کالم، تصور نیابت اور رہنما کی ذمہ داریاں
شفقت اللہ مشتاق
رہنما کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی قوم کو منزل کا راستہ بتائے بلکہ زادِ راہ کا بھی، اوّل تو بندوبست کرکے دے، نہیں تو کم از کم زادِ راہ کی اہمیت سے اسے آگاہ ضرور کرے۔ سارے راستے ہموار نہیں ہوتے اور نہ ہی محفوظ۔ کبھی کبھی پرخار راستوں پر بھی چلنا پڑتا ہے اور دورانِ سفر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سفر کی ویسے بھی اپنی صعوبتیں ہوتی ہیں۔ بلکہ حضرت سلطان باہو نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے:”شالا مسافر کوئی ناں تھیوے، ککھ جنہاں تھیں بھارے ہو۔“شعروسخن کی اپنی ایک زبان ہے اور شاعری کو سمجھنے کے لیے دماغ کے سارے دروازے کھولنا پڑتے ہیں، کیونکہ بات کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی ہر بات کے بے شمار مطالب و مفاہیم ہو سکتے ہیں۔ شاعر بوقتِ تخلیق ایک خاص کیفیت میں ہوتا ہے اور ایک مخصوص تناظر میں بات کر رہا ہوتا ہے، لیکن وہ جو بھی بات کرتا ہے، اس کا کوئی نہ کوئی پس منظر ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا اس منظر کے اندر جھانک کر اصل حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے۔ واقعی، سفری صعوبتوں کے پیشِ نظر صوفی شاعر موصوف نے بجا فرمایا ہے۔ بادی النظر میں وہ مسافر کو ہوشیار باش کرنا چاہتے ہیں اور ”جاگدے رہنا“ کے مصداق اسے چوکنا کرتے ہیں۔ اس ساری بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان سفر کرنے سے ڈر جائے اور خلوت نشین ہو کر بیٹھ جائے۔صوفیائے کرام اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے کہ جب حضرت آدم کو اشیا کا علم سکھایا گیا تو فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ لہٰذا دنیا میں معتبر مقام حاصل کرنے کے لیے علم کا حصول بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان بزرگانِ دین نے حصولِ علم کے لیے بڑے بڑے سفر طے کیے۔ رہنما کی تلاش میں انہیں کہیں سے کہیں جانا پڑتا تھا۔ وہ حوصلے، ہمت اور جذبے کے ساتھ اپنے ہدف کے حصول کے لیے سفر جاری رکھتے تھے۔
ویسے بھی بقولِ شاعر:
”زندگی سفر ہے سہانا۔“
لفظ ”سہانا“ کے پہلو پر ناقدین ناک چڑھا سکتے ہیں، کیونکہ زندگی کا سفر اتنا بھی آسان نہیں ہے۔ ایک اور شاعر صاحب کچھ یوں بھی گویا ہوئے تھے:
”زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں۔“
مختصر مگر جامع انداز میں کہا جائے تو دنیا کی کہانی محسوسات کے دم قدم سے ہے۔ ہر شخص نے دنیا کو جیسے دیکھا، ویسے ہی بیان کیا۔ چیزیں ہمیشہ ایک جیسی نظر نہیں آتیں۔ اب شعری حسن سے شاعروں کو فائدہ پہنچاتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ رہنما کا کام ہے کہ وہ راستہ بتائے اور اپنے متعلقین کو سفر کی تیاری کے لیے ذہنی طور پر تیار کرے، یعنی ان کا حوصلہ بلند کرے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے ہاں مایوسی گناہ ہے۔ بلکہ میں نے آج ہی حافظ احمد طارق صاحب کی تفسیر کے دوران پڑھا ہے کہ شیطان کا اصل نام عزازیل تھا اور ابلیس اس کا صفاتی نام ہے، جبکہ ابلیس کے معنی مایوس کے بیان کیے گئے ہیں۔ گویا مایوس ہونا شیطانی فعل ہے۔ شیطان روزِ ازل سے یہی کام کر رہا ہے کہ انسان کو اس کے رب سے مایوس کیا جائے۔ اب انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بارے میں جاننے کی پوری کوشش کرے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ خلیف اللہ فی الارض ہے۔ ہم نے خلیفہ کا تصور صرف اس شخص تک محدود کر دیا ہے جو کسی سلطنت کا حکمران ہو، حالانکہ خلیفہ بنیادی طور پر کسی کا نمائندہ ہوتا ہے جسے کسی خاص کام پر مامور کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں قرآنی تصورِ خلافت کا تعلق تمام انسانوں کی ذمہ داریوں اور ان کے کردار سے بھی ہے۔ جب ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے، لیکن ہم شعوری طور پر خلافت یا نیابت کی حدود و قیود سے آگاہ نہیں ہیں، تو پھر ہم واقعی ”خلیفے“ ہیں!کاش! ہم سب جانتے کہ ہر انسان کم از کم اپنے جسم کی کائنات کا تو خلیفہ ہے۔ سب سے پہلے ہمیں احکامِ خداوندی اپنے اوپر لاگو کرنے ہیں۔ اگر ہم اس مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ہم نے امامت کا کام سرانجام دینا ہے، یعنی دوسروں کی رہنمائی کرنی ہے۔ رہنمائی کا بھی ایک دائر? کار، ایک طریقہ اور ایک ضابطہ ہوتا ہے۔اس ضابطے کو سمجھنے کے لیے غوروفکر کی ضرورت ہے، اور غوروفکر کرنے کے لیے ہوش و حواس سے کام لینا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر حکمت کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے انبیا علیہم السلام تشریف لائے، ان میں سے ہر ایک کو ایک مخصوص قوم کی طرف بھیجا گیا، جبکہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انسانوں کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔ آپ? کی بعثت سے تہذیب و تمدن نے ایک نئی معراج حاصل کی، اور اس عظیم تسلسل کو ہم نے آگے بڑھانا ہے۔ کیسے بڑھانا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ افسوس! ہم باتیں تو خوب کرتے ہیں اور بلندوبانگ دعوے بھی کرتے ہیں، لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہمارے سارے دعووں کی عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مکی زندگی میں لوگوں کے سامنے اپنے کردار اور عمل کی ایسی مثال پیش کی کہ اپنے تو اپنے، دشمن بھی آپ کو صادق اور امین کہنے پر مجبور ہو گئے۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے حالات کا سب سے پہلے بنظرِ غائر مطالعہ کیا اور گہری سوچ بچار سے کام لیا۔مسلمانوں، یہودیوں اور منافقین پر مشتمل مختلف طبقات کے درمیان اپنی قیادت کو تسلیم کروانا کوئی آسان کام نہیں تھا، کیونکہ آپ نووارد تھے، جبکہ مقامی لوگوں کا معاشرتی اور قبائلی نظام پر گہرا اثرورسوخ تھا۔ دانائی اور حکمت کی بھی ایک طاقت ہوتی ہے، اور اس طاقت کے سامنے بہت سی تدبیریں دم توڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاملات کو افرا تفری کا شکار ہونے سے بچایا گیا۔ دھرنوں کی نوبت نہیں آئی اور نہ ہی غیر یقینی کی کیفیت نے سر اٹھایا۔ معاملات باہمی مشاورت اور معاونت سے آگے بڑھتے گئے۔ یوں ریاستِ مدینہ کا قیام عمل میں آیا اور کائنات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔یہ نیا دور واقعی ایک نئے عہد کا آغاز تھا، جس میں روایات کا تسلسل بھی تھا اور جدت کا آغاز بھی۔ کاش! آج ہم سب ریاستِ مدینہ کے نام کو استعمال کرنے کے بجائے اس کی اصل فکر اور روح کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ایسا ہوتا تو شاید ہماری روح عہدِ الست کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ پاتی، ہم سوچ سمجھ کر اگلا قدم اٹھاتے اور اپنے ہی پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے سے ہمیشہ کے لیے باز آ جاتے۔ ہم خلیفہ بن کر اپنی حدود و قیود میں رہتے اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کے دائرے میں وہ ضابطہ نافذ کرتے جس کا تقاضا ہمارا خالق ہم سے کرتا ہے۔






