے لیے یہ آبنائے نہ صرف ایک دفاعی حصار ہے بلکہ ایک مستقل امتحان بھی—ایسا امتحان جس میں کامیابی کا انحصار صرف طاقت پر نہیں بلکہ حکمت، صبر اور درست فیصلوں پر ہے۔






