#کالم

ربا ماواں نہ کھویں

Untitled 6

ڈیرے دار سہیل بشیر منج

آج گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو دستک دینے سے پہلے ہاتھ رک گئے وہ جو ایک آہٹ پر دروازہ کھول دیا کرتی تھی وہ جو میری واپسی تک نیند کو اپنی آنکھوں پر حرام کر لیتی تھی آج خود ایک ایسی ابدی نیند سوئی ہے کہ زمانے بھر کا شور بھی اسے بیدار نہیں کر پا رہا میں نے اپنی زندگی کے چوالیس سال ماں کی شفقت کے سائے میں گزارے یہ محض چار دہائیاں نہیں یہ محبت کی وہ معراج تھی جس کی مثال آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کہیں اور نہیں ملتی میری ماں نے ان برسوں میں مجھے صرف پالا نہیں بلکہ اپنی دعاؤں کے حصار میں زندہ رکھا
​کہتے ہیں کہ کائنات کا سب سے خالص رشتہ ماں کا ہے لیکن میرے لیے یہ رشتہ ایک ایسی پناہ گاہ تھا جہاں دنیا کی تپتی دھوپ کبھی مجھ تک نہیں پہنچ سکی مجھے یاد ہے میں کہیں بھی ہوتا کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جاتی ماتھے پر فکر کی لکیریں لیے وہ مصلے پر بیٹھی رہتی یا دروازے کی سمت نظریں جمائے میرا راستہ تکتی رہتی میری واپسی تک اس کی آنکھوں میں نیند کا گزر نہیں ہوتا تھا وہ کہتی تھی "بیٹا تو گھر آ جاتا ہے تو میری سانسیں بحال ہوتی ہیں” آج وہی سانسیں ابد کے سفر پر روانہ ہو گئیں اور میں اس ادھورے انتظار کی تصویر بن کر رہ گیا ہوں
​ماں کی محبت کی وہ چھاؤں اب ایک یاد بن چکی ہے وہ شفقت بھرا ہاتھ جو میرے سر پر پڑتا تھا تو کائنات کی تمام مشکلیں چھوٹی معلوم ہوتی تھیں چوا لیس برسوں کا ہر لمحہ اس کی بے لوث محبت کا گواہ ہے وہ میری ہر خوشی پر نہال ہو جاتی اور میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی سچ تو یہ ہے کہ ماں کے چلے جانے سے صرف ایک ہستی نہیں جاتی بلکہ وہ دعا کا دروازہ بند ہو جاتا ہے جو ہمیں ہر بلا سے بچائے رکھتا تھا
​اب جب کبھی میں دیر سے گھر لوٹوں گا تو وہ جاگتی ہوئی آنکھیں میرا استقبال نہیں کریں گی گھر کا وہ گوشہ جہاں وہ میرا انتظار کرتی تھی اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ مٹی کی اس چادر کے نیچے بھی اس کی روح میری خیریت کے لیے بے چین ہوگی ماں تو وہ ہستی ہے جو مر کر بھی اپنی اولاد کو تنہا نہیں چھوڑتی
​آج دل بوجھل ہے اور آنکھیں اس ممتا کو تلاش کر رہی ہیں جس نے مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا چوالیس سال کا یہ سفر بظاہر ختم ہو گیا مگر اس کی محبت کی خوشبو میرے وجود کے ہر ریشے میں بسی رہے گی اے باری تعالیٰ! میری ماں کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اور اسے وہ راحت نصیب کر جو اس نے اپنی زندگی میری راحتوں پر قربان کر کے کمائی تھی
​​میری ماں صرف ایک ہستی نہیں بلکہ صبر و استقامت کی ایک ایسی زندہ جاوید داستان تھی جس کے ہر باب پر قربانی اور حوصلے کی تحریریں لکھی تھیں زندگی کے نشیب و فراز ہوں یا وقت کے سنگلاخ راستے میں نے کبھی ان کے ماتھے پر شکوے کی کوئی لکیر نہیں دیکھی وہ دکھوں کی تپتی دھوپ میں خود جلتی رہیں مگر ہمارے خاندان پر اپنے صبر کی ٹھنڈی چھاؤں کمزور نہیں ہونے دی میرے خاندان کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی میری ماں کا نام ایک ایسے مینارہِ نور کے طور پر ابھرے گا جس نے خاموشی کے ساتھ طوفانوں کا رخ موڑا اور حالات کی تلخیوں کو اپنی مسکراہٹ کے زہر مہرے سے شکست دی ان کا صبر محض ایک خاموشی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی عبادت تھی جس نے ہمارے گھر کی بنیادوں کو کبھی لرزنے نہیں دیا
​ان چوالیس سالوں میں میں نے دیکھا کہ وقت کی تند و تیز لہریں ان کے پائے استقلال میں لرزش نہ لا سکیں وہ مشکلات کے سامنے ہمالیہ کی طرح ڈٹی رہیں اور جب کبھی مجھ پر کوئی آزمائش آئی تو ان کے حوصلے نے میرے لیے ڈھال کا کام کیا مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب زمانے کی بے مہریاں مجھے تھکانے لگتیں تو ان کا ایک اطمینان بخش جملہ اور ان کے چہرے پر پھیلا ہوا وہ مخصوص سکون میری ساری تھکن اتار دیتا تھا ان کا وجود میرے لیے ایک ایسی جائے پناہ تھا جہاں دنیا کا کوئی دکھ مجھے چھو کر نہیں گزر سکتا تھا انہوں نے ثابت کیا کہ صبر بزدلی نہیں بلکہ وہ طاقت ہے جو خاموشی سے معجزے تخلیق کرتی ہے
​میری ماں نے جس وقار کے ساتھ زندگی کے کٹھن ایام گزارے وہ ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے ان کا ہم سے بچھڑ جانا صرف ایک فرد کا رخصت ہونا نہیں بلکہ صبر کے اس عظیم مکتب فکر کا اٹھ جانا ہے جس سے ہم زندگی جینے کا ہنر سیکھتے تھے آج وہ خاموش ہیں مگر ان کے صبر کی گونج ہمارے خاندان کی فضاؤں میں ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی میری زندگی کا ہر حاصل ان کی دعاؤں اور ان کے بے مثال حوصلے کا مرہونِ منت ہے وہ چلی گئیں مگر اپنی استقامت کی وہ خوشبو پیچھے چھوڑ گئیں جو رہتی دنیا تک میرے راستوں کو منور کرتی رہے گی
​​ماں کے جانے سے صرف ایک وجود رخصت نہیں ہوا بلکہ میرے گھر کا وہ ماتھا سونا ہو گیا جس کی چمک سے در و دیوار منور رہتے تھے آج جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو وہ خالی پن مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے جہاں کبھی دعاؤں کی ایک ایسی خوشبو بستی تھی جو ہر بلا کو ٹال دیا کرتی تھی وہ گھر جو کبھی ایک جیتی جاگتی جنت کا نمونہ تھا آج کسی اجڑے ہوئے مزار کی طرح خاموش ہے ماں کیا گئی گویا میرے سر سے آسمان چھن گیا اور قدموں تلے سے زمین نکل گئی چوالیس سال تک جس ہستی کی دعائیں میری ڈھال بنی رہیں آج ان دعاؤں کے حصار سے محروم ہوتے ہی خود کو زمانے کی بے

ربا ماواں نہ کھویں

16/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے