مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی اور "دیارِ حجاز میں”
پیشکش: ارشد شاہد

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اپنی وفات سے صرف چند ہفتے قبل اپنے ہمدم دیرینہ، محرم و ہمراز اور عزیز ترین دوست جناب پروفیسر ساجد حسین ملک صاحب کے ساتھ چھ دہائیوں پر محیط گہری رفاقت اور ان کی نئی تصنیف "دیارِ حجاز میں” پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مجھے آج اندازہ ہوا کہ کسی ہمدم دیرینہ، چھ دہائیوں سے گہری قربت کی لڑی میں پروئے دوست، خلوت و جلوت کے محرم و ہمراز اور عہد وفا کی فولادی زنجیر میں بندھے بےریا رفیق سفر کے بارے میں کچھ لکھنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ الجھی ڈور کا کوئی سرا سجھائی نہیں دیتا۔ کسی اجنبی، کم شناس اور دور پار کے شخص کے بارے میں لکھناکبھی مشکل نہیں لگا۔ بس قلم اٹھایا، رخش خیال کی باگیں ڈھیلی چھوڑیں اور قرطاس پر نقش و نگار بنتے چلے گئے۔ جب قربت اور اپنائیت کا عالم من تو شدم تو من شدی کی حدوں سے جاملے، تو ایسے دوست کے بارے میں لکھنا ایسا ہی ہے جیسے خود اپنے بارے میں لکھا جائے اور کون نہیں جانتا کہ خود پر قلم اٹھانا کس قدر کٹھن کام ہے۔
ساجد حسین ملک اور میں، پہلی بار کب، کہاں، کس طرح اور کس ماحول میں ملے، مجھے کچھ یاد نہیں۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ ملک صاحب کو وہ دن، وقت، لمحہ اور گفتگو کا متن بھی لفظ لفظ یا د ہوگا۔ مجھے تو بس اتنا گمان ہے کہ یہ ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی بات ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کوئی ایسا لمحہ نہیں آیا کہ ہماری رفاقت کے تابناک چہرے پر گردش شام و سحر کی ہلکی سی گرد بھی پڑی ہو۔ رنجش ،تلخی، دل آزاری، دل شکنی،خفگی، کدورت اور ناراضی جیسے الفاظ ہماری لغت رفاقت میں کبھی جگہ نہ پا سکے۔ ہر رنگ، ہر روپ، ہر رت اور ہر موسم میں ہماری دوستی کا بانکپن جوان رہا۔ نہ کڑی دھوپ میں اس کا رنگ سنولا یا، نہ برستی بارش میں اس کے غازہ رخسار کی رعنائی پھیکی پڑی۔
ہم دونوں نے راولپنڈی کے دو مختلف پرائمری سکولوں سے ملازمت کا آغاز کیا۔ دونوں نے چکی کی مشقت کے ساتھ ساتھ مشق تعلیم بھی جاری رکھی۔ گرتے پڑتے اٹھتے سنبھلتے، چلتے رُکتے، ہولے ہولے آگے بڑھتے رہے۔ ستر کی دہائی کے آغاز میں ہم راولپنڈی کی سب سے معروف درسگاہ سی۔ بی۔ سرسید سیکنڈری سکول میں یکجا ہوئے تو دونوں ایم۔ اے بی۔ ایڈ کر چکے تھے۔ یہی ہماری حد پرواز ٹھہری۔ زیریں متوسط گھرانوں میں جنم لینے اور اپنا راستہ تراشنے کے لئے خود تیشہ فرہاد لے کر کان کنی کرنے والوں کے لئے یہ کوئی کم معرکہ نہ تھا میں تو سرسید سکول اور کالج میں اٹھارہ انیس برس گزارنے کے بعد اکتا سا گیا۔ کوئی چھیالیس سال کی عمر میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر، صحافت کی طرف نکل آیا۔ ملک صاحب نے ریٹائرمنٹ کی طبعی عمر 60 سال پوری کی لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بوئے سلطانی نہ گئی اورکسی نہ کسی طور شغل تدریس جاری رکھا۔ ان دنوں بھی ایک معیاری پرائیویٹ درس گاہ میں پرنسپل کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اُستاد بھی کمال کے ہیں اور منتظم بھی غضب کے۔
