#کالم

بند رشہر کے اندر

Untitled 5

تحریر :۔ جاویدایازخان  احساس کے انداز 

خبر کے مطابق  گذشتہ اتوار تقریبا” گیارہ بجے بہاولپور چڑیا گھر (شیر باغ )کے پنجرے سے پانچ  بندر فرار ہوکر  باہر نکلے اور درختوں ،موبائل فون کے ٹاور  کے علاوہ ایک بندر قریبی شہری علاقے تک پہنچ گیا ۔ شیر باغ یعنی چڑیا گھر میں اتوار کادن بڑا اہم اور رش کا دن ہوتا ہے اور دور دراز سے اسکول کے بچے یہاں ٹرپ لے کر تفریح کے لیے آتے ہیں اس لیے یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ایک شور سا مچ گیا ۔چڑیا گھر میں موجود   لوگوں اور  بچوں کا شور اوربندروں کو کھلا دیکھ کر ان کی   خوشی تو اس وائرل ہونے والی  ویڈیو میں ہی دیکھنے کے قابل تھی ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ان میں سے  ہی ایک بندر دیوار پھلانگ کر محلہ ٹاہلی والا سے محلہ مبارک پورہ  کی گلیوں سے گزرتا ہوا بچوں کے ہجوم سے نکل کر ایک گھر میں جاپہنچا گھر کے بچوں نے اسے کسی طریقے سے ایک کمرے میں بند کردیا اور عملے کو اطلاع دے کر پکڑوا دیا گیا ۔اور ایسے ہی باقی بندر بھی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد دوبارہ پکڑ کر پنجرے میں بند کر دئے گئے ۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق فرار بندر وں نے درختوں اور موبائل ٹاور   پر چڑھ کرخوب اچھل کود مچائی ۔تین شرارتی بندروں کو چڑیا گھر کے احاطے سے درختوں اور موبائل ٹاور سے پکڑلیا گیا اور باقی دو بھی مختلف جگہوں سے پکڑے جاچکے ہیں۔لوگ تو  خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ یہ "بندر "ہی فرار ہوۓ ورنہ اگر کوئی خونخوار جانور  ہوتا تو کوئی بڑا نقصان کر سکتا تھا ۔یقینا”اس مبینہ  غفلت کے ذمہداران کا تعین کرکے ان کے خلاف ضرور کاروائی کی جاۓ گی ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی وائلڈ لائف اور چڑیا گھر کا عملہ ،پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر وہاں پہنچ گیں  اور مشترکہ آپریشن کرکے ان پر قابو پالیا گیا ۔البتہ دو افراد کےمعمولی زخمی ہونے کی اطلاع بھی آئی ہے ۔یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ سال اپریل میں گوجرانوالہ میں بھی ایک نجی چڑیا گھر سے آٹھ بندر فرار ہوۓ تھے ۔ ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے بازاروں میں بھی جنگلی  بندر اکثر آجاتے ہیں ۔بندروں کے فرار کا ایک واقعہ چند سال قبل کراچی میں بھی سامنے آچکا ہے اور بہاولپورکے اسی  چڑیا گھر میں چند سال قبل ایک المناک واقعہ میں جنگلے کے اندر شیر کے ہاتھوں ایک انسانی جان بھی ضائع ہو چکی ہے ۔بندروں کے فرار کا یہ نیا  واقعہ کسی  فرد واحد کی غلطی نہیں بلکہ مجموعی نظامی ناکامی کی جانب ایک اشارہ ہے جہاں قانون کاغذ پر ،نگرانی کمزور ،غفلت ولاپرواہی اور نمائش کا شوق انسانی جانوں پر غالب آجاتا ہے ۔

گذشتہ روز لاہور  علامہ اقبل ٹاون کے قریب  کچی آبادی میں پالتو  شیرنی کے حملے سے ایک آٹھ سالہ بچی کے زخمی ہونے کی خبر بھی آئی تھی جس کے نتیجے میں بچی کے سر ،کان اور ٹانگ پر شدید زخم آۓ تھے جسے فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔لاہور  کے علاقے سبزہ زار میں بھی شیر کے حملے میں زخمی ہونے والے بچے کا بازو ہسپتال میں کاٹنا پڑا ۔ایسی ہی ایک اطلاع فیصل آباد سے بھی سننے کوملی تھی اور اس طرح کی کئی خبریں ملک بھر سے سننے اور پڑھنے میں آچکی ہیں جہاں پالتو شیروں کی نمائش کی جاتی ہے بلکہ کچھ لوگ سرکس کے کھلے میدان میں ان کے کرتب دکھاتے ہیں ۔بہت سے مداری ریچھ اور بندر کا  تماشا دکھانے کے لیے انہیں ساتھ لیے پھرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں نے شوقیہ نجی چڑیا گھر بھی بنا رکھے ہیں اور شیر چیتوں اور دیگر جنگلی جانوروں کو طاقت ،رعب یا سوشل اسٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ایسے ہی ہمارے  بہت سے شہروں میں اکثر آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں ۔ایسے واقعات ہمیشہ طے شدہ حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی باعث جنم لیتے ہیں ۔مگر  کاروائی اور انکوئری کے باوجود نظامی اصلاح دیکھنے میں نہیں آسکی ۔بہاولپور کے چڑیا گھر میں متواتر واقعات کے باوجود جانوروں کی حفاظت کے مناسب انتظامات نہ ہونا چڑیا گھر کی  انتظامیہ پر ایک سوالیہ نشان ضرور ہے ۔ناکافی سیکیورٹی ،ناقص انتظام ،غفلت اور کرپشن دراصل جانوروں کے فرار کا سبب بنتی ہے اور قیمت عام شہری کو ادا کرنی پڑتی ہے ۔

انہیں محض معمولی  واقعات نہ سمجھا جاۓ یہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ جنگلی جانور کا چڑیا گھر سے فرار ہو جانا یا پالتو شیروں کا سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں آنکلنا دونوں صورتیں ہمارےوائلڈ لائف کے نظام نگرانی ،قانون کے نفاذ اور اجتماعی شعور پر سنگین سوال اٹھاتی ہیں ۔جنگلی جانور قید میں ہوں یا نجی ملکیت میں ہوں ان کی فطرت نہیں بدلتی اور ایک لمحے کی غفلت انسانی جانوں ،خصوصا” چھوٹے بچوں کے لیے جان لیوا  یا خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔یہ معاملہ سنسنی خیزی کا  نہیں احساس  ذمہ داری کا بھی ہے ۔جب جنگلی فطرت کا تماشا بنادیا جاۓ تو حادثہ محض وقت کی بات بن کر رہ جاتا ہے ۔یاد رہے کہ جنگلی فطرت کو پنجرے ،فارم ہاوس یا نمائش سے مہذب نہیں بنایا جاسکتا۔لاہور میں پالتو شیر کا سڑک پر آجانا ہو یا اسلام ٓباد و راولپنڈی میں شادیوں اورسوشل میڈیا پر شیروں کی نمائش ہو یا پھر کسی چڑیا گھر میں حفاظتی نقائص موجود ہوں یہ سب واقعات الگ الگ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ کاروائی کا شور ہمیشہ کسی حادثے کے بعد ہی کیوں سنائی دیتا ہے ؟ 

یہ تو بڑی خیر ہوئی کہ وہ بندر ہی  تھے کوئی بڑا نقصان سامنے نہیں آیا ۔مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیا ان کی بجاۓ اگر کوئی خون خوار جانور باہر نکل جاۓ تو اس کے نقصان  کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ یہ بھی یاد رہے کہ ایسے واقعات کے بعد عموما” جانور مار دئیے جاتے ہیں ۔حالانکہ قصور جانور کا نہیں بلکہ انسانی غفلت ،لالچ ،لاپراوہی اور شوق کا ہوتا ہے ۔ذمہ دار معاشرۓ جنگلی جانور وں کو تماشہ نہیں بناتے نہ ہی انہیں شہری زندگی میں گھسیٹتے ہیں ۔اصل مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں وہ تو موجود ہیں تاہم عملدرآمد کی کمزوری ایسے واقعات کو جنم دیتی ہے۔حفاطتی انتظامات ،رجسٹریشن ،باقاعدہ انسپیکشن ،مائیکرووچپنگ اور زیرو ٹالرنس جیسے اقدامات سنائی تو دیتے ہیں دکھائی نہیں دیتے ۔چڑیا گھروں میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کے ساتھ ساتھ اب وقت ہےکہ ریاست سختی سے موجودہ قانون پر عملدرآمد کراۓ اور عوام بھی یہ سمجھیں کہ جنگلی جانور پالتو نہیں ہوتے اور طاقت اور نمائش کی ذہنیت کو ترک کیاجاۓ ورنہ انسانی جانوں کے لیے خطرات موجود رہیں گے ۔امید ہے کہ موجودہ حکومت ایسے واقعات کا فوری نوٹس لے کر ایک سخت ترین کریک ڈاون کا آغاز کرۓ گی ۔غفلت برتنے والے ملازمین اور افسران کے خلاف سخت کاروائی بھی عمل میں لائی جاۓ گی ۔خصوصی طور پر پنجاب حکومت پہلے ہی پالتو جانور تک شہر سے باہر منتقل کرنے کے احکامات جاری کرچکی ہے ۔جو ایک مثبت اور اچھا فیصلہ ہے ۔امید ہے کہ عیدالضحیٰ پر بھی قربانی کے جانور خریدنے ،رکھنے اور ذبحہ کرنے کے لیےدیگر ممالک کی طرح شہری آبادیوں سے دور الگ اور کھلی جگہ پر مناسب انتطامات کی تجویز پر غور کیا جاۓ گا ۔

بند رشہر کے اندر

28/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے