رزق ۔ دعا اور شکر
شکیل گوندل
میں کیلا کھانے لگا کہ خیال آ گیا کہ اللہ رب العزت ہر ذی روح کو بے حساب رزق عطا فرماتے ہیں۔ میں نے جب غور کیا تو خیال آیا کہ ماشاء اللہ ہمارے گھر میں ہر ماہ قریبا دو درجن کیلا تو آتا ہی ہے جن میں سے کم از کم چھ کیلے تو دو دن میں راقم کو کھانے کے لیئے ضرور
ملتے ہیں۔مزید سوچا تو خیال آیا کہ گھر سے باہر اسلام آباد سے راولپنڈی جائیں تو صرف کیلے کی ریڑھیاں اور لوڈر رکشے سو کے قریب ہونگے اسی طرح فروٹ کی دکانیں بھی بے شمار ہونگی۔چونکہ بات صرف کیلے کی ہی ہو رہی ہے اسلئے اندازہ کریں کہ روزانہ کیلے کی ایک بہت ہی وافر مقدار سندھ سے پورے ملک کے لیئے آ رھی ہے جس کا کوئی حساب نہں ہے مگر اللہ کریم عطا فرمائے جا رہے ہیں اور ہم کھائے چلے جا رہے ہیں۔یہ تو بات تھی کیلے کی جبکہ تمام نعمتوں کی فراوانی اللہ کریم کے فضل سے اسی طرح ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا بھر میں تمام نعمتیں اسی طرح بغیر حساب کتاب کے نوازتے جا رہے ہیں۔
آپ ایک منٹ کے لیئے سوچیں کہ آج صبح سے شام تک کیا کیا اور کتنا کتنا کھایا ہے۔اب اسکو اپنی عمر کے دنوں سے ضرب دیں تو اشیاء کی مقدار دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے گی کیا کوئی بندہ کسی کو اسطرح خوراک اور باقی ضروریات دے سکتا ہے؟ آپ کا جواب یقینا نفی میں ہو گا۔
اللہ رب العزت تمام ذی روحوں کو اسی طرح بے حساب نواز رہے ہیں حتیٰ کہ پتھر کے اندر کیڑے کو بھی روزی عطا فرما رہے ہیں۔(سورہ ہود کی ایت نمبر 6 کی تفسیر)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کریم کے وہ نبی تھے جن کی بے شمار خوبیاں اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں فرما دی ہیں ۔مثلا بے حد دلیر اور حق گو تھے کہ اسوقت تکبر اور طاقت میں دہشت کی علامت بنے ہوئے حکمران کو بھرے دربار میں جرات سے کلمئہ حق کی دعوت دے دی مزید یہ بھی ان کی دلیری اور ہمت تھی کہ کوہ طور کے بلند و بالا آبادی سے بہت دور پہاڑ پر اکیلے جانا اور احکامات الہٰی موصول کرنا۔ ذہین اتنے تھے کہ اللہ کریم سے احکامات لینے تن تنہا بلند و بالا اور آبادی سے بہت دور پہاڑ کوہ طور پر اکیلے تشریف لے جایا کرتے تھے۔
اللہ کریم ان سے اس قدر پیار فرماتے تھے کہ انکی ولادت کے وقت فرعون نجومیوں کے بتائے ہوئے خطرے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو مروا ڈالتا مبادا کہ اسکی بادشاہت کے لیئے خطرہ نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر فرعون پر حاوی ہوئی اور آئندہ اسکے تخت و تاج کے لیئے خطرہ بننے والا بچہ اسی کے محل میں پلنے لگا۔ آپ بہادر اور دلیر اتنے تھے کیونکہ اللہ کریم کی تدبیر سب سے اعلیٰ ہی ثابت ہوئی۔ کہ ان کے مکے سے ایک آدمی مر گیا۔ ( سورت ال عمران ایت نمبر 53-54)(سورت القصص ایت نمبر 21)۔ آپ حیا دار اتنے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی جوان بیٹیوں کو اپنے آگے چلانے کے بجائے حیا کی بنا پر انھیں اپنے پیچھے پیچھے آنے کو کہا۔با ہمت اتنے کہ تنہا تھے کہ فرعون کے جادوگروں کو انکے جادوئی نقلی سانپوں کو اپنے عصا سے ختم کرا دیا۔ جلالی اتنے تھے کہ کوہ طور سے چالیس دن بعد واپسی پر قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھ کر جلال سے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو ڈاڑھی سے پکڑ کر جھجھوڑا اور سامری جادوگر کو اسکے بچھڑے سمیت جہنم واصل کر دیا۔
بخاری شریف اور مسلم شریف میں مذکور احادیث مبارکہ کے مطابق آپ نے جلال میں آ کر ملک ا لموت کو بھی تھپڑ مار دیا تھا۔
آپ کے حوالے سے بے شمار روایات موجود ہیں۔جیسے ایک چرواہا اللہ کریم کو بشری تقاضوں کا حامل سمجھ کر زمین پر آنے کی صورت میں انسانوں کی طرح اس کی خدمت اور مٹھیاں بھرنے کی خواہش کا اظہار کر رہا تھا۔ آپ نے سنا تو اسے ڈانٹا کہ اللہ کریم ان چیزوں سے بے نیاز ہیں توبہ کرو اور ایسے مت کہو۔کچھ آگے جانے کے بعد آپ پر وحی نازل ہوئی۔اللہ کریم نے فرمایا کہ میرے ایک سادہ دل بندے کا دل آپ نے توڑ دیا ہے اسلئے آپ جا کر اس سے معافی مانگیں۔آپ واپس چرواہے کے پاس اور اس سے معافی مانگی۔
اسی طرح آپ کا ایک امتی آپ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ مجھے ملک الموت نے کہا ہے کہ تمھارا رزق صرف تین دن کا رہ گیا ہے اسکے خاتمے کے بعد تمھاری موت ہو گی۔
حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کریم سے رابطہ فرمایا تو معلوم ہوا کہ واقعی اس بندے کا رزق صرف تین دن کا ہی رہ گیا ہے۔وہ بندہ چلا گیا۔کچھ دنوں بعد وہ بندہ پھر نظر ایا تو پہلے کیطرح اسکے چہرے پر خوف کی بجائے بشاشت اور رونق تھی۔اپ نے پوچھا تمھاری تو تین بعد موت کا مجھے اللہ تعالٰیٰ نے بھی بتایا تھا مگر تم اتنے دنوں بعد بھی زندہ اور ہشاش بشاش ہو اسکی کیا وجہ ہے؟ اس شخص نے کہا میں گھر جا کر دعا کی کہ تین دن بعد مرنا کیوں نہ اپنا تین دن کا رزق اج ہی منگوا کر پیٹ بھر کر کھا لوں جب تین کا رزق مجھ عطا ہوا تو میں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا تو بھی بہت سا بچ گیا میں نے سوچا کہ میرے بعد یوں بھی ضائع ہو جائے گا کیوں نہ اپنے اس پاس ضرورت مندوں کو دے دوں باقی بچا سب رزق میں نے اس پاس مستحق اور ضرورت مندوں کو دے کر موت کے انتظار میں لیٹ گیا اگلے دن اٹھا تو بجائے موت کے پہلے سے بھی زیادہ رزق پڑا تھا۔میں نے پھر سارا اسی طرح غربا اور مستحقین میں تقسیم کر دیا اس دن کے بعد موت تو نہیں ائی مگر روزانہ رزق اجاتا ہے اور میں تقسیم کر دیتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت حیرانگی ہوئی فورا اللہ






