آ گہی دروازہ اور بہتری کا سفر۔۔۔
ناصرنقوی
آ گاہی کا دروازہ کھلاھو تو یہ آ پ پر منحصر ہے کہ آ پ کی طبیعت، ذوق اور ہمت کیا چاہتی ؟اگر آ پ خاندانی، پڑھے لکھے اور ذمہ دار ہیں تو آ پ کی سوچ محدود ہرگز نہیں ہوگی، نہ ہی منفی ہوگی لیکن اگر اس میں کوئی کمی خواہ کسی بھی وجہ سے پیدا ہو چکی ھے تو پھر اکثر اوقات آ گاہی بھی خدشات اور وسوسے پیدا کر دیتی ہے اسی لیے انسان کو ہر عقلمند نے سوچ کو مثبت اور انسانیت کی اقدار کو نہ صرف پروان چڑھانے کا مشورہ دیا ہے بلکہ خلق خدا سے پیار اور محبت کا سبق بھی سکھایا ہے لہذا جو ایسا کرتے ہیں وہ دوسروں کی فلاح میں خود بھی فلاح پاتے ہیں ان کی زندگی دوسروں کے لیے وقف ہوتی ہے اور زندگی دینے والا اس کی ہمت حوصلہ افزائی سے دوا م بخش رہا ہوتا ہے وہ اگر 24 گھنٹے بھی صرف مخلوق خدا کی بھلائی میں سرگم رہے تب بھی رات کو پرسکون نیند سوتا ہے جبکہ اس معاشرے کی تضادات اور تلخیاں ایسی ہیں کہ اللہ اللہ کرنے اور ہر وقت اس سے کچھ نہ کچھ مانگنے والے ایسے بھی ہیں جن کا جنازہ انہیں پہلی بار مسجد لے کر جاتا ہے اور کچھ عورتوں کا کفن ہی انہیں پہلی بار پردہ کرواتا ہے چچا غالب نے کہا ہے تھا۔۔
بہت سجدے کیے اسے پانے کے لیے غالب
شاید جس سجدے میں پانا تھا وہی قضا کر بیٹھے
جب کہ احمد فراز کا کہنا تھا۔۔۔
لوگوں نے روز ہی کچھ مانگا خدا سے
ایک ہم ہی تیرے خیال سے آ گے نہ گئے
لیکن شاعر مشرق علامہ اقبال کچھ اور ہی کہتے ہیں۔۔۔
کمال ہی شکوہ کیا آ ج مسجد میں خدا نے
صرف مانگنے ہی آ تے ہو کبھی ملنے بھی آ یا کرو
یہ سب کے سب باکمال لوگ تھے انہیں ہر چیز کا ادراک تھا لیکن تجربات اور مشاہدات نے جو انہیں سمجھایا وہ پیغام دوسروں تک پہنچا دیا مقصد اصلاح معاشرہ، فلاح انسانیت تھی یہ سب اور ان جیسے تمام انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ رکھتے تھے کہنا یہی تھا کہ جب اللہ شہ رگ سے قریب ہے تو اسے مسجدوں ا ور سجدوں میں نہ ڈھونڈو ،اسے اپنی ذات کی نفی کر کے خلق خدا کی بھلائی میں تلاش کرو۔۔ نماز، روزہ ،زکو? فرائض ہیں ان میں بخشش کی تمنا نہ کرو ،کچھ ایسا کرو جو اس کے علاوہ ہو انسانیت کی بھلائی کے لیے۔۔ اس لیے کہ مالک دیکھ رہا ہے کہ کون اپنے لیے جی رہا ہے اور کسے خلق خدا کی فکر لاحق ہے کیونکہ تناو¿ خوشی چھین لیتا ہے، انا اور خود پرستی ترقی کی راہ کی رکاوٹ بنتی ہے خوف پیشرفت روک دیتا ہے، بہانے نتائج کی راہ روکتے ہیں ،ضرورت سے زیادہ سوچنا عمل روک دیتا ہے، ھچکچاہٹ مواقع چھین لیتی ہے اور ٹال مٹول رفتار کو سست کر دیتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ہیں جیسے ہیں کہ بنیاد پر نیکی کی روایت جاری رکھیں اسے چھوٹا یا بڑا کبھی نہ سمجھیں، الحمدللہ ہمارے تضا دادت سے بھرے معاشرے میں درد دل رکھنے والوں کی کمی نہیں، بھلائی کے کاموں میں بھی حصہ لینے والوں کا قحط نہیں لیکن ان باہمت، بہادر مثبت سوچ کی مالک محترمہ ربا ہمایوں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں اس باپردہ قابل فخر خاتون نے دو دہائیوں پہلے ڈور آ ف اورنس،، کے نام سے غالبا 2005 میں آ گاہی کا دروازہ کھولا اور پرعزم انداز میں بہتری کے سفر کا آ غاز جھگی اسکول سسٹم کے تحت کم ترقی یافتہ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دینے کی ٹھان لی ابتدا میں مشکلات پیش آ ئیں لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں اور 2007 میں اس ادارے کی رجسٹریشن کرا کے اپنا مشن جاری رکھا انھیں یقین کامل تھا کہ اگر بے لوث انداز میں تعلیمی میدان میں ہی نہیں ،بچوں کی ھنر مندی اور کمیونٹی کی فلاح کا کام کیا جائے تو یہی اجتماعی کامیابی ثابت ہوگی انہوں نے ابتدا میں ڈور آ ف اورنس ،،سینٹر بنائے اب انہیں اسکول کا درجہ دیا جا چکا ہے جہاں بچوں اور بچیوں کی دنیاوی اور دینی تعلیم کے ساتھ مختلف کاموں کی ھنر مندی بھی سکھائی جاتی ہے جس میں بچیوں کے لیے دستکاری اور بچوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کا اہتمام بطریق ا حسن موجود ہے ماحول ان اداروں کا ایسا خوبصورت ہے کہ طلبائ و طالبات کو غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع بھی ملتے ہیں مختلف شعبہ جات میں اس ادارے کے بچوں اور بچیوں نے نام کمایا لیکن کھیلوں میں کرکٹ کی دنیا میں ابھرنے والا روشن ستارہ حمزہ ظہور بڑا نام ہے جس نے انگلینڈ کے خلاف بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ۔ گزشتہ ہفتے مقامی ہوٹل میں ڈور آ ف اورنس،، کی سالانہ ایگزیکٹیو کمیٹی میٹنگ ہوئی، نو منتخب عہد داروں سے چیئر پرسن ربا ہمایوں نے حلف لیا صدر سیف الاعظم خان نے سالانہ آ مدن اور اخراجات کی آ ڈٹ رپورٹ پیش کی، نئے سال کی سرگرمیوں کے لیے تجاویز مانگی گئیں اسی طرح پیشکش کی گئی کہ آ ڈٹ رپورٹ اور سابقہ کارکردگی پر ہاو¿س میں ہی نہیں بعد ازاں بھی اعتراض کا حق سب کو حاصل ہے ہم صاف و شفاف انداز میں صرف خوشنودی الہی کے لیے خلق خدا کی بھلائی میں سب کے سب رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں چیئر پرسن ربا ہمایوں نے اپنے اختتامی خطاب میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے صدق دل اور نیک نیتی سے عام لوگوں کی لیے بلا امتیاز آ گاہی کا دروازہ کھولا، ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم ہمت نہ ہارے تو بہتری کا یہ سفر مثالی بنے گا مالک کائنات نے بھی ہمیں ہماری نیتوں کا اجر دیا اور آ ج ہم ایک خوبصورت پرعزم اور باہمت ٹیم کے ساتھ سرگرم عمل ہیں کامیابیاں ہمارا نصیب بنیں ھیں اس لیے کہ ہم نے ایک صاف ستھرا اور منفرد انداز اپنایا ہے اسی لیے ہماری ٹیم میں نئے چہروں کا اضافہ ھر سال ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ بیت المال جیسے سرکاری اداروں کا تعاون بھی مثالی نظر آ یا حالانکہ ان کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا ہے جو ہمارے تجربے اور مشاہدے میں غلط ثابت ہوا انہوں نے کہا کہ لوگ مردوں کو کندھا دینا افضل سمجھتے ہیں کاش، یہ لوگ اسی طرح زندوں کو سہارا دینا سمجھ لیں تو زندگی آ سان ہو جائے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے بغیر آ دمی انسان نہیں بن سکتا لیکن دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے دور ہیں ہم دوسروں پر الزام لگا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہیں، یہ انداز قابل فکر ہے ہمیں مملکت پاکستان اور اس میں بسنے والوں کے لیے ہر سطح پر کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے کیونکہ ہم ترقی پذیر ہیں ترقی یافتہ نہیں، اس پروقار تقریب کے آ خر میں نو منتخب عہدے داروں میں یادگاری شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ ڈور آ ف اورنس ،،کی یہ تقریب کئی حوالوں سے منفرد اور مثالی تھی جو صاحب ثروت اور مخیر حضرات کو دعوت فکر دیتی ہے کہ جس طرح دو دہائی قبل محترمہ ربا ہمایوں نے ڈور آ ف اورنس،، کا پودا لگایا جو آ ج سایہ تھا درخت بن چکا ہے جس سے ہزاروں بچے اور بچیاں استفادہ حاصل کر چکے ہیں اسی طرح وہ بھی اپنے حصے کا ایک نیک کام اپنی نیک کمائی سے کر گزریں کیونکہ یہی خلق خدا کی بھلائی بخشش کا راستہ بن سکتا ہے اس لیے کہ بہتری کا سفر نیتوں کا مرہون منت اور آ گاہی کا دروازہ کسی بھلائی کی تحریک سے کم نہیں ہوتا، حقیقت تو یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رہنا کوئی معرکہ نہیں، کارنامہ تو یہ ہے کہ دوسروں کے لیے زندہ رہا جائے جس کی ایک زندہ مثال?? ڈور آ ف اورننس،، موجود ہے






