” موسوعہ قوانین اسلام“کی اشاعت علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کی بہترین کاوش
خصوصی تحریر: مہر حمید انور
اسلامی جموریہ پاکستان کے آئین میں واضح الفاظ کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ اس پیارے ملک کے قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں ہی بنائے اور نافذ کئے جائیں گے ، لیکن پاکستان میں مختلف فرقے ہیں اور قرآن و سنت کی تفسیر اور تعبیر ہر فرقے کے لئے وہی معتبر ہو گی جو اس فرقے کے ہاں معتبر ہے، تمام اسلامی فرقوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی پاکستان کا ہی امتیاز ہے ، قانون سازی نہ ہونے وجہ سے نچلی عدالتوں میں سائلی1ن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہم سب ایک اللہ کے ماننے والے ہیں، ہمارا رسول ایک ہے، کتاب ایک ہے، موت و حیات اور حشر نشر پر ایمان رکھتے ہیں لیکن فقہی اعتبار سے بعض مسائل میں اسلامی مسالک میں اختلافات پایا جاتا ہے ، ہر فقہ کے پیروکاروں کےلئے ان کی فقہ کے مطابق اسمبلی اور سینیٹ سے قانون سازی کروا کر ان کے بنیادی حقوق کی پاسداری ممکن ہے ، مکتب شیعہ کے پیروکاروں کو آئین پاکستان میں تمام تر وضاحت کے باوجود میراث اور طلاق جیسے اہم مسائل کی وجہ سے شیعہ خواتین اپنے میراث اور طلاق جیسے حق سے محروم چلی آ رہی ہیں ، ہمیں ماننا پڑے گا کہ دنیا جتنی ترقی کر رہی ہے ہمارے رویے بھی اتنے ہی بدل رہے ہیں ، قریبی ترین رشتوں کے ساتھ تعلق کمزور ہو رہے ہیں ، اگر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو وراثت میں سے ان کا حصہ نہ ملے تو ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے،
قانون سازی کےلئے اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بننے کے بعد علامہ سید افتخار حسین نقوی نے شیعوں کو ان کے آئینی حق دلانے کےلئے فقہ جعفری کے احوالے شحضیہ سے مربوط مسائل کو قانون کی زبان کے مطابق قانون کی دس جلدوں پر مشتمل کتاب” موسوعہ قوانین اسلام“تیار کی گئی، جس کی تکمیل میں پاکستان کے قانون کے ماہروکلا، ریٹائرڈ ججز کی تحقیقی اور فنی معاونت حاصل رہی ،مختلف اوقات میں پانچ جلدیں جن میں قانون نکاح، قانون طلاق، قانون خمس ، قانون زکوة چھپ چکی تھی جبکہ باقی پانچ جلدیں بھی چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں ، یہ استدلالی کام ہے جس میں فقہ جعفری کے مطابق فقہی احکام کو قانون کی زبان میں لکھا گیا ہے اور قانون میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کے معانی لکھے گئے ہیں ، اس قانون میں قرآن کے مطابق جو ثبوت ہیں ان کی آیات لکھی گئی ہیں ، حدیث نبویﷺ جو اس قانون کی سپورٹ میں ہیں لکھی گئی ہیں ، آئمہ اہل بیت سے منقولہ روایات لکھی گئی ہیں ، کچھ عدالتی نظائر کو بطور مثال ذکر کیا گیا جو سابقہ ادوار میں عدالتوں سے صادر ہوئے ، اہل سنت فقہا کی رائے ذکر کی گئی ہے خواہ وہ اس قانون کے مطابق ہو یا مخالف ، البتہ برصغیر میں فقہ جعفری ی قانون کی زبان میں اردو میں یہ پہلی کتاب ہے ، یہ مفصل استد لالی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ،
علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کہتے ہیں کہ
2016میں ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والی ایک شیعہ بیوہ کا کیس عدالت میں دائر ہوا،اس خاتون کے شوہر کی اولاد نہ تھی اور اس کی میراث کا مسلہ تھا، نچلی عدالت نے ان کو شوہر کی میراث سے محروم کر دیا تھا اگلی عدالت نے بھی اسے محروم رکھا کہ شیعہ بیوی کو شوہر کی میراث نہیں ملتی ، وہ خاتون ہائی کورٹ راولپنڈی بیچ میں آئی ، عدالت نے سید افتخار حسین نقوی اس کیس کی معاونت کےلئے دو جون 2016بلایا،عدالت نے وزارت قانون کو لکھا کہ وزارت قانون شیعہ بیوہ کی میراث بمطابق فقہ جعفریہ کے لئے قانون تجویرکرے، جنوری 2017کو وزارت قانون سے ہائی کورٹ کے اس آرڈر پر عملدر آمد بارے پوچھا گیا، جس پر جواب میں ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ، علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کی خصوصی کاوش و معانت سے اس کے کئی اجلاس ہوئے ، اس میں مختلف ممالک کے قوانین منگوائے گئے ، مارچ 2018کو باقاعدہ ترمیمی بل ”مسلم عائلی قوانین“ کے حوالے سے پاس ہواپھر اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجا گیا، نومبر 2018کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایاز نے اجلاس بلایا، بعد ازاں 2019میں قومی اسمبلی میں یہ بل پیش ہوا، قومی اسمبلی نے اس بل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیا، اس کمیٹی کے بھی کئی اجلاس ہوئے ، بلا آخر مئی 2020میں قائمہ کمیٹی نے اس بل کو پاس کر دیا، اور ایک سال کے بعد 10 جون 2021کو یہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہو گیا اس کے بعد اس بل کو سینیٹ میں بھیجا گیا ، جسے پاس کرنے کی بجائے پھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا، جس نے اسے فرقہ وارانہ بل قرار دیکر مسترد کر دیا، جس کے بعد دوبارہ جدوجہد شروع کرنا پڑی ، اور اپنی آئینی حقوق کے ثبوت سب کو فراہم کئے ، جس کے نتیجہ میں 17نومبر 2021 کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اور اس میں یہ بل پیش ہوا مشترکہ اجلاس میں طلاق اور میراث کا بل پاس کر دیا گیا، جس پر صدر مملکت نے 2دسمبر 2021کو دستخط کر دیے اس طرح یہ باقاعدہ قانون بن گیا۔
علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کی 9سالہ جدوجہد رنگ لے آئی اور پاکستان بننے کے بعد پہلی بار مسلم عائلی قوانین کے سیکشن 4جو میراث کے متعلق ہے اور سیکشن 7جو طلاق کے متعلق ہے کے تحت شعیہ خواتین کا فیصلہ ان کی اپنی فقہ کے مطابق ہو گا اور اس کی حق تلفی نہیں ہو گی ، اب شیعہ کی طلاق فقہ جعفری کے مطابق ہو گی اوردیگر احوال شحضیہ سے مربوط مسائل بارے بھی جہاں ضرورت پیش آئی فقہ جعفری کے مطابق قوانین بنیں گے یہ ایک مثال قائم ہو گئی ہے اب شعیہ کو ان کے آئینی حقوق لینے میں آسانی ہو گی،
آئین قانون نہیں ہوتا، آئین






