اک امتحان سے گزرا، اک امتحان کے بعد
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
انسانی زندگی کے جس فیز (Phase) سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں اس کی تمام تر تگ و دو اگر دو لفظوں میں بیان کی جائے تو وہ یہ ہو گی کہ خود کو جبلی رویّوں (Instinctive Behaviors) کی اندھی غلامی سے نکال کر اپنے نفس کی باگیں یوں کھینچ کر رکھنا کہ وہ کہیں بھی بتائی ہوئی حد سے تجاوز نہ کرے۔
اس بنیاد پر یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ کیوں ہر انسان کے لیے سوال بظاہر مختلف، امتحان گاہ الگ اور سیاق و سباق اگرچہ ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے، مگر ان سب کا جواب یعنی نفس کا Response ایک ہی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے۔ مثال اس کی یوں ہے کہ ایک گھر ہے اور اس میں اس کی بیگم ہے۔ یہ گھر ڈیفنس (DHA) کا بھی ہو سکتا ہے اور کسی گاؤں کا کچا مکان بھی، مگر وہ رویّہ جو اس گھر کا مرد مختلف Situations میں اپنی بیگم کے ساتھ روا رکھتا ہے، اس کو ایک ہی کسوٹی پر ایسے جانچا جا سکتا ہے کہ کس نے اپنے نفس کی باگیں کس قدر مضبوطی سے تھام رکھی ہیں۔
زندگی کے سفر کا نقطۂ آغاز ہر انسان کے لیے Unique ہے، اور اسی طرح اس کا اختتام بھی۔ بیچ میں جو کچھ ہے وہ اس کا Displacement ہے، یعنی وہ فاصلہ جو اس نے اپنی عمر میں طے کیا۔ کوئی شخص کسی گاؤں کی کچی پکی گلیوں سے سفر کا آغاز کرتا ہے اور وہیں دفن ہو جاتا ہے، جبکہ کوئی محل میں آنکھ کھولتا ہے اور دنیا کے افق پر بظاہر چھایا رہتا ہے۔ مگر دونوں کے درمیان اصل فرق ان کو دیے گئے اختیار ، اس کے استمال اور ان Responses کا ہے جو انہوں نے نفس کی جنگ میں مختلف حالات میں دیے۔ یہی Responses ان کی جزا و سزا تعین کی بنیاد بنتے ہیں ۔
یہیں سے یہ تصور بھی پوری طرح قابلِ فہم ہو جاتا ہے کہ دائیں اور بائیں کندھے پر موجود فرشتے ہر سانس، ہر نیت اور ہر عمل کا حساب کیسے محفوظ رکھتے ہوں گے۔ جب انسان خود Memory, USB Drives, Cloud Storage اور Data Servers جیسی ٹیکنالوجیز ایجاد کر چکا ہے تو خدائی نظام میں مکمل Life Record محفوظ ہونا کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔ اگر ایک انسان کی پوری زندگی کو ڈیٹا میں بدلا جائے تو یادداشتیں، مشاہدات، آوازیں، مناظر، فیصلے، جذبات اور نیتیں یہ سب مل کر ٹیرابائٹس (Terabytes) کے پیمانے پر آنا ممکن ہیں۔ یہاں تک کہ اب انسان کے بنائے ہوئے نظام میں بھی زندگی ایک مکمل Life Data Archive بن سکتی ہے۔
شعور کی اس سطح تک ہم پہنچ چکے ہیں کہ یہ زندگی مکمل کہانی نہیں بلکہ کہانی کا ایک باب ہے۔ اس سے پہلے بھی کہانی موجود ہے اور اس کے بعد بھی اک طویل سلسلہ ہے ۔ اسی لیے اس دنیا میں غربت، تنگی، ترشی، دکھ اور مصائب جس طرح کسی کے لیے امتحان ہیں، اسی طرح آسانی، آسائش، اقتدار اور فراوانی بھی ایک کڑی پرکھ ہے۔ مقام بدل جاتے ہیں مگر سوال وہی رہتا ہے اور وہ سوال نفس سے ہوتا ہے۔ اور فیصلے ان جوابات پر ہوتے ہیں جو انسان اپنی Will سے دیتا ہے۔
اس امتحان میں ایک اور پہلو بھی شامل ہے اور وہ ہے انسان کا اپنے گرد و پیش پر چھوڑا ہوا Impact۔ کوئی فرد مثبت (Positive) اثرات چھوڑتا ہے، کوئی منفی (Negative)، اور اکثر زندگیوں میں یہ اثرات مکس (Mixed) ہوتے ہیں۔ بالآخر ممتحن ان سب کی جمع تفریق کر کے ایک Net Impact انسان کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے، اور یہی اس کے حقیقی کنٹری بیوشن کا تعین کرتا ہے۔
جبلی سطح پر گزاری جانے والی زندگی میں لذت (Pleasure) تمام بنی نوع انسان کے لیے ایک مشترک امتحان ہے۔ اسی طرح بھوک، پیاس، جنس، پہچان اور اختیار یہ سب بنیادی جبلتیں (Basic Instincts) ہیں جو ہر انسان میں یکساں طور پر کارفرما ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی تسکین کس قاعدے اور قانون کے تحت کی جاتی ہے۔ یہی نفسِ مضمون ہے۔
ان بنیادی جبلتوں میں بقا (Survival Instinct)، جنسی جبلت (Sexual Instinct)، ملکیت کی خواہش (Ownership Instinct)، پہچان اور قبولیت (Recognition / Validation Instinct)، طاقت اور غلبہ (Power / Dominance Instinct) اور تعلق و وابستگی (Attachment Instinct) شامل ہیں۔ ان سب کا آخری حدف لذت، تسکیں اور سیلف ایکچولائیزیشن ہے، مگر ان سب اعمال کے لیے جزا و سزا کا انحصار طریقۂ حصول پر ہے۔
بھوک لگی ہو اور سامنے کھانا موجود ہو تو اس کا حصول حلال طریقے سے بھی ممکن ہے اور حرام طریقے سے بھی۔ اور اس سے بڑھ کر مسنون طریقے سے بھی، اسی طرح جنسی جبلت، جو شاید اس زندگی کا سب سے کڑا امتحان ہے، اس میں بھی جائز اور ناجائز کی واضح حدیں کھینچی گئی ہیں۔ اسی طرح اپنی Recognition کی خواہش انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اقتدار، شہرت اور تعریف کی ہوس بڑے اخلاقی انہدام کا سبب بن جاتی ہے اور نتیجتاً وہ ہوتا ہے جس کا پرتو ہم اپنے ارد گرد سیاسی، سماجی اور معاشرتی بگاڑ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔
اگر اوپر کی بحث کو سمیٹیں تو ہم کہہ سکتے ہیں ایک اندھیری گلی کے نکڑ پر بیٹھا ہوا موچی، اگر اپنے نفس کے گھوڑے کو قابو میں رکھے، اور جوتیوں کی مرمت کر کے احباب کے سفر میں آ سانی پیدا کرتا رہے ، تو اپنے Displacement کی کسوٹی پر حیاتِ آخرت میں دنیوی بادشاہوں سے کہیں اگلی صفوں میں بیٹھا نظر آ سکتا ہے ، یہ محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک ممکن حقیقت ہے۔
تمام عمر میں ہر صبح کی اذان کے بعد
اک امتحان سے گزرا، اک امتحان کے بعد
(ساقی امروہوی)






