#کالم

ریاست، صنعت اور وقارشہزادہ عالمگیر باجوہ

Untitled 1

منشا قاضی حسبِ منشا

قوموں کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض اقتدار یا دولت کی علامت نہیں بنتے بلکہ ایک عہد کی فکری ساخت، معاشی سمت اور قومی ترجیحات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شہزادہ عالمگیر باجوہ اُنہی شخصیات میں شامل ہیں جن کی زندگی صنعت، سیاست اور فلسفۂ ریاست کے مابین ایک باوقار اور بامعنی مکالمہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کا سفر محض فرد کا سفر نہیں، بلکہ ایک نظریے کا ارتقا ہے—وہ نظریہ جس میں صنعت قومی طاقت اور سیاست قومی خدمت کا ذریعہ بنتی ہے۔
ان کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان میں صنعت اور سیاست کے باہمی تعلق کو وقار، توازن اور فکری گہرائی کے ساتھ نبھایا۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک ممتاز صنعتی گھرانے سے تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد قومی صنعت کاری کے اولین معماروں میں شامل رہا۔ یہ وراثت ان کی شخصیت میں قومی شعور اور ذمہ داری کا احساس راسخ کر گئی۔
شہزادہ عالمگیر باجوہ کا تعلق پنجاب کے ایک ایسے ممتاز صنعتی گھرانے سے تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد صنعتی بنیادوں کی تعمیر میں اوّلین صف میں نظر آتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صنعت کاری محض منافع نہیں بلکہ خودمختاری، روزگار اور قومی خود اعتمادی کا استعارہ تھی۔ اسی پس منظر نے ان کی شخصیت میں نظم، وقار اور قومی ذمے داری کا شعور پیدا کیا، جو عمر بھر ان کے فیصلوں میں جھلکتا رہا۔
تعلیم کے میدان میں انہیں وہ اعلیٰ معیار نصیب ہوا جو اس دور کی صنعتی اشرافیہ کا خاصہ تھا۔ تجارت اور معاشیات میں ان کی علمی تربیت محض نصابی علم تک محدود نہ رہی، بلکہ ایک فکری بصیرت میں ڈھل گئی۔ یہی علم ان کے نجی کاروباری فیصلوں میں بھی کارفرما رہا اور یہی شعور انہیں ریاستی سطح پر معاشی منصوبہ بندی کے قابل بناتا رہا۔ وہ اعداد و شمار کو بھی قومی تقدیر کے زاویے سے دیکھنے کا ہنر رکھتے تھے۔
سیاسی منظرنامے میں شہزادہ عالمگیر باجوہ کا نام پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں نمایاں ہے۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئی سیاسی فکر کو جنم دیا تو اس کے ساتھ وہ اہلِ دانش اور اہلِ صنعت کھڑے تھے جو انقلاب کو جذبات کے بجائے نظم اور حکمت کے ساتھ دیکھنا چاہتے تھے۔ شہزادہ عالمگیر باجوہ کی شمولیت دراصل ترقی پسند سیاست اور ذمہ دار صنعت کے مابین ایک فکری اتحاد کی علامت تھی۔
بطور وفاقی وزیر، ان کی شناخت ایک ٹیکنوکریٹ سیاست دان کی رہی۔ وہ عوامی خطابت کے شور سے زیادہ صنعتی ڈھانچوں، پیداواری اہداف اور معاشی توازن پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا سیاسی کردار اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ریاست محض نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں اور مستحکم معیشت سے قائم رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندر انہیں “اولڈ گارڈ” وفادار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے—ایسے لوگ جن کی وابستگی وقتی مقبولیت نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پر مبنی ہوتی ہے۔
کاروباری دنیا میں شہزادہ عالمگیر باجوہ کا سب سے نمایاں حوالہ راوی اسپننگ ملز ہے، جہاں بطور چیئرمین انہوں نے ایک صنعتی ادارے کو قومی معیشت کے مضبوط ستون میں تبدیل کیا۔ کپاس کے دھاگے کی پیداوار اور برآمدات میں اس ادارے نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت کو تقویت دی۔ ان کی بصیرت اپنی ذات یا اپنے ادارے تک محدود نہ رہی؛ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) میں ان کی رائے کو وقار اور سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ ٹیکسٹائل پالیسی، برآمدی ڈیوٹیز اور صنعتی جدید کاری جیسے اہم امور پر وہ ریاست کے فکری مشیر سمجھے جاتے تھے۔
ان کے خاندانی مفادات ٹیکسٹائل سپلائی چین کے مختلف مراحل تک پھیلے ہوئے تھے، جس نے انہیں لاہور کی کاروباری برادری میں ایک مرکزی حیثیت عطا کی۔ وہ صنعت کو ایک الگ الگ یونٹس کے بجائے ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتے تھے—ایسا نظام جو کسان سے لے کر برآمد کنندہ تک سب کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں ایسے کردار شاذ ہی ملتے ہیں جو وفاقی سیاست جیسے نازک اور پُرخطر میدان میں فعال رہتے ہوئے ایک وسیع صنعتی سلطنت کو بھی توازن اور وقار کے ساتھ چلا سکیں۔ شہزادہ عالمگیر باجوہ نے یہ ثابت کیا کہ اگر بصیرت، دیانت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات ساتھ ہوں تو اقتدار اور صنعت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل بن سکتے ہیں۔
ان کی شخصیت کو ایک باوقار، متین اور پیشہ ور مدبر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے—ایسا مدبر جس کی ترجیح ذاتی شہرت نہیں بلکہ صنعتی استحکام اور قومی معاشی ترقی تھی۔ ان کی زندگی اس فلسفے کی عملی تعبیر ہے کہ اصل قیادت وہی ہے جو خاموشی سے ادارے بنائے، معیشت کو سنبھالے اور تاریخ میں شور کے بغیر اپنا مقام محفوظ کر لے۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کا اگر ذکر نہ کیا گیا تو یہ نا انصافی کے علاوہ یہ بددیانتی ہوگی ان کے توسط سے شہزادہ عالمگیر سے ملاقات ہوئی اور ان کی یہ ملاقات عالمگیر ثابت ہوئی ۔۔کرنل اشفاق احمد کے ہمراہ ان کے دفتر میں جو ملاقات ہوئی اس کی روداد اگلی اشاعت میں ملاحظہ فرمایئے گا ۔ جس میں ہمارے ہر دلعزیز مصور ہارون الرشید اپنے دستِ ہنر سے نکلے ہوئے شہ پارے شہزادہ عالمگیر کو پیش کریں گے۔۔۔ شہزادہ عالمگیر سے ہمیں ملتے ہیں منزلوں کے سراغ کیونکہ وہ رہبروں کے مجھے امام نظر آتے ہیں ۔شہزادہ عالمگیر کی دورس نگاہ کا یہ اعجاز ہے کہ وہ بڑی دور تک دیکھتے ہیں ان کی بصیرت اور بصارت کا حسین امتزاج منزلوں کا پتہ دیتا ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے