رمضان ریلیف ایک ہمہ گیر ماڈل
رمضان المبارک 2026ء: ریاست ماں بن کر دسترخوان بچھائے ،وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں رمضان ریلیف کا ہمہ گیر ماڈل۔رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں، یہ ریاست اور رعایا کے تعلق کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ پنجاب میں 2026ء کے رمضان کو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے محض ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ سماجی انصاف، معاشی ریلیف اور انتظامی امتحان بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں ہونے والا اعلیٰ سطحی اجلاس ایک فلاحی ریاست کے عملی خدوخال واضح کرتا ہے۔47 ارب روپے کا رمضان پیکیج: خیرات نہیں، حق ہے۔اجلاس میں 47 ارب روپے کے تاریخی رمضان ریلیف پیکیج کی تیاری اس امر کا اعلان ہے کہ اب ریاست ریلیف کو احسان نہیں بلکہ شہری کا حق سمجھ رہی ہے۔ اس پیکیج کا دائرہ صرف راشن تک محدود نہیں بلکہ بازار، دسترخوان، قیمتیں، سپلائی چین اور انتظامی نگرانی تک پھیلا ہوا ہے۔سی ایم رمضان نگہبان پیکیج: شفافیت، سہولت اور عزت ہے۔سی ایم رمضان نگہبان پیکیج کے تحت مستحق خاندانوں کو براہِ راست سہولت۔راشن کارڈ کے ذریعے ہدفی اور باعزت امداد۔مڈل مین کے خاتمے اور ڈیجیٹل نگرانی کا نظام
یہ ماڈل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ غربت کو لائن میں کھڑا کر کے نہیں بلکہ دروازے پر سہولت پہنچا کر کم کیا جائے۔اسی طرح رمضان میں 8 نگہبان دسترخوان قائم کرنے کی منظوری اس حقیقت کا اعلان ہے کہ” کوئی بھوکا نہ سوئے”
یہ صرف جملہ نہیں، ریاستی عہد ہے۔
یہ سترخوان محض کھانے کی تقسیم نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کی علامت ہوں گے۔
سہولت بازار: مہنگائی کے خلاف ریاستی مورچہ۔
136 رمضان نگہبان کارڈز کے ذریعے سبسڈی
اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی نرخوں میں غیر معمولی کمی کے لیے خصوصی اقدامات
وزیرِ اعلیٰ نے واضح ہدایات دیں کہ رمضان میں مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
قیمتوں کی نگرانی: فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ڈی سی، اے سی ایک پیج پر
رمضان ڈیش بورڈ کا قیام
ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیرو ٹالرنس
مانیٹرنگ ٹیموں کو متحرک کرنے کا فیصلہ
یہ وہ مقام ہے جہاں حکومت نیت سے نکل کر عمل میں داخل ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل سہولت، آسان تر رسائی
رمضان نگہبان کارڈ کے ذریعے:
آسان اندراج
شفاف تقسیم
عزتِ نفس کا تحفظ
یہ ماڈل مستقبل کی ڈیجیٹل فلاحی ریاست کی جھلک ہے۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا پیغام
اجلاس کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ کا واضح پیغام تھا:
”رمضان المبارک میں کوئی بھی خاندان خود کو تنہا محسوس نہ کرے—ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔”
یہ جملہ انتظامی بیان نہیں بلکہ سیاسی و اخلاقی عہد ہے۔
نتیجہ: رمضان 2026ء — فلاحی ریاست کی ریہرسل
پنجاب میں رمضان ریلیف پیکیج اس امر کی دلیل ہے کہ
فلاح نعرہ نہیں، پالیسی بن چکی ہے
ریلیف وقتی نہیں، سسٹم میں ڈھل رہا ہے
اور ریاست اب ماں بن کر دسترخوان بچھا رہی ہے






