امریکہ ‘ ایران تنازعہ اور عرب ممالک کا کردار
أج کا اداریہ
Iامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایک بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلےگا۔
امریکی صدر نے آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، ایران میں فوجی کارروائی میں کوئی بھی شہری نہیں ماراگیا،امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلےگا۔
جبکہ امریکہ کی جنگی مشقوں اور بحری بیڑے کی مشرقی وسطیٰ آمد کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے فوجی مشقوں کے تناظر میں فضائی حدود کا نوٹم جاری کر دیا ہے۔ نوٹم میں کہا گیاکہ آبنائے ہرمز کے اطراف پرواز 27 تا 29 جنوری تک 25 ہزار فٹ سے نیچے نہ کی جائیں۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ یہ مشقیں 9 کلو میٹر کی حدود میں ہوں گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایک بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلےگا۔
امریکی صدر نے آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، ایران میں فوجی کارروائی میں کوئی بھی شہری نہیں ماراگیا،امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلےگا۔
امریکی صدر نے تقریب سے خطاب کے دوران وسط مدتی انتخابات کیلئے مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا۔
ٹرمپ نےکہا کہ آج سے وسط مدتی انتخاب کی مہم شروع کررہے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیاکہ وہ وسط مدتی انتخابات با آسانی جیت جائیں گے، ساتھ یہ بھی کہاکہ انتخابات ہارنے کی صورت میں امریکا بہت کچھ کھودے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایک سال پہلے امریکا میں تاریخی منہگائی تھی، آج امریکی معیشت مستحکم ہورہی ہے، منہگائی کم ہے، امریکا آج سرمایہ کاروں کیلئے محفوظ ملک ہے، ایک سال کے دوران سرمایہ کاری کا حجم 18 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ سرحدوں کوغیرقانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بندکردیا ہے، امریکاکی جتنی عزت اب دنیا میں ہے پہلے کبھی نہیں تھی
ادھر پاسدران انقلاب نے بھی دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو حملہ کریں گے۔
پاسدران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، جنگ کا فیصلہ تو میدان میں ہوگا
امریکہ ‘ ایران کشیدگی کے دوران ہی اسرائیلی وزیراعظم کا بیان سامنے ایاہے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
نیتن یاہو نےکہا کہ ایران حملہ کرنے کی غلطی نہ کرے ، اگر ایران نے حملہ کیا تو ہم بھرپور ، طاقتور اور پوری قوت سے جواب دیں گے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دینے سے متعلق باتیں ہورہی ہیں تاہم ایسا نہ پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔
ادھر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایران کیخلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ھونے دینے کی بات کی ہے
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، اس دوارن خطےکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مستردکرتاہے۔ ایران کیخلاف زمین یافضا استعمال ہونےنہیں دی جائےگی۔
اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نےہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنےکی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور ایران اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکاکی دھمکیاں اور نفسیاتی حربےخطےکی سلامتی کو نقصان پہنچانےکے لیے ہیں۔
ایرانی صدرکا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کا اتحاد خطے میں پائیدار سلامتی، استحکام اور امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی کچھ اسی قسم کی بات کی ہے۔ اپنی زمینی و فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کا بیان ایسے موقع پر سامنے ایا ھے جب امکان سامنے ارہاہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کااارادہ رکھتا ہے جسکے لیے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر نقل وحرکت دیکہی گئی ۔
خیال رہےکہ امریکی فوج کا یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔
یہ بحری بیڑا ایک ایسے وقت میں خطے میں تعینات کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں ایرانی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔اگرچہ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گئے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔






