*خیبر پختونخوا میں بدامنی کا خاتمہ اور امن و استحکام کے نئے دور کا آغاز
رانا فہد صفدر خان
خیبر پختونخوا کا خطہ اور اس کے غیور پشتون عوام گز شتہ تیرہ برسوں سے جس انتظامی و معاشی بحران ، بے یقینی اور امن و امان کی ابتر صورتحال سے دوچار رہے ہیں ، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ صوبے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی مسلسل حکومت کے دوران بدامنی اپنے عروج پر رہی جبکہ سیاسی بدنظمی اور طرزِ حکومت کی نااہلی نے صوبے کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو خوف ، لاقانونیت اور بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں رونما ہونے والی حالیہ آئینی و انتظامی تبدیلیاں اور ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے لیے ایک نیا سنگِ میل اور حقیقت میں “یومِ نجات” ہے۔گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط پی ٹی آئی کے اس دور میں سیاسی عدم استحکام اور صوبائی حکمرانی کی غفلت نے انتظامی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایک طرف مسلسل احتجاجی سیاست اور مرکزی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نے ترقیاتی عمل کو روک رکھا تھا تو دوسری طرف امن و امان کی ابتر صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور سنگین غفلت کے باعث امن و امان کے ادارے کمزور ہوئے ، جس کا براہِ راست فائدہ بدامنی پھیلانے والے عناصر اور دہشت گردی کے سہولت کاروں نے اٹھایا۔ بھتہ خوری ، خوف کی فضا اور صوبائی وسائل کے غلط استعمال کے سبب تاجر برادری اور عام شہری روزمرہ کی زندگی میں شدید ترین مشکلات کا شکار رہے۔موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر کی جانے والی آئینی و انتظامی پیشرفت دراصل وقت کی اہم ترین پکار تھی۔ صوبے کے عوام کے لیے آج کا دن ایک حقیقی یومِ نجات ہے ، کیونکہ پی ٹی آئی کے تیرہ سالہ ایک طویل اور تاریک دور کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف بدامنی کا سدِباب ہو گا اور دہشت گردی کی نرسریوں کا جڑ سے صفایا ممکن ہو سکے گا ، بلکہ قانون کی بالادستی کا نفاذ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ وسائل کا درست اور شفاف استعمال صوبے میں کاروباری سرگرمیوں ، معاشی بحالی اور روزگار کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا۔پشتون قوم نے امن کی بحالی اور ملک کی بقا کے لیے ہر دور میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ناکام کرداروں اور پی ٹی آئی کی انتشار پسند سیاست کا ہمیشہ کے لیے صفایا کیا جائے تاکہ قوم سکھ اور تحفظ کا سانس لے سکے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان اقدامات کو منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ صوبے کے بنیادی مسائل ، جیسے کہ معیاری تعلیم ، صحت کا شعبہ ، امن اور معاشی خودکفالت کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے ، کیونکہ اب نہ تحریکِ انتشار رہے گی نا دہشت گردی کی سہولت کاری چلے گی اور نہ ہی کوئی نااہل کردار صوبے کے مستقبل کا سودا کر سکے گا۔ یہ تبدیلیاں ان شائ اللہ خیبر پختونخوا کو پھر سے امن ، ترقی اور پائیدار خوشحالی کا گہوارہ بنائیں گی۔