ہماری دوستی ہم دونوں کے خاندانوں کے دوراندر تک پھیلتی، پھولتی اور کھلتی رہی ۔ میرے مرحوم والدین میری اورساجد صاحب کی دوستی کے انگ انگ سے آشنا تھے۔ میرے لئے ان کی دعاؤں میں ساجد صاحب بھی ہمیشہ شریک رہتے۔ ساجد صاحب کے والدین شہد میں گندھے اللہ لوگ اور درویش صفت شخصیات تھیں۔ دیہات کی مصفیٰ ہواؤں کی پروردہ سادگی، محبت، شفقت اور دل میں گھر کر جانے والی ایسی بدن بولی جس کے ہر زاویے، ہر پہلو سے اپنائیت کی مشکبو لہریں اٹھتی رہتی تھیں۔ میں جب بھی ملک صاحب سے ملنے ان کے گاؤں گیا، اس بے کراں محبت کی سوغات سمیٹ کر لایا۔ اب نہ وہ رہے، نہ میرے والدین، اللہ ان سب کو اپنی بے پایاں عنایات سے بہرہ مند اور آسودہ رکھے۔
ملک صاحب سے سدا بہار دوستی کا سفر، ہنوز جاری ہے۔ اس میں آج بھی عہد جوانی کی خوش رنگ و خوش جمال محفلوں کی تمازت اور صبح دم کھلنے والی کلیوں کی مہک موجود ہے۔ ہم دونوں پاکستان کے حوالے سے اپنی طبعی عمریں گزار چکے ہیں۔ ان کی صحت بھی ڈانواں ڈول رہتی ہے اور میں بھی خود کو بصد مشکل سمیٹے پھرتا ہوں۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون، کب، کس سے رشتہ وفا توڑ اور چھ دہائیوں کی رفاقت سے منہ موڑ کر،دور کی منزلوں کو نکل جائے۔
میں تدریس کے میدان سے ہوتا ہوا صحافت کی وادی خوش رنگ میں پہنچا اور وہاں سے سیاست کے دشت بے اماں کی طرف نکل آیا۔ ملک صاحب نے تدریس کے دامان تقدیس سے ناتا استوار رکھتے ہوئے کالم نگاری کے چمنستان سے بھی رشتہ جوڑ لیا۔ آج اُن کا یہ رشتہ’’ رشتہ ازدواج ‘‘کی طرح مضبوط ومستحکم ہو چکا ہے۔ وہ ایک مسلمہ کالم نویس اور تجزیہ نگار کے طور پر اپنا نام اور مقام پا چکے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ میں نے اپنی سیاست میں، کالم نگاری کی حد تک، صحافت کا پیوند لگا رکھا ہے جبکہ ملک صاحب نے تدریس کو اوڑھنا اور کالم نگاری کو بچھونا بنالیا ہے۔
ملک صاحب کا زیر نظر سفر نامہ’’ دیار حجازمیں‘‘ اُن کے اخباری کالموں کا مجموعہ ہے جن میں سے بیشتر میں نے پہلے ہی پڑھ رکھے ہیں۔ مکہ مدینہ سے نسبت کے حوالے سے ان کالموں کا اپنا ذائقہ ہے لیکن ملک صاحب نے سیاست، علاقائی تہذیب و ثقافت، عہد رفتہ کے بھولے بسرے واقعات، شخصیات یا کتابوں پر تبصروں پرمبنی جو کالم لکھے، اُن کا اسلوب بھی نہایت دلپذیر ہے۔ ایک فرانسیسی دانشور کا قول ہے ’’Style is the man himself‘‘ یعنی اسلوب در اصل قلم کار کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ قول کسی اور پر صادق آئے نہ آئے، ساجد ملک صاحب پر سو فیصد پورا اترتا ہے۔
ملک صاحب کی سادہ و پر کار، ہرنوع کے تصنع سے پاک دلنشیں اور اثر






