#کالم

عید کی خوشیوں کو کیسے منائیں

Untitled 7

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

عید کا دن صرف نئے کپڑوں اور میٹھے کھانوں کا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹ کر دل و دماغ میں سچی مسرت اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ عید کا حقیقی لطف تب آتا ہے جب ہم اپنے پیاروں، اہل خانہ اور ضرورت مندوں کے دلوں میں خوشی کی روشنی بھرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشی صرف اپنی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی مسرت پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
سب سے پہلے والدین کی خوشی کو مقدم رکھیں۔ والدین کی خدمت اور ان کی خوشی کے لیے خصوصی توجہ دینا عید کی سب سے بڑی برکت ہے۔ اپنے والدین کے لیے نئے کپڑے خریدیں، ان کی پسند کا خیال رکھیں اور دل سے ان کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ والدین کی خوشی اور دعائیں ہمارے لیے سب سے بڑی نعمت ہیں، اور ان کی خوشیوں میں شریک ہونا دل کو سکون اور ذہنی مسرت دیتا ہے۔ عید کی خوشیوں کا آغاز والدین کی خدمت اور احترام سے کریں، کیونکہ یہی حقیقی برکت کا سبب بنتا ہے۔
اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی عید کی خوشی لازمی ہے۔ اپنے لیے نئے کپڑے خریدیں، بچوں کے لیے تحائف اور نئے لباس کا انتخاب کریں، اور بیوی کے لیے بھی کچھ خاص تحفہ منتخب کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں گھر کے ماحول میں محبت اور مسرت بھرتی ہیں۔ لیکن خوشی کو مکمل کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کریں۔
اگر کپڑے خریدیں تو ایک اضافی سوٹ کسی غریب یا محتاج کے لیے رکھیں۔ کھانا بنائیں تو ایک ڈش کسی ضرورت مند کے گھر بھیجیں۔ محلے میں یا جاننے والوں میں اگر کوئی غریب خاندان یا یتیم بچے ہیں، تو ان کے لیے عید کے دن اچھا سا کھانا بھیجیں۔ بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدیں، تاکہ ان کی خوشی اور مسکراہٹ آپ کے دل کو بھی سکون دے۔ یقین کریں، دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے سے دلی اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے، جو خود کی خوشی سے کہیں زیادہ اثر رکھتا ہے۔
عید صرف اپنی خوشیوں کا دن نہیں بلکہ صدقہ اور خیرات کا موقع بھی ہے۔ بیوہ یا طلاق یافتہ عورت، یتیم بچے یا کوئی محتاج جو ہمارے دائرہ زندگی میں ہو، اس کی مدد کرنا نہ بھولیں۔ یہ عمل نہ صرف دوسروں کی زندگی میں خوشی پیدا کرتا ہے بلکہ ہمارے دل کو بھی نرم اور ہمدرد بناتا ہے۔ اس مہینے میں خیرات، صدقہ اور نیکی کا عمل عید کی خوشیوں کو بامعنی بناتا ہے۔
کھانے اور تحائف میں اعتدال رکھیں۔ ایک دن میں چار پانچ مختلف کھانے پکانے یا فضول خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سادہ اور بامعنی انداز میں خوشیاں بانٹیں۔ اگر کھانا بنائیں تو ایک حصہ کسی محتاج یا غریب کے لیے الگ رکھیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کی خوشی میں اضافہ ہوگا بلکہ ضرورت مند کے دل میں بھی خوشی کی لہر دوڑے گی۔
عید کا اصل مزہ محبت، بھائی چارہ اور ہم آہنگی میں ہے۔ محلے میں سب سے ملاقات کریں، سلام دعا کریں، اور اپنی خوشیوں میں سب کو شامل کریں۔ والدین، بچوں، بیوی، یتیم، بیوہ اور محتاج سب کی خوشیوں میں حصہ ڈالیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس سے عید واقعی عید لگتی ہے۔
عید ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خوشی صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونا اصل برکت ہے۔ اگر ہم دل سے دوسروں کی مدد کریں، ضرورت مندوں کو مسرور کریں اور اپنی خوشیوں کو بانٹیں، تو دل کو سکون، دماغ کو راحت اور روح کو خوشی ملتی ہے۔
یہ دن ہمیں شکرگزاری اور اعتدال کا درس بھی دیتا ہے۔ اپنے پاس موجود نعمتوں کو سمجھیں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔ عید کی خوشیوں میں نہ صرف اپنے گھر کو خوشی سے بھریں بلکہ دوسروں کی زندگی میں بھی روشنی اور امید پیدا کریں۔ یہ عمل نہ صرف آپ کو روحانی سکون دیتا ہے بلکہ معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
عید کے دن بچوں کی خوشیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے لیے نئے کپڑے اور چھوٹے تحائف خریدیں، تاکہ ان کے دل میں خوشی اور محبت کی لہر دوڑے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی مسکراہٹ میں شریک ہونا اور انہیں دوسروں کی مدد کے جذبے سے واقف کرانا بھی عید کی اصل روح ہے۔
اسی طرح، اگر ہمارے ارد گرد کوئی محتاج، یتیم یا بیوہ ہے، تو انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ نئے کپڑے، کھانا یا ضروری سامان انہیں دیں۔ یہ عمل نہ صرف دوسروں کی زندگی میں خوشی لاتا ہے بلکہ ہمارے دل اور روح کو بھی پاکیزگی اور سکون عطا کرتا ہے۔
عید کی اصل خوشی مال و دولت کے دکھاوا یا فضول خرچی میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، محبت، شکر اور دوسروں کے لیے نیکی کرنے میں ہے۔ جب ہم اپنی خوشیوں میں سب کو شریک کرتے ہیں، تو دل میں سکون، ذہن میں راحت اور روح میں مسرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی عید کی حقیقی برکت ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے