شطرنج کی بساط اور برفانی تنبیہ
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں اور نیلگوں سمندروں کے تعاقب میں بارود کی بو اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اب کسی بھی لمحے ایک چنگاری پورے خطے کو شعلوں کی نذر کر سکتی ہے ایران کی جانب سے جنگی تیاریوں کے حتمی مراحل اور امریکی بحری بیڑوں کی خلیج کے پانیوں میں سائے کی طرح موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بساط بچھ چکی ہے اور مہرے اپنی جگہ سنبھال چکے ہیں سٹریٹیجک گہما گہمی کے اس کٹھن موڑ پر اسرائیل اور امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی حکام کی حالیہ ملاقات محض ایک رسمی نشست نہیں تھی بلکہ یہ اس طوفان سے پہلے کی خاموشی کا پیش خیمہ ہے جو شاید جغرافیائی سرحدوں کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
اس خفیہ اور انتہائی حساس مشاورت میں جس سٹریٹیجک حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا ہے وہ ممکنہ طور پر تہران کے ایٹمی مراکز اور دفاعی تنصیبات کو براہ راست نشانے پر رکھنے کی ایک مربوط کوشش ہے جس میں حملے کی صورت میں دفاع اور جوابی کارروائی کے تمام پیچیدہ پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے عالمی سیاست کے اس شطرنج پر اب بیانات اور دھمکیوں کا وقت گزر چکا ہے کیونکہ بحری بیڑوں کی گرج اور میزائلوں کی خاموش زبان یہ بتا رہی ہے کہ ڈپلومیسی کے تمام بند دروازے اب شاید صرف آہنی ٹکراؤ ہی سے کھلیں گے یہ صورتحال اس بات کی تائید کرتی ہے کہ خطہ ایک ایسی فیصلہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا لمحہ امن کی امیدوں کو خاک میں ملا کر ایک ہولناک تصادم کی نوید دے رہا ہے جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کے سیاسی و معاشی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے
قدرت کے بے رحم تھپیڑوں نے جب جمتی ہوئی برف اور برستے ہوئے عذاب کی صورت میں امریکی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لیا تو یہ محض ایک موسمیاتی تغیر نہیں بلکہ فطرت کا وہ خاموش نوحہ معلوم ہوتا ہے جو انسانی تکبر کے بتوں کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہے ایک طرف وہ سپر پاور ہے جو اپنی ٹیکنالوجی اور حربی جنون کے نشے میں ایران کے معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور دوسری طرف قدرت کا وہ جلال ہے جس نے کروڑوں لوگوں کو ان کے عالیشان گھروں میں بے بس و لاچار کر کے رکھ دیا ہے یہ سفید برف کی چادر شاید ان سیاہ جذبوں کے لیے ایک تنبیہ ہے جو معصوم جانوں کو خاک و خون میں تڑپانے کے خواب دیکھ رہے ہیں کیونکہ جب زمینی خدا اپنی طاقت کے نشے میں حد سے گزرنے لگتے ہیں تو پھر آسمانی نظام حرکت میں آتا ہے اور انسانی غرور کو لمحوں میں مٹی میں ملا دیتا ہے
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی طاقتور نے اپنی سرحدوں سے دور انسانیت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی تو قدرت نے اسے اپنے ہی آنگن میں کسی نہ کسی آزمائش سے دوچار کر دیا تاکہ وہ جان لے کہ کائنات کی باگ ڈور کسی پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کے پاس نہیں بلکہ اس قادرِ مطلق کے پاس ہے جو ذرے کو پہاڑ اور پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرنے پر قادر ہے یہ برفانی طوفان اور منجمد کر دینے والی ہوائیں دراصل اس بات کا اشارہ ہیں کہ اگر بے گناہ انسانوں کے گھروں کو آگ اور بارود سے دہکانے کی کوشش کی گئی تو پھر فطرت کا انتقام اس قدر ہولناک ہوگا کہ جدید ترین اسلحہ اور بحری بیڑے بھی اس کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوں گے اب یہ امریکہ کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ انسانیت کی تباہی کے منصوبے بنائے یا قدرت کے اس غیبی اشارے کو سمجھ کر امن کی راہ اختیار کرے کیونکہ مظلوموں کی آہیں جب عرشِ بریں تک پہنچتی ہیں تو پھر زمینی طاقتیں اپنے ہی بوجھ تلے دب جایا کرتی ہیں
اگر وائٹ ہاؤس کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں نے ایران کی سرزمین پر جارحیت کی حماقت کی تو یہ محض ایک مقامی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی قیامت کا نقطہ آغاز ہوگا جو امریکی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے ایران کا جغرافیہ اور اس کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی جارح کے لیے وہ آتش فشاں ثابت ہوں گی جس کی تپش واشنگٹن کی دہلیز تک محسوس کی جائے گی کیونکہ یہ وہ خطہ ہے جہاں سے اٹھنے والا جوابی وار امریکہ کی معیشت اور اس کے عالمی وقار کو خاک میں ملا دے گا روس اور چین جیسے عالمی حریف ایسے کسی بھی موقع کی تاک میں بیٹھے ہیں جہاں وہ خاموشی سے تماشہ دیکھنے کے بجائے اس عظیم ٹکراؤ میں تہران کی پشت پناہی کر کے امریکی غرور کو وہ زخم لگائیں گے جو صدیوں تک بھلایا نہیں جا سکے گا اور پھر دنیا دیکھے گی کہ کس طرح ڈالر کی سلطنت تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ جاتی ہے
امریکہ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایران پر حملہ ایک ایسی آگ کو ہوا دینا ہے جس کے شعلے اس کے بحری بیڑوں کو سمندر کی تہہ میں دفن کرنے اور اس کے فوجی اڈوں کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ وہ تباہی ہوگی جس کا ازالہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے ممکن نہ ہوگا بیجنگ کی معاشی گرفت اور ماسکو کی عسکری حکمت عملی جب ایران کے استقامت کے ساتھ ملیں گی تو امریکہ کے لیے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا اور وہ ایک ایسی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں سے نکلنے کی ہر کوشش اسے مزید رسوائی کی طرف لے جائے گی عافیت اسی میں ہے کہ جنگی جنون کے اس سحر سے باہر نکلا جائے اور انسانیت کو لہو لہان کرنے کے بجائے امن کے راستے کو ترجیح دی جائے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب مظلوم قومیں دیوار سے لگائی جاتی ہیں تو پھر ان کا جوابی حملہ بڑے






