#کالم

بسنت: خوشی کا تہوار یا خطرات کا مجموعہ ؟

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

بسنت برصغیر کی قدیم تہذیبی روایات میں شمار ہونے والا ایک رنگا رنگ تہوار ہے جو موسمِ بہار کی آمد کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔ یہ تہوار ہمیشہ خوشیوں، موسیقی، رنگوں، پتنگوں اور معاشرتی میل جول کی علامت رہا ہے لہذا لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بسنت کبھی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تہوار خوشی کے بجائے خوف، حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کی علامت بنتا چلا گیا۔بسنت کے دوران پتنگ بازی اگرچہ بظاہر ایک بے ضرر تفریح دکھائی دیتی ہے، لیکن کیمیائی ڈور اور دھاتی تاروں کے بے دریغ استعمال نے اسے ایک جان لیوا کھیل میں بدل دیا۔ ماضی میں بسنت کے موقع پر موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے، بچوں اور نوجوانوں کے شدید زخمی ہونے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ سانحات محض حادثات نہیں بلکہ اجتماعی غفلت، لالچ اور قانون شکنی کا نتیجہ تھے۔اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام کو پہنچنے والا نقصان بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ پتنگوں کی ڈوریں بجلی کی تاروں میں الجھ کر ٹرانسفارمرز کے فیوز اڑا دیتی تھیں، جس کے باعث شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ، مالی نقصان اور روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قومی وسائل کو ہونے والا یہ نقصان کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اس سب کے باوجود اگر بسنت کے مثبت پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تہوار ثقافتی سرگرمیوں، سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بھی رہا ہے۔ ماضی میں بسنت کے موقع پر لاہور میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد بڑھتی تھی، جس سے ہوٹل انڈسٹری، دستکاری اور چھوٹے کاروبار کو فائدہ پہنچتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بسنت کی بحالی کی آوازیں وقفے وقفے سے سنائی دیتی ہیں۔اسی تناظر میں موجودہ پنجاب حکومت، بالخصوص وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے بسنت کے تہوار کو ایک بار پھر منظم اور محفوظ انداز میں بحال کرنے کی خواہش سامنے آئی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ نواز شریف صاحب ماضی میں بھی بسنت کو لاہور کی ثقافتی پہچان کے طور پر فروغ دیتے رہے ہیں، جبکہ مریم نواز بطور وزیرِاعلیٰ پنجاب صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کے احیاء پر ذاتی توجہ دیتی نظر آتی ہیں لہذا حکومت کی یہ سوچ بظاہر اس خواہش کا اظہار ہے کہ پنجاب کی ثقافتی روایات کو زندہ رکھا جائے اور عوام کو خوشیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی تلخ حقیقتوں کو نظرانداز کر کے بسنت کی بحالی ممکن ہے؟ اگر اس تہوار کو دوبارہ شروع کرنا ہے تو اس کے لیے محض خواہش یا سیاسی عزم کافی نہیں ہوگا، بلکہ فول پروف قانون سازی، سخت نگرانی، کیمیائی ڈور پر مکمل پابندی اور بلاامتیاز عملدرآمد ناگزیر ہونا چاہئے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب حکومت اس بار “محفوظ بسنت” کے تصور پر غور کر رہی ہے، مگر لازم ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔ اگر حکومت جدید ٹیکنالوجی، محدود مقامات، مخصوص اوقات، سخت سزاؤں اور مؤثر انتظامی اقدامات کے ذریعے خطرات کو حقیقتاً کم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو شاید بسنت ایک بار پھر خوشی کی علامت بن سکے۔
      آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، بلکہ اسے خطرناک بنانے والے عناصر اصل مسئلہ ہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو روایت اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرے۔ مریم نواز اور نواز شریف کے لیے یہ ایک امتحان بھی ہے کہ آیا وہ اس تہوار کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے واقعی محفوظ بنا سکتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ اگر بسنت لوٹنی ہے تو ایسی بسنت جو خوشی بانٹے، جان نہ لے اور یہی کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی ہوگی۔
بسنت: خوشی کا تہوار یا خطرات کا مجموعہ ؟

رزق ۔ دعا اور شکر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے