#کالم

اعتبار ساجد۔۔۔محبت کا آخری شاعر

1200x630

روبرو۔۔۔محمد نوید مرزا

آج صبح سوشل میڈیا پر جس خبر نے مجھ سمیت پوری ادبی برادری کو ہلا کر رکھ دیا،وہ جناب اعتبار ساجد کی وفات کی خبر تھی۔اعتبار ساجد ایک نامور شاعر،ادیب اور ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کی کئی جہتوں میں نمایاں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔انھوں نے مزاح نگاری اور بچوں کے ادب کے لئے اپنا تخلیقی اثاثہ چھوڑا ہے۔
ایک ہمہ جہت کے شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جانے والے اعتبار ساجد کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔یہ ان دنوں کی بات ہے،جب میں اپنے آبائی گھر میں رہتا تھا۔یہ علاقہ سوامی نگر کے نام سے آج تک مشہور ہے۔میں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ یہیں گزارا۔اعتبار ساجد مرحوم اسی علاقے میں چند گلیاں چھوڑ کر رہائش پذیر تھے ان کے بھائی ذوالفقار صاحب بھی ساتھ تھے،جو آخر وقت تک ان کے ساتھ جڑے رہے۔اعتبار ساجد ان دنوں ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ میں مقیم تھے اور لاہور آتے جاتے رہتے تھے۔کبھی کبھار میرے والد صاحب بشیر رحمانی سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ان دنوں بھی وہ بہت معروف تھے۔انھوں نے لاہور سے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ایک ادبی جریدہ پذیرائی بھی شائع کیا۔جس کے کئی شاندار شمارے نکلے۔لیکن پھر وہ پرچہ بند ہو گیا۔
اعتبار ساجد کی کتابوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ان کے شعری مجموعوں میں دستک بند کواڑوں پر،آمد،پورے چاند کی رات،وہی ایک زخم گلاب سا،مجھے کوئی شام ادھار دو،یہ شام تمھارے نام،میرے خط مجھے واپس کر دو،محبت ہو تو ایسی ہو،اتنے تنہا کیوں پھرتے ہو،ہم بھی کسی کا خواب تھے،یہ موسم یوں ہی بیت گیا،محبت پھول جیسی ہے،اک عشق ضروری ہے،مجھےاس قدر نہ چاہو،روز یاد کرتے ہو،کوئی بات کرنی ہے چاند سے،یہ تنہائی مجھے دے دو،سرخ گلابوں کا موسم،وہ سنہری دھوپ کہاں گئی ،ترے انتظار کے شہر میں اور بات مگر اظہار کی ہے۔ان بہت سے مجموعوں میں وہ مجھے محبتوں کی خوشبو سے لبریز شاعر نظر آتے ہیں۔میرے نزدیک تو وہ احمد فراز اور پروین شاکر کے بعد محبت کے آخری شاعر ہیں۔اعتبار ساجد اس عہد میں رومانی شاعر کے حوالے سے مقبول ترین رہے ہیں اور ان کے مجموعے ہاتھوں ہاتھ بکتے ہیں۔خاص طور پر ان کا مجموعہ ،مجھے کوئی شام ادھار دو تو اس قدر شہرت حاصل کر چکا ہے کہ اس کے بیس سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔۔۔محبت کے علاؤہ ان کی شاعری میں عصری مسائل اور دیگر سماجی،سیاسی اور معاشی موضوعات بھی نظر آتے ہیں۔تاہم ان کی بنیادی شناخت محبت کے شاعر ہی کی ہے۔
ایک ادیب کے طور پر بھی انھوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں۔ان کی نثری کتب میں ترمیم،پٹاخے،کارستانیاں،انگور کھٹے ہیں،جا بیل اسے مار،یہ عالم شوق کا،ایمرجنسی وارڈ،لگ پتہ جائے گا،جیسی لاٹھی ویسی بھینس،ھاؤس فل،واہ بھی واہ،آپ کا نیاز مند،شاعری کیسے کریں،بھارت میں چند روز،سفرنامہ،ریت میں گلاب،ابھی آگ سرد نہیں ہوئی،بھونچال اور بچوں کے لئے دو ناول راجو کی سر گزشت اور آدم پور کا راجہ شامل ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اعتبار ساجد اپنے نام اور کام کے حوالے سے ژندہ جاوید رہیں گے۔
آج جب میں معروف شاعر عمار یاسر مگسی اور معروف کالم نگار جناب امجد علی کے ساتھ ان کے جنازے میں شریک ہوا تو دل بہت بوجھل تھا۔اعتبار ساجد کے چاہنے والے ادباء شعراء اور رشتہ دار سب کی آنکھیں نم تھیں۔واپسی پر بھی دل دکھی تھا۔امجد علی صاحب نے ایک تاریخی جملہ کہا،،اعتبار ساجد ایک بڑی شخصیت تھے،یہ لگ رہا تھا کہ مٹی سے ان کا رشتہ بہت مضبوط تھا اس لئے زمین بھی ان کے انتظار میں تھے اور آج اس نے انھیں اپنے دامن میں سمو لیا۔اللہ پاک اعتبار ساجد مرحوم کی مغفرت فرمائیں،آمین
آخر میں ان کے چند شعر نذر قارئین ہیں۔۔۔۔

بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
کس نگری میں آ نکلے ہیں ساجد ہم دیوانے لوگ

تمھیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے
خود بھی رویا وہ بہت کم سے کنارا کر کے

ہم کون سے غالب تھے کہ شہرت ہمیں ملتی
دنیا تری اتنی بھی پذیرائی بہت ہے

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں
کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا
سو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کا

ایسے بے شمار خوب صورت شعر آپ کے کلام کا حصہ ہے۔مجھے یقین ہے اعتبار ساجد جیسی ہمہ جہت شخصیت کا ذکر ادبی دنیا میں ہمیشہ ہوتا رہے گا۔

اعتبار ساجد۔۔۔محبت کا آخری شاعر

29/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے