اسد الدین اویسی کا مودی کو بھونڈا مشورہ
أج کا اداریہ
انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں بڑی سمجھدار پہ عقلمندی شناز بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ تم بھی پاکستان میں ایسا ھی سرجیکل سٹرائیک کریں۔
اتوار کی صبح ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’مودی جی ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان میں بھیج کر ممبئی حملہ کرنے والوں کو اٹھا لائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینیزویلا کے منتخب صدر کو اپنی فوج کے ذریعے گرفتار کر کے امریکہ لے جا سکتے ہیں تو بھارت بھی ایسا کر سکتا ہے۔ اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اگر ٹرمپ کر سکتا ہے تو کیا آپ کم ہیں؟‘
غیرملکی خبررساں ادارے سے جاری کردہ اویسی کی تقریر کے اس کلپ میں اویسی نے امریکہ کی وینزویلا میں کارروائی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی یمن میں کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دیگر ممالک اپنی فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔
اسد الدین اویسی کے اس بیان پر نہ صرف پاکستان سے بلکہ بھارت کے اندر سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی صحافی برادری اور تجزیہ کار اس بیان کو ’مودی کی اپنی خواہش‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ بہت سے صارفین نے اس جانب حوالہ دیا کہ اویسی مودی پر تنقید کر رہے تھے یا لطیفے سنا رہے تھے ۔
بھارت کے اندر سے ایک شہری نے کہا کہ اویسی جانتے ہیں کہ مودی اور اُن کے ساتھی ایسا نہیں کریں گے۔ کیونکہ امریکہ اور چین پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ یہ صرف حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے کہ وہ ردعمل دے۔‘
گزشتہ برس کی مئی کی جھڑپوں اور تناؤ کی صورتحال کا سامنا کرنے والے ایٹمی قوت کے حامل دو ہمسایہ ممالک کے اہم سیاسی عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے بیانات میں کس قدر سنجیدگی کی ضرورت ہے اور اسد الدین اویسی کیا پھر ویسی ھی جھڑپ چاہتے ہیں اور جواب میں ویسا ہی أپریشن أپریشن بنیان المرصوص ؟
اسد الدین اویسی صاحب جو فرما رہے ہیں وہ معذرت کے ساتھ خود مضحکہ خیز اور احمقانہ بات ہے جبکہ مئی 2025 کے بعد سے بہت سی ہوائی باتیں (بھارتی) حکومت خود بھی کرتی ہے۔ ‘
اسد الدین اویسی بظاہر مودی کے مخالف نظر آتے ہیں لیکن یہ اندر سے ہمیشہ اُن کے ساتھ رہے ہیں اور مودی صاحب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے سال پہلگام کے واقعے کے بعد مودی کی حکومت نے پارلیمانی وفد مختلف ممالک میں بھیجا اس میں ششی تھرور اور اسد اویسی بھی شامل تھے جنھوں نے وہاں جا کر مودی سرکار کے جھوٹ پر مبنی بیانیے کی ہی تشہیر کی تھا
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کروانے کا دعویٰ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اب تک ایک سیاسی چینلج بنا رہا ہے لیکن اب ایک ایسا ہی دعویٰ چین کی جانب سے بھی سامنے آنے کے بعد ان کی مشکل میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ دعویٰ گزشتہ ماہ چینی وزیر خارجہ کی جانب سے سامنے آیا تھا جب انھوں نے بھی مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا بیان جاری کیاتھا
اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سے انڈیا میں اپوزیشن کی جانب سے ایک بار پھر مودی حکومت سے سوال کیے جا رہے ہیں جن پر اب تک باضابطہ طور پر وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس نے بیجنگ کے اس دعوے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے
أل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کی جانب سے اس وقت بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں چینی وزیر خارجہ کے بیان کو حیران کن دعویٰ قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ’انڈین حکومت کو چاہیے کہ سرکاری طور پر اس کی تردید کرے اور یقین دہانی کروائے کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔‘
اسد الدین اویسی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’چین پاکستان اور انڈیا کو ایک سطح پر کھڑا کرنا چاہتا ہے اور خود کو جنوبی ایشیا کی بڑی طاقت کے طور پر دکھانا چاہتا ہے۔ کیا اسی بات پر اتفاق ہوا تھا جب وزیر اعظم نے چین کا دورہ کیا تھا؟
واضح رہے کہ انڈیا نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ سات اور 10 مئی کے درمیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع دونوں ممالک کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا۔
13 مئی کو ایک پریس بریفنگ میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’جہاں تک جنگ بندی اور اس میں دیگر ممالک کے کردار کا تعلق ہے اس میں جنگ بندی کی تاریخ، وقت اور اصطلاحات کا فیصلہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 10 مئی 2025 کو سہ پہر 3:35 پر ٹیلی فونک بات چیت میں کیا گیا تھا۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال 7 اور 10 مئی کے درمیان بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع میں چین کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ سات مئی کو چین نے انڈیا اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی۔
اب ایک بار اسدالدین اویسی نے ان جھڑپوں کا نام لیے بغیر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جو مشورہ دیا ہے ‘ بناہ اس پر ہنسے یا روئے ۔
دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نہ وینزویلا ہے نہ بھارت امریکہ ہے ۔






