عقلِ سلیم عورت کی بربادی نہیں، ہماری فکری شکست
قلمی نام: سید سلیم شہزاد جیلانی
کسی بھی معاشرے کے اخلاقی، فکری اور تہذیبی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں عورت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عورت اگر محفوظ، باوقار اور باکردار ہو تو وہ معاشرہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے، اور اگر اسی عورت کو آزادی کے نام پر بے راہ روی، عدم تحفظ اور استحصال کے راستے پر ڈال دیا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ کسی فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عورت کی تباہی کو جدیدیت، خودمختاری اور روشن خیالی کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اس کی اصل طاقت حیا، کردار اور وقار میں نہیں بلکہ نمائش، غیر ضروری میل جول اور مردوں کی توجہ میں ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو خاموشی کے ساتھ عورت کو اس کے فطری مقام سے گرا کر ایک کمزور اور استعمال ہونے والی شے میں بدل دیتی ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد دونوں کے لیے عزت اور پاکیزگی کا ایک متوازن نظام دیا ہے۔ قرآن مجید میں پہلے مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا:
“مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں” (النور: 30)
اور پھر اسی تاکید کے ساتھ عورتوں کو حکم دیا گیا:
“اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں” (النور: 31)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کی عزت صرف اس کی ذمہ داری نہیں بلکہ مرد کی نگاہ اور نیت کی اصلاح بھی اتنی ہی لازم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے نے دین کے اس متوازن اصول کو پسِ پشت ڈال کر سارا بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
ایک اور سنگین مسئلہ غیر مردوں پر اعتماد کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ بہت سی عورتیں اپنے شوہر یا خاندان کی موجودگی کے باوجود ایسے مردوں کے جھانسے میں آ جاتی ہیں جو وقتی ہمدردی، سہولت اور محبت کے نام پر آخرکار انہیں جذباتی، مالی اور اخلاقی طور پر تباہ کر دیتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے اسی انسانی کمزوری کے پیش نظر واضح تنبیہ فرمائی:
“کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، کیونکہ ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے” (ترمذی)
یہ حدیث کسی تنگ نظری کی نہیں بلکہ انسانی فطرت کی حقیقت کا اعتراف ہے۔ اسلام انسان کو فرشتہ نہیں بناتا بلکہ اس کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر حدود قائم کرتا ہے، تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں محفوظ رہیں۔
آج عورت کو جس آزادی کا خواب دکھایا جا رہا ہے، وہ دراصل آزادی نہیں بلکہ ایک نیا استحصال ہے۔ کام کے نام پر اس کا وقار، تعلقات کے نام پر اس کی عزت اور خودمختاری کے نام پر اس کا تحفظ چھین لیا گیا ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے عورت کے اصل مقام کو یوں بیان فرمایا:
“دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے” (مسلم)
یہ حدیث عورت کو نمائش کی نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر عظمت عطا کرتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کی بربادی کے پیچھے اکثر خاندان کی غفلت شامل ہوتی ہے۔ جب باپ سرپرستی چھوڑ دے، شوہر غیرت کو دقیانوسی سوچ سمجھے اور ماں تربیت کے بجائے خاموشی اختیار کر لے تو عورت غلط سہاروں کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ قرآن اس اجتماعی ذمہ داری کو یوں بیان کرتا ہے:
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ” (التحریم: 6)
حجاب کو آج بھی عورت کی قید قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ قرآن کہتا ہے:
“یہ اس لیے ہے تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے” (الاحزاب: 59)
یعنی حجاب عورت کی پہچان اور تحفظ ہے، اس کی کمزوری نہیں۔
یہ کالم کسی عورت پر الزام نہیں بلکہ اس فکری انحراف کے خلاف ایک سنجیدہ آواز ہے جو عورت کو اس کے اصل مقام سے دور کر رہا ہے۔ عورت کی اصلاح مرد کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں، اور مرد کی اصلاح دینی شعور کے بغیر ادھوری ہے۔
اگر ہم واقعی ایک باوقار، محفوظ اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کو نعروں کی نہیں، تحفظ کی ضرورت ہے؛
آزادی کے نام پر بے راہ روی نہیں بلکہ حدود کے ساتھ عزت کی ضرورت ہے۔
کیونکہ یاد رکھیے،
عورت کی بربادی کوئی اتفاق نہیں، یہ ہماری اجتماعی غفلت کا منطقی انجام ہے۔






