میرے قلم کی آپ بیتی
شازیہ یاسین
میں کوئی معمولی قلم نہیں ہوں نہ میرا رنگ ہلکا ہے اور نہ ہی میری طاقت معمولی ہے میں بہت طاقتور ہتھیار ہوں جو دنیا کے نقشے کو بدل بھی سکتا ہے اور میرے استعمال سے بہت عام سا انسان بہت خاص بھی بن جاتا ہے۔ میں سب سے پہلے جس انسان کے ہاتھ میں ایا یہ وہی ہیں جو اس وقت میرے ذریعے اپنے خوبصورت الفاظ صفحہ قرطاس پر بکھیر کر اپ کو میری آپ بیتی سنا رہی ہیں ان سے میرا تعلق بہت پرانا ہے جب یہ زمانہ طالب علمی میں تھی تو بھی ان کو مجھ سے محبت تھی یہ ہر وقت مجھے اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ صبح آفتاب کی سنہری کرنوں کے ساتھ اپنے دن کے اغاز سے لے کر رات کی سیاہ تاریکی میں ڈوبنے تک، نرم بستر پر جانے سے پہلے یہ میرے ذریعے ہی اپنے تمام خیالات کو اور تمام دن کی روداد کو اپنی ننھی سی ڈائری میں قید کر لیتی تھی۔ میں ان کے انگلیوں میں پڑا ہوا سوچتا رہتا تھا کہ یہ کتنی حساس ہیں کہ ہر لفظ کو اتنی گہرائی میں دل میں رکھتی ہیں اور اتنی گہرائی سے سوچتی ہیں کہ چھوٹی سی چھوٹی بات بھی اہم بن جاتی ہے۔یہ اس دنیا کا مقابلہ کیسے کر پائیں گی کہ ان جیسے حساس لوگوں کی یہاں شاید کوئی جگہ نہیں ہے لیکن انہوں نے مجھ سے اپنا رشتہ جو پہلے دن سے جوڑا تھا اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ویسے ہی قائم رکھا۔ انہوں نے میرے ذریعے ہر اس بات کو موضوع بنایا جو اس دنیا میں معاشی طور پر، نظریاتی طور پر، جغرافیائی طور پر ضروری تھا یا یوں کہہ لیجیے کہ ہر لحاظ سے انسانوں کو اس کی ضرورت تھی۔ ہر موضوع پر لکھتے ہوئے انہوں نے جس طرح میرا استعمال کیا اور جس طرح انہوں نے مجھے میری قدر و قیمت اور طاقت سے متعارف کروایا اس کا اندازہ مجھے بخوبی ہے۔جس طرح یہ مجھے ہر موضوع کے لیے استعمال کرتی ہیں چاہے وہ کشمیر کا موضوع ہو یا فلسطین اور غزہ میں سسکتے ہوئے مسلمانوں کا، بھارت میں بابری مسجد کے بعد ائے یا کشمیر میں اذان دینے کی، اے پی ایس کے معصوم شہدائ کا ذکر ہو یا چھ ستمبر میں پاک فوج کی بہادری کے قصے، سیاچن میں برف پوش چوٹیوں کی روداد ہو یا نخلستان میں تپتی ریت کی داستان انہوں نے ہر لحاظ سے میرا اپنے پاس رکھنے کا حق ادا کیا ہے ہر وہ بات دوسروں تک پہنچائی ہے جو ان کے اپنے دل میں آتی رہی۔ معاشرے کی اصلاح سے لے کر گھر میں موجود چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایک اہم موضوع بنا کر زمانے میں پھیلانے کی کوشش کی ہے میں ان کا بہت مشکور ہوں۔ یہ ایک استاد بھی ہیں اور اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ انہوں نے جس طرح میرا استعمال کیا ہے میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ملک و قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے مجھے ہمیشہ مثبت طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے مذہب اسلام کے بارے میں مختلف موضوعات پر کھل کر آیات اور احادیث کے حوالے کے ساتھ جس طرح بات کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ملک و ملت کی سالمیت کی بات ہو، معاشی بات ہو یا سماجی قصے ہوں انہوں نے ہر طریقے سے ہر موقع پر مجھے بہتر طریقے سے استعمال کر کے میرا دنیا میں رہنے انے اور ان کا اپنے پاس رکھنے کا حق ادا کیا ہے۔انہوں نے میرا استعمال کر کے مایوسی میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو امید کی نئی روشنی سے منور کیا ہے، انہوں نے جس طرح ننھے منے بچوں کے ننھے ہاتھوں میں مجھے تھما کر اور مجھے استعمال کرنے کا طریقہ ان کو سکھا کر ان کو اس زیست مسلسل میں سفر کرنے کے قابل بنایا ہے مجھے اس پر ہمیشہ فخر ہے اور رہے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ مل کر ان کے الفاظ کو، ان کے خیالات، ان کے جذبات کو اپنی روشنائی سے اپنی روح سے صفحہ قرطاس پہ جس طرح بکھیروں گا انشائ اللہ وہ اس معاشرے کے لیے اس دنیا کے لیے اور ملک و ملت کے لیے ایک اچھا اور مثبت عمل ثابت ہوگا۔ اخر میں میں اپنے اللہ تعالی سے یہ دعا کرتا ہوں کہ میرا اور ان کا ساتھ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے اور ہم مل کر امت مسلمہ کے لیے وہ تمام کام کریں جو طارق بن زیاد سے لے کر ایوبی تک اور خلفائے راشدین سے لے کر تمام مسلمان حکمران تک کرتے رہے۔ ہم مسلمانوں کو اپنی طاقت سے اپنے الفاظ سے ایسی قوم بنا دیں کہ وہ پھر پوری دنیا پر حکومت کریں اور دین حق کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے اللہ تعالی میرا اور ان کا ہمیشہ حامی و ناصر ہو۔ آمین






