صدر ٹرمپ : ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
ٹرمپ امریکی تاریخ کے امیر ترین صدر ہیں کیونکہ ان کے اثاثہ جات کی مالیت مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 7 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے جب کہ ان کے فوراً بعد جارج واشنگٹن ، تھامس جیفرسن اور بل کلنٹن چھ سو ملین ڈالر سے کم اثاثوں کے مالک ہیں ۔ ٹرمپ صاحب کے اتنے امیر ہونے کے حوالے سے خود امریکی تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینکس نے ان کے دوبار صدر منتخب ہونے کو اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ ان میں سینیٹر الیکس پیڈِلا ، برینن سنٹر فار جسٹس ریسرچرز اور برائٹ لائن واچ ایکسپرٹس جیسے معتبر نام شامل ہیں ۔ پھر حال ہی میں نیویارک کے نومنتخب مئیر نے اسی نوعیت کے الزامات کا اعادہ کیا ہے۔
بے پناہ دولت مند شخصیات کی نفسیات کا اپنی غیر معمولی امارت سے متاثر ہونا فطری عمل اور ماہرینِ نفسیات کا محبوب موضوع ہے ۔
ایسے لوگ اپنے ہر جائز و ناجائز اقدام کی سب سے پہلے خود تعریف و توجیہہ کرتے ہیں اور یوں ان کی شخصیت میں پوشیدہ نرگسیت نمایاں ہوتی چلی جاتی ہے ۔خود پسندی و خود توصیفی کے ساتھ وہ اپنے ناپسندیدہ معاصرین اور پیش روؤں کے بیشتر فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے آئندہ فیصلوں اور اقدامات کے لئے عوامی تائید اور پذیرائی کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اپنے گرد ان مشیرانِ باتدبیر کا حلقہ پسند ہوتا ہے جو ان کے ہر فیصلے پر سدا یہی کہیں :
“ حضور ! ہم بھی یہی کہنے والے تھے ۔”
اس کے علاوہ ایسے لوگوں کا غلط اور صحیح عمل پر ردِ عمل تضادات کا مجموعہ بنتا چلا جاتا ہے ۔
ان تمام حقائق، مشاہدات اور عوامل کی روشنی میں ٹرمپ صاحب کا نفسیاتی مطالعہ کیا جائے تو نتائج حیران کن نہیں ہوں گے ۔ فلسطین اور پھر ایران میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں اور بڑوں کے تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں اور ان میں داخل مریضوں پر ہولناک بمباری کرکے انسانی اقدار اور تہذیب کی دھجیاں اڑانے پر خاموش رہنا اور الٹا ہدف بننے والے ممالک کو خود اس کا ذمہ دار ٹھہرانا دنیا کی کس تہذیب اور معاشرت میں جائز سمجھا جاتا ہے ، یہ سوال مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگوں میں بہت زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے اور امریکہ پر اس بابت سیاسی دباؤ بہت بڑھا ہے ۔ تاہم اس ضمن میں گزشتہ ایک ہفتے سے مسٹر ٹرمپ اتنے متضاد اور ، معذرت کے ساتھ ، مضحکہ خیز بیانات دے رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایسا شخص کیسے دنیا کے طاقتور ترین ملک کا سربراہ ہو سکتا ہے ۔ ایک طرف وہ ایران کی فوجی طاقت کو نوے فیصد تباہ کرنے اور ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں تو دوسری طرف چین ، جاپان ، یورپی یونین اور نیٹو کے ممبر ممالک سے گزارش کرتے ہیں کہ آبنائے ہُرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں کیونکہ اب وہ اسی مشن کو “ ٹیم ورک “ کے مرتبے پر فائز کر چکے ہیں جسے کچھ عرصہ پہلے صرف اور صرف امریکہ کی کامیابی گردانتے چلے آ رہے تھے ۔ سترہ اور اٹھارہ مارچ کی درمیانی شب ، وائٹ ہاؤس کے اوول میں میڈیا سے کافی طویل گفتگو کرتے ہوئے وہ واضح طور پر ذہنی الجھن کا شکار دکھائی دینے کے علاوہ کسی بھی سوال کا بالکل براہِ راست جواب دینے سے کتراتے نظر آئے ۔ کیوبا کی بابت امریکی سیاسی پالیسی کے سوال پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا :
It’s a beautiful small island
گو کم و بیش تمام امریکی صدور کا عمومی مکالماتی انداز غیر رسمی ہی ہوتا ہے لیکن سوالوں کے جواب غیر متعلقہ یا غیر سنجیدہ نہیں ہوتے ۔
ان معاملات سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر ٹرمپ عسکری ، سیاسی اور سفارتی سطح پر پسپائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں لیکن اپنے حلیفوں کے خلیجی جنگ میں شرکت سے صاف انکار پر وہ اس خونی سلسلے کی دلدل سے نکلنے کے لیے اپنی انا اور احساسِ برتری کے سبب کوئی باعزت طریقہ ڈھونڈنے کے چکر میں گویا چکرا سے گئے ہیں ۔ اگر یہی سلسلہ رہا تو جدید تاریخ کا اہم ترین سوال یہی ہوگا کہ کیا امریکہ دنیا کی عظیم ترین اور واحد سپر پاور کے سنگھاسن پر ہمیشہ کی طرح براجمان رہ پائے گا ۔ وقت شاید اس بار اس سوال کا جواب جلد دینے کے موڈ میں ہے اور کسی کے عروج و زوال کی داستان یوں رقم کرنے پر تلا ہوا ہے:
بڑھے تھے نخل کی صورت ، گرے شجر کی طرح






