#کالم

جو فقرہ کہنا سکھا گئے — شجاعت ہاشمی۔

Untitled gtyf1

ن و القم۔۔۔مدثر قدیر

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اس باوقار فنکار کی یاد میں جس کی آواز، لہجہ اور تربیت ایک پوری نسل کے لیے دبستان بن گئی۔

"بعض لوگ صرف فنکار نہیں ہوتے، وہ ایک ایسا چراغ ہوتے ہیں جو اپنی روشنی سے دوسروں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ شجاعت ہاشمی بھی انہی چراغوں میں سے ایک تھے۔”
پاکستان کے فنی افق پر کچھ ستارے ایسے ہوتے ہیں جن کی روشنی صرف اسکرین تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کی آواز اور انداز آنے والی نسلوں کے لیے ایک دبستان بن جاتے ہیں۔ شجاعت ہاشمی بھی ایسا ہی معتبر نام تھے۔ ان کی وفات صرف ایک فنکار کا بچھڑنا نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ایک پورے عہد کا اختتام ہے۔ میرے لیے تو یہ ایک ایسا ذاتی خلا ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں۔
مجھے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جن قد آور شخصیات سے براڈکاسٹنگ کے اسرار و رموز سیکھنے کا موقع ملا، وہ سب اپنی جگہ ایک مکمل ادارہ تھیں۔ غیور اختر، ڈاکٹر امجد پرویز، اصغر زیدی، حیدر عباس، خورشید علی اور جمیل فخری جیسی عبقری شخصیات کی فہرست میں شجاعت ہاشمی کا نام ہمیشہ نمایاں رہا۔ ان سب کی صحبت نے میری فنی تربیت کی، مگر شجاعت صاحب کا اندازِ تربیت سب سے منفرد تھا۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مائیکروفون پر صرف بولنا کافی نہیں ہوتا، اصل کمال فقرہ کہنا ہے۔ ان کے نزدیک فقرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے زمانے، حالات اور احساسات کی پوری کہانی ہوتی ہے۔ کسی جملے کو کس ٹھہراؤ اور کس لہجے میں ادا کیا جائے کہ وہ سننے والے کے دل و دماغ میں اتر جائے، یہ فن میں نے انہی کی شاگردی میں سیکھا۔
میرا اور شجاعت صاحب کا ساتھ 1992 میں شروع ہوا جب ایک ریڈیو ڈرامے کے دوران مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز ملا۔ وہ دن آج بھی یادوں میں تازہ ہیں جب وہ ریڈیو پر اپنا پروگرام کرتے اور میں بھی اسٹوڈیوز میں موجود ہوتا۔ وہاں چاچا اعجاز بھی ہوا کرتے تھے جو موسیقی کے حوالے سے غیر معمولی یادداشت رکھتے تھے۔
اسٹوڈیو میں جب کسی ایسے نغمے کا ذکر چھڑتا جو برسوں سے ریڈیو کے آواز خزینہ میں محفوظ ہوتا، تو چاچا اعجاز اسے ڈھونڈ نکالتے۔ شجاعت صاحب اس گیت کا تعارف اپنے مخصوص کھنکتے ہوئے لہجے میں کرتے اور یوں محسوس ہوتا جیسے برسوں پرانی آواز ایک بار پھر زندہ ہو کر آن ائیر ہو گئی ہو۔ وہ لمحے آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں کہ کیسے ایک فنکار دوسرے فنکار کی تخلیق کو اپنی آواز سے نئی زندگی دے دیتا تھا۔
شجاعت ہاشمی صاحب سے میری ملاقاتیں صرف اسٹوڈیو تک محدود نہیں تھیں۔ وہ ہمدرد فورم کے بچوں کے پروگراموں میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے اور ہم ان کی گفتگو بڑے انہماک سے سنتے۔ اسی طرح نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پروگراموں میں جب وہ نظامت کرتے تو ہم برادرِ کلاں شاہد رشید صاحب کے مہمان ہوتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جو میرے بچپن سے جوانی تک کی یادوں کا حصہ بن گیا، جہاں میں نے انہیں صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک شفیق اور نظریاتی بزرگ کے طور پر دیکھا۔
2014 میں جب میں ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور گیسٹ پروڈیوسر وابستہ ہوا تو انہوں نے میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اسی دوران ڈاکٹر امجد پرویز کے ساتھ ریڈیو پر ایک نیا پروگرام “فن اور فنکار” شروع کیا گیا جس میں فنکاروں کی زندگی اور فن پر گفتگو ہوتی تھی۔ ایسے مواقع پر شجاعت صاحب اکثر رات کے آخری پہر ہماری محفل کا حصہ بنتے اور اپنی یادوں اور تجربات سے گفتگو کو چار چاند لگا دیتے۔
میرے لیے ان کا بچھڑنا کچھ ویسا ہی دکھ ہے جیسا اپنے بزرگ خواجہ پرویز صاحب کے انتقال پر محسوس ہوا تھا۔ وہ میری ایک فون کال پر دستیاب ہوتے اور ہمیشہ دعاؤں سے نوازتے۔
شجاعت ہاشمی کے بارے میں ان کے ہم عصروں کے تاثرات بھی ان کی شخصیت اور فن کا اعتراف ہیں۔ معروف اداکار پرویز رضا کے مطابق شجاعت ہاشمی ان چند فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے کبھی کام کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ڈسپلن کے معاملے میں جونیئرز کے لیے ایک اکیڈمی تھے۔ ممتاز صحافی اور دانشور ناصر نقوی کہتے ہیں کہ شجاعت ہاشمی کی آواز میں جو رعب اور اردو و پنجابی لہجوں پر جو گرفت تھی، وہ ان کا خاصہ تھی اور انہوں نے ریڈیو کی کلاسیکی روایت کو ٹیلی ویژن تک منتقل کیا۔
ان کے ہم عصر فنکار بھی انہیں ایک خاموش مگر باوقار مجاہد قرار دیتے ہیں جس نے گارڈن کالج راولپنڈی سے لاہور تک کے سفر میں ہمیشہ اپنی جڑوں کو یاد رکھا۔
اگر ان کے اداکاری کے سفر کی بات کی جائے تو ڈرامہ وارث کا کردار مولا داد آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ان کے مکالمے اور اندازِ اداکاری نے اس کردار کو لازوال بنا دیا۔ اسی طرح فلمیں کورا کاغذ، ضمانت اور شیر خان ان کی ہمہ جہت فنکاری کی گواہی دیتی ہیں۔
فلم کورا کاغذ کا ایک گیت
"اک نئے موڑ پہ لے آئے ہیں حالات مجھے”
آج ان کی رحلت کے بعد ان کی زندگی کی کہانی کا عکس محسوس ہوتا ہے۔
شجاعت ہاشمی صرف ایک فنکار نہیں تھے، وہ فقرہ کہنے کے فن کی ایک زندہ اکیڈمی تھے۔
آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی آواز، ان کا انداز اور ان کے سکھائے ہوئے فقرے اب بھی زندہ ہیں۔ کچھ لوگ اپنی زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ اپنے فن کے ذریعے زمانوں تک زندہ رہتے ہیں۔ شجاعت ہاشمی بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔
“کچھ آوازیں وقت کی گرد میں کھو نہیں جاتیں، وہ اپنے شاگردوں، اپنے سامعین اور اپنی روایت میں زندہ رہتی ہیں۔ شجاعت ہاشمی بھی ایسی ہی ایک آواز تھے جو خاموش ہو کر بھی سنائی دیتی رہے گی۔”
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی یادوں اور سکھائے ہوئے فن کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے