#بغیر زُمرہ

بسنت کا تہوار یا دو دھاری تلوار

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

پنجاب کی موجودہ وزیرِ اعلیٰ صاحبہ نے ستھرا پنجاب منصوبے پر متعدد قلیل اور طویل المعیاد منصوبے شروع کیے ہیں جن میں سے کچھ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کئی زیرِ تکمیل ہیں ۔ اس بابت سب سے قابلِ ستائش پانی کے چھڑکاؤ کی مہم تھی جس کے نتیجے میں سموگ گزشتہ اور اس سال اتنی شدید نہیں تھی جتنی گزشتہ کئی سالوں سے چلی آ رہی تھی ۔ اس طرح کے اقدامات سے عوام میں احساسِ ذمہ داری بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ بھی مقامی سطح پر دن میں دو تین بار یہی عمل دہرا کر ماحولیاتی آلودگی میں کمی لا سکتے ہیں ۔ تاہم دیانت دارانہ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کیا جائے ۔ لاہور میں جاری نکاسیِ آب کے منصوبوں پر کئی ماہ سے جاری کام کی رفتار تیز تر کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان منصوبوں سے بھی مٹی کے ذرات ہوا میں معلق رہ کر آلودگی کے خلاف مہم کی کامیابی کی شرح کو متاثر کرتے ہیں ۔
سال 2026 کے لیے اچانک پنجاب میں بسنت کے تہوار کا اعلان کیا گیا جسے سن کر جہاں بے شمار لوگوں نے اس کی پذیرائی کی وہیں بسنت سے جُڑے ماضی کے کٹیر تعداد میں ہونے والے خون آلود واقعات کی جانب بھی حساس اور باشعور افراد کا دھیان جانا لامحالہ تھا۔ اس معاملے سے متعلق کچھ بہت اہم اور تلخ سوالات کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے سانحات کے ارادے کا سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ ہماری ترجیحات میں سماجی و معاشی ترقی کے بھرپور منصوبوں پر توجہ دینا ہے یا بسنت جیسے تہوار کو ثقافتی شناخت کی علامت گردانتے ہوئے ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں لوگوں کو فضول خرچی کی راہ دکھانا واقعی زیادہ ضروری ہے ؟ کیا بسنت پر لاکھوں روپے اڑانے کی بجائے صاحبِ ثروت اصحاب کو اپنے آس پاس بکھرے غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کے ستائے لاکھوں گھرانوں کی مالی معاونت کی ترغیب دینا احسن اور افضل عمل نہ ہوگا ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ ماضی میں اس تہوار سے منسلک ہولناک حادثے کیا لوگوں کے ذہن سے محو ہو چکے ہیں ؟ ماضی میں بھی پنجاب کی حکومتوں نے دعوے کیے تھے کہ ممنوعہ کیمیائی ڈور کے استعمال پر پابندی کو یقینی بنایا جائے گا لیکن اس کے باوجود زندہ دلی کے نام پر اس قاتل ڈور نے کئی گھرانوں میں صفِ ماتم بچھانے کا اہتمام جاری رکھا۔ابھی ہمیں اس منزل تک پہنچنا ہے جہاں تمام ادارے کسی خودکار میکنزم کے تحت قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے چاہے متعلقہ افراد کتنے ہی بااثر ہوں ۔اس وقت ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آچکی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے شیر جیسے وحشی جانوروں کو نجانے کس لیے کچھ لوگوں نے پال رکھا ہے اور اس ضمن میں کچھ ایسے سانحات رپورٹ ہوئے ہیں جنھیں لکھتے ہوئے قلم لرزتا ہے۔ شاید ان لوگوں کو بھی اپنے آس پاس بھوک اور افلاس کا شکار “ انسان “ نظر نہیں آتے جو وہ اتنے بڑے جانور پال کر مسلسل ان کی بھوک مٹانے کو تیار رہتے ہیں ۔ شکر ہے ایسے تمام جانور ضبط کیے جا رہے ہیں ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ایک مقروض ملک میں اس طرح کے خوں خوار درندے رکھنے کا لائسنس ہی کیوں جاری کیا جاتا ہے۔
ایک حفاظتی آلے کے طور پر لاکھوں کے حساب سے موٹر سائیکل چلانے والے افراد کو حفاظتی راڈ لگانے کی مد میں اچھی خاصی رقم صرف اس لیے خرچ کی جا رہی ہے کہ
ہم بسنت نامی تہوار کا احیائے نو کرنا چاہتے ہیں ۔
تیسرا سوال یہ بنتا ہے کہ اربابِ اقتدار کو عصری سیاسی صورتحال کا مکمل ادراک ہے اور ان کے علم میں یہ بات بھی ہوگی کہ اپوزیشن نے تمام پتنگوں پر اپنے محبوب رہنما کی تصویر اور 804 کا معنی خیز ہندسہ چھپوانے کا انتظام کر رکھا ہے اور آٹھ فروری کو بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کر چکی ہے ۔کیا موجودہ حکومت خود ہی اپوزیشن کی مقبولیت میں اضافے کا سامان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
ایسے حالات میں معمولاتِ زندگی بہت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور بگڑی صورتحال طویل ہونا بھی خارج از امکان نہیں ۔
یہ تمام زمینی حقائق ذہن میں رکھتے ہوئے یہ یاد رکھنا بھی بے حد اہم ہے کہ اب سوشل میڈیا سنسنی خیزی پھیلانے کے اضافی ہتھیار کے طور پر سب کو دستیاب ہے ۔ پہلے ہی اس پر غلیظ زبان اور خوفناک مناظر کی بوچھاڑ نے ثقافتی آلودگی میں اضافہ کر رکھا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی نظر آتا ہے کہ بسنت منانے پر چند عشروں سے جاری پابندی برقرار رکھی جائے تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعات کا امکان ہی باقی نہ رہے ۔ اللہ ہمارے ملک کو جملہ حادثات و سانحات سے محفوظ رکھے ۔

بسنت کا تہوار یا دو دھاری تلوار

بند رشہر کے اندر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے