#کالم

خاموش طبع اور تحریر کا فنکار "اسلم جاوید ہاشمی”

new desingffgdf

ازقلم: طارق اقبال حاویؔ، لاہور
(بانی و سرپرست ادبی سفر انٹرنیشنل)

جھوٹ کے رنگوں سے سجا مور نہیں ہوں
فنکار ہوں تحریر کا میں چور نہیں ہوں
اپنے ہی بال و پر سے اڑتا ہوں فضا میں
اغیار کی گڈی سے بندھی ڈور نہیں ہوں

بہت کم لوگوں کے مقدر اور حصے میں عزت اور شہرت جیسی دولت آتی ہے، مگر اس دولت کو حاصل کرنے کے لئے محنت اور لگن شرط ہے خواہ انسان کسی بھی شعبے یا ذمہ داری سے وابستہ ہو.جب آپ اپنے اخلاق میں خوش مزاجی اور صبر کے مادے کی مقدار کو کم نہیں ہونے دیتے اور خلوصِ نیت سے، محنت سے اپنے امور سر انجام دیتے ہیں تو رب تعالیٰ کی ذات آسانیاں پیدا فرما ہی دیتی ہے اور شہرت و عزت کے دروازے مزید کھلتے جاتے ہیں۔ پیش نظر پہلی اور خوبصورت تصنیف "یاد تم رکھنا” جس مصنف کی ہے انکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ اردو و پنجابی ادب کے نامور شاعر، نقاد، محقق اور گیت نگار ہیں۔ میری مراد اسلم جاوید ہاشمی صاحب ہیں اور آپکا نام ہی اہلِ ادب میں ایک ایک معتبر حوالہ ہے۔ بطور چئیرمین بزم نذر ساجد پاکستان کے توسط سے ادب کے فروغ اور ترویج کے لئے آپکی خدمات قابل قدر و تحسین ہیں۔ اسی طرح بطور ادیب و شاعر اگر آپکی شخصیت کو دیکھا جائے تو مقامی سطح پر کوئی بھی ادبی فورم ہو یا ادبی محفل اہل ادب انکے بغیر ادھوری محسوس کرتے ہیں. آپ کی شہرت صرف ادبی محافل تک ہی محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی آپکے ان گنت پرستار ایسے ہیں جو کہ آپکی شاعری کو پسند کرتے ہیں. آپ بلاشبہ دور حاضر کی مقبول ترین اور ہر دلعزیز شاعر ہیں جنکی شاعری ہر عمر کے قارئین کے زہنوں پہ راج کرتی ہے۔
خوش اخلاقی، ہنس مکھ طبیعت کے حامل ہونے کے وجہ سے تمام احباب اور شعراء و شاعرات سے رابطے میں رہنا، انکی رہنمائی اور نئے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا آپکی ذات کی نمایاں خصوصیات ہیں اور یوں یہ اسلم جاوید صاحب بہت سے دلوں اور ہاتھوں کی دعاؤں کے حصار میں شامل و جاویداں رہتے ہیں۔

میں قطرہ ہوں سمندر تُو سمندر میں ہی گُم رکھنا
گدائے نینوا رکھنا دیے آدابِ قُم
رکھنا
عطا ہے نور کا ہالہ مجھے سبطِ پیمبر سے
دعائیں مجھ سے کہتی ہیں دعا میں یاد تم رکھنا

آپکے اس پہلے شعری مجموعے "یاد تم رکھنا” کی اشاعت کی نوید آپکے حلقہء احباب اور مداحوں کے لئے یقینا باعثء افتخار ثابت ہو گی۔ "یاد تم رکھنا” ایک ایسی تصنیف ہے جس میں قارئین کرام کو سبھی احساسات اور کیفیات پر گوندھی شاعری پڑھنے کو ملے گی۔
آپکی یہ کتاب، نعت شریف، سلام، منقبتی اشعار، غزلیات، نظموں اور قطعات پر مشتمل ہے جو کہ اردو زبان میں ہیں تاہم پھر بھی جناب شاعر نے کہیں کہیں پنجابی زبان میں اشعار، قطعات اور نظموں کو شاملِ تصنیف رکھا ہے۔

سڑدے بن وچ ٹھنڈی چھاں
رکھ زبان تے اکو ناں
اے رسے تے رب رس جاندا
رب دا روپ اے پیاری ماں

کتاب کے نام کے مطابق دیدہ زیب رنگوں اور سرورق سے مزین اس تصنیف کا انتساب آپ نے اپنی والدہ محترمہ کے نام کیا ہے۔ اس شعری مجموعے کا آغاز جناب شاعر نے نعت رسول مقبول صلی الله علیه و آله و سلم کے ساتھ فرمایا ہے جس کا مقطع ہے کہ:

تجھے شمس الدھا لکھوں، تجھے بدر الدجا لکھوں
یہ سب تو تیرے دم سے ہیں، بھلا میں تجھ کو کیا لکھوں

سبحان اللہ۔۔۔ بیشک ہمارا ایمان ہے آپ صلی الله علیه و آله و سلم ہی وجہء تخلیقِ کائنات ہیں اور جناب شاعر نے بہترین عقیدت اور خالص نعت گوئی میں گوندھے ہوئے الفاظ سے اس نعت مبارکہ کا نذرانہ پیش کیا ہے کیونکہ نعت کا حقیقی معنی ہی آپ صلی الله علیه و آله و سلم کی خالص توصیف کو بیان کرنا ہے اور کمال عاجزی یہ ہے کہ شاعر اپنے اس محبت و عقیدت سے پروئے فن کو بھی عطا ہی کہتا ہے نہ کہ ریاضت۔ جیسے یہ شعر دیکھیں کہ:

یہ عطا تجھ پے ہادی بر حق کی ہے
تو کہاں، یہ در کہاں، عاصی کہاں، مدحت کہاں

نعت مبارکہ کے بعد اہل بیت سے حب کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے سلام بحضور حضرت امام حسین علیہ السلام پیش فرمایا ہے، جس میں عقیدت، غم، واسطہ اور مومن کے قلب کو ایمان کی تازگی بخش دینے والے اشعار مرتب ملتے ہیں۔ جیسے اس سلام میں سے ایک شعر دیکھیں کہ:

اک انتہا کا راز ہے سجدہ حسینؑ کا
اک راز کا آغاز ہے سجدہ حسینؑ کا

اسی طرح دوسرے سلام میں سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں کہ:

کیا کیا کھلے ہیں راز کربل کی ریت پر
کیسا عظیم فلسفہ مولا حسینؑ ہیں

اسی طرح آپ نے بیشمار ایسے اشعار ہیں جو آپکے کلاموں میں شامل ہیں اور اہل بیتؑ، پاک بیبیوںؑ اور امام زمانہؑ کے ذکر، فکر، محبت اور غم میں لبریز ملتے ہیں۔
مزید آگے اس تصنیف میں فہرست کے حساب سے غزلیات سلسلہ چل نکلتا ہے جس میں آپکی ہر ایک غزل اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتی ہے۔ اسی طرح آگے چل کر قطعات، چو مصرعے اور نظمیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اشاعتی ادارے اور جناب شاعر کی ہم آہنگی سے مرتب شعری مواد کی تقسیم بہت خوبصورت اور احسن طور سے کی گئی ہے۔ شعری مواد کی یہ ترتیب و تقسیم، جنابِ شاعر کی سادگی، سلاست اور انداز ادب اسقدر بہترین ہے کہ قاری کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر کر اسے مسحور کر دیتا ہے۔ آپکی ایک یہ خصوصیت بھی آپکو ممتاز کرتی ہے کہ آپکی شاعری میں زیادہ پختہ الفاظ نہیں ہوتے، آپ نہایت آسان اور سادہ اردو الفاظ کو تخیل اور کیفیت کا لبادہ پہنا کر قلمبند کرتے ہیں جسے پڑھنے والا ہر قاری نہایت آسانی سے سمجھ جاتا ہے اور اسی آسانی کے پیش نظر قاری شاعری کی گہرائی میں مکمل ڈوب جاتا ہے۔
چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

یہ اونچ نیچ ہے اپنے ہی طور سے ظاہر
وگرنہ عبد کو میں کم نسل نہیں کہتا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے