#کالم

آئینی حقوق

shaid bukhari

شاہد بخاری

مولانا ظفر علی خاں فاو¿نڈیشن کی خصوصی نشست میں”آ ئینی حقوق و سو سائٹی کا کردار” کے موضوع پر اظہار خیال کے لئے آیئنی حقوق کی ایڈ ووکیٹ اشبہ کامران مدعو تھیں۔چیئر مین فاو¿نڈیشن جناب خالد محمود کی زیر صدارت افتتاحی کلمات میں حکیم راحت سوہدروی نے کہا کہ ریاست کو چلانے کے کے اصول و ضوابط آئین میں درج ھوتے ھیں،جن پر عمل کر کے ملک ترقی کرتے ھیں اور عمل نہ کرنے والے پسماندہ رھتے ھیں۔ گیسٹ سپیکر نے بتلایا کہ دو برس تک جب یہ ھی سننے کو ملا کہ یہ بے چاری ایک سپیشل بچے کی ماں ھے تب سے میری زندگی کا اصل سفر شروع ھوا۔قران مجید میں حضرت موسیٰ کی والدہ کا ذکر ھے،جو اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ھوئے فرعون کے محل تک جا پہنچیں۔۔حضرت مریم،حضرت عیسیٰ کے لیے ڈھال بنی رھیں۔۔۔ مکہ کی بے آب و گیاہ سر زمین میں حضرت حاجرہ کا کوہ صفا و مروہ کے درمیان اپنے بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں بھاگنا دوڑنا، آب زم زم کا نکلنا اور آج بھی جاری رھنا،نے مجھے motivate کیا اور عالم بیچارگی سے نکل کر 8ھزار سپیشل بچوں کو بھی عالم بے چارگی سے آئین پاکستان کی طاقت اور روشنی سے نکال چکی ھوں، جنھیں نہ میں نے کبھی معذور کہا اور نہ ھی معذور سمجھا۔ دوستوں نے امریکہ شفٹ ھونے کا مشورہ دیا کہ وھاں کا آئین سپیشل بچوں کو بہت سہو لیا ت دیتا ھے لیکن میں وھاں شفٹ نھیں ھوئی۔اپنے ملک اور اس کے آ ئین کے ساتھ جڑی ھوئی ھو ں۔تا کہ یہاں کے بچے بے سہارا نہ رھیں۔میں نے اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے لئیے کینٹ میں سکول قائم کیا، وہ جوان ھو گیا تو میں نے میکڈونلڈ ز والوں سے کہا،کہ میرے بیٹے کو Job دیں، یہاں کے چیف کے انکار پر میں نے پو چھا،جب امریکی آئین کی روشنی میں وھاں کے میکڈونلڈز میں سپیشل بچوں کو Jobs مل سکتی ھیں تو یہاں کیوں نہیں مل سکتیں؟؟ یہاں کے بچے کیا ناک سے کھاتے ھیں؟چیف نے جواب دیا پاکستان میں آئین پر کون چلتا ھے؟ میں نے امریکی چیف کو خط لکھا، انھوں نے جواب میں لکھا کہ اگر آپ کے بچے کو جوب نہ دی گئی تو ھم اس کا لائیسنس کینسل کر دیں گے۔یہ پڑھ کر یہاں والوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ سینیٹر وغیرہ ہیں؟میں نے جواب دیا کہ میں عام شہری ھوں،ھمارے
ملک کے آ ئین کا آر
ٹیکل 25 شہری کو روز گار فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ھے۔
فاضل سپیکر نے بتلایا کہ گزشتہ دنوں T.V پر منسٹر رانا ثنا اللہ بتلا رھے تھے کہ پاکستان کیسے معرضِ وجود میں آ یا تو Gen Zee بچی کے اس سوال نے جی قق خوش کردیا کہ ھمیں سب کو پتہ ھے کہ پاکستان کیسے بنا؟اب آپ یہ بتائیں کہ اس کو چلائیں کیسے؟آئین ھمیں کیا حقوق دیتا ھے اور سٹیٹ کے کیا فرائض ھیں؟بچوں کو آ ئینی شہری بنائیں۔وہ پوچھتے ھیں کہ 1956ئ کا آئین کیوں منسوخ کیا گیا؟ آرٹیکل نمبر 37/38 کے تحت پیٹیشن جو میں نے دائر کی تھی اس میں پوچھا گیا تھا عوام جو ٹیکس دیتی ھے ان پر خرچ کرنے کے بجائے حکومت اپنی تشہیر پر کیوں خرچ کر رھی ھے؟کیا Under آرٹیکل 124 پارلیمنٹ سے اجازت لے کر capacity چار جز کی ادائیگی کی گئی۔16 ستمبر 2026کو مجھے چیف جسٹس ھائی کورٹ نے ایک لاکھ حرجانہ کردیا کہ یہ بے بنیاد کیس ھے، جس سے عدالت کا وقت ضائع ھوا ھے۔ تم ھوتی کون ھو یہ پوچھنے والی؟ میں نے کہا آ رٹیکل 118 ھمیں یہ پو چھنے کا حق دیتا ھے۔۔۔۔سوالات کے جوابات میں اشبہ کامران ایڈووکیٹ نے بتلایا کہ ھمارے جج کو آرٹیکل 91/92 کا پتہ ھی نھیں تھا کہ ڈپٹی پرائم منسٹر کوئی بن ھی نھیں سکتا۔ آئین نے مجھے اتنی طاقت دی ھے میں نے حاضر سروس جنرل صاحب کی بطور چئیرمین نادرا کی تقرری کو چیلنج کر دیا۔اسمبلی نے آئین میں ترمیم کردی، لیکن ھائی کورٹ کے حکم پر انھیں ھٹانا پڑا۔میں کبھی بھی پرسنل نھیں ھوتی، اس لیے نام نھیں لکھتی صرف عہدہ لکھ کر،خلا ف آئین کام کی نشان دہی کرتی ھوں۔ھماری پستی کی وجہ ملکی آ ئین سے لا علمی اور اداروں کا آ ئین پر عمل نہ کرنا ھے۔ھم "نیو کلیئر پاور” تو اللہ کی مہربانی سے بن چکے ھیں،اب اس ملک کو”آئینی طاقت” بھی بنا نا ھے۔ سینیٹری ورکرز کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تو پروٹیسٹ میں صرف 4ورکرز ڈرتے ڈرتےآ ئے کہ انھیں نوکری سے ھی نہ نکال دیا جائے۔۔
کیوں کہ عوام کے ذہنوں میں یہ راسخ ھو چکا ھے کہ :
اس دور کا حاکم کہتا ھے
چپ چاپ سزائیں سہتا جا
سسکار اٹھے تو یاد رکھو
سسکار بھی دہشت
گردی ھے
آپ سب سٹیٹ کے وفادار رھیں۔لیکن اس کے غلط کام پر آواز ضرور اٹھائیں۔ڈریں مت۔ریاست ماں کی طرح مہر بان ھوتی ھے۔ سیکرٹری Establishment کو میں نے 8 خط لکھے،انھوں نے ایک کا بھی جواب نھیں دیا۔کسی اور کیس میں وہ حا ضر عدالت ھو گئے۔چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کی۔وہ چپ رھے کیوں کہ آئین نے انھیں لا جواب کر رکھا تھا D.G.PHAکے حکم سال2018کو implement کروانے کے لئے شاہد بخاری بھی بیسیوں
لیٹرز لکھ چکے ھیں
لیکن بے سود۔ موجودہ طوفان بد تمیزی تب ھی ختم ھو گا،جب ھماری عوام آئینی شعور حاصل کر لے گی۔گھر والوں کو بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔سکولوں کالجوں میں آئینی حقوق و فرائض پڑ ھائے جائیں۔
ھمارا ملک سورت رحمٰن کی تفسیر ھے جہاں ھر طرح نعمتیں موجود ھیں۔
میری بہن کے سکول میں بھی آئینی حقوق و فرائض سے طلبائ کو آگا ھی دی جاتی ھے۔
10اپریل کو”نیبرا”
کے خلاف آرٹیکلز 9,14 و 15 کے تحت پیٹیشن دائر کی کہ201 یونٹ والا قانون ظلم ھے۔ 8 ستمبر کو جج صاحب نے پہلی اکتوبر سے 6ماہ کی
پینلٹی ختم کر دی ھے۔Actual بل ھی اب ادا کیا جائے گا۔ آئین کاآرٹیکل 8 ھر شہری کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتاھے۔جس میں آزادی ئ تحریر و تقریر شامل ھیں۔ہ۔Fair Tialکا حق آرٹیکل 10A کے تحت ھر شہری کو حاصل ھے۔آرٹیکلز 15تا20کے تحت ھر شہری کو حق حرکت،حق اسمبلی، حق ایسوسی ایشن، حق تجارت،حق تقریر،حق مذھب کی آزادی حاصل ھے۔آئین کے آرٹیکل 25A کےتحت5 تا 16برس کے بچوں کو لازمی و مفت تعلیم،سٹیٹ دے گی۔ کلماتِ صدارت میں خالد محمود صاحب نے اشبہ کامران ایڈووکیٹ کے سیر حاصل لیکچر کو سرا ھتے ہوئےکہا کہ نماز مغرب کی جماعت کا وقت ھو چکا ھے اور آئن مدح باقی ہے،باقی علم وشعور آئیندہ نشست میں دیں محترمہ کی ھمت اور تربیت کی بدولت ان کا 35 سالہ بیٹا اب ملٹی نیشنل کارپوریشن میں اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے رھا ھے،اللہ سب سپیشل بچوں کی غیبی مدد فرمائے اور ان کے والدین کو ان کی خوشیاں دکھلائے

آئینی حقوق

آئینی حقوق

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے