شور بہت ہے، سمت نہیں
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
جب ہم اپنے اردگرد پھیلی دنیا کو دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں شور بہت ہے مگر سننے والا کوئی نہیں معلومات کا سیلاب ہے مگر شعور کی پیاس باقی ہے اور فیصلے بے شمار ہیں مگر سمت واضح نہیں۔ یہ کالم کسی ایک واقعے، کسی ایک بحران یا کسی ایک حکومت کا نوحہ نہیں یہ اس اجتماعی کیفیت کا بیان ہے جس میں ہم سب سانس لے رہے ہیں اور شاید گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص روزانہ خبروں کے ذریعے دنیا کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ کبھی مہنگائی کی خبر، کبھی سیاسی کشمکش، کبھی عالمی جنگوں کے مناظر، کبھی ماحولیاتی تباہی کی وارننگز، اور کبھی سوشل میڈیا پر ایک نئی ہنگامہ خیزی۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس سب کے عادی کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا مسلسل بحران ہمیں حساس بنانے کے بجائے بے حس نہیں کر رہے.
ہم ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عام آدمی کی سب سے بڑی جدوجہد عزت کے ساتھ جینے کی ہے۔ مہنگائی اب محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی، یہ گھروں کے اندر داخل ہو چکی ہے۔ ہم نے ماؤں کو بچوں کے سامنے حساب لگاتے دیکھا ہے کہ آج دودھ آئے گا یا دوا، کتاب لی جائے گی یا سبزی۔ ریاستی بیانیے میں معیشت “استحکام” کی طرف جا رہی ہے، مگر عوامی زندگی میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ اگر ترقی کا پیمانہ صرف اعداد و شمار ہوں تو انسان کہاں کھڑا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، نوجوانوں کو پڑھایا ہے اور ان کے خواب سنے ہیں۔ آج کا نوجوان سب سے زیادہ الجھا ہوا ہے۔ اس کے پاس معلومات ہیں مگر رہنمائی نہیں۔ وہ سوال کرتا ہے مگر جواب شور میں دب جاتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ صبر کرو، حالات بہتر ہوں گے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ صبر کے ساتھ انصاف، شفافیت اور مواقع بھی ضروری ہوتے ہیں۔
سیاسی منظرنامہ ہماری اجتماعی تھکن کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اختلافِ رائے جو جمہوریت کی جان ہوتا ہے، اب ذاتی دشمنی میں بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے سیاست کو اصولوں سے زیادہ نعروں کا کھیل بنتے دیکھا ہے۔ ادارے جب افراد کے گرد گھومنے لگیں تو کمزور ہو جاتے ہیں، اور جب ادارے کمزور ہوں تو ریاست عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ قانون کی بالادستی تقریروں سے نہیں، عمل سے ثابت ہوتی ہے۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اختلاف غداری نہیں ہوتا اور سوال اٹھانا جرم نہیں۔ ایک زندہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جو خود سے سوال کرے۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے سوال کرنے والوں کو خاموش کرانے کو حب الوطنی سمجھ لیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف فکری جمود پیدا کرتا ہے بلکہ مستقبل کی راہیں بھی مسدود کر دیتا ہے۔
عالمی منظرنامہ دیکھیں تو دل مزید بوجھل ہو جاتا ہے۔ غزہ ہو یا یوکرین، سوڈان ہو یا کسی اور خطے کی جنگ لاشیں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں ماں کا آنسو ہر جگہ نمکین ہوتا ہے، مگر عالمی ضمیر کا پیمانہ مختلف کیوں ہے؟ ہم نے سیکھا ہے کہ طاقت جب انصاف پر غالب آ جائے تو انسانیت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ عالمی ادارے بیانات تو جاری کرتے ہیں، مگر معصوم جانوں کے تحفظ میں ان کی بے بسی چیخ بن کر گونجتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم دور بیٹھ کر ظلم کے مناظر دیکھتے ہیں، ایک لمحے کے لیے افسوس کرتے ہیں اور پھر اسکرول کر جاتے ہیں۔ کیا یہی جدید انسانیت ہے. کیا ہماری ہمدردی کی عمر صرف ایک پوسٹ تک رہ گئی ہے. یہ سوال ہم خود سے بھی کرتے ہیں، کیونکہ اس عہد میں خود احتسابی سب سے مشکل مگر سب سے ضروری عمل ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اب کسی ماہرِ ماحولیات کا موضوع نہیں رہی، یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ شدید گرمی، غیر متوقع بارشیں اور پانی کی قلت یہ سب اشارے ہیں کہ فطرت ہمیں خبردار کر رہی ہے۔ ہم ترقی کے نام پر درخت کاٹتے ہیں، دریا آلودہ کرتے ہیں، اور پھر قدرتی آفات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ آنے والی نسلوں کو ہم کیسی زمین وراثت میں دے رہے ہیں.
سوشل میڈیا نے ہمیں آواز دی، مگر ساتھ ہی ہمیں آزمائش میں بھی ڈالا۔ اظہارِ رائے اب آسان ہے مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔ افواہیں سچ سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں، کردار کشی مکالمے کی جگہ لے لیتی ہے، اور مقبولیت معیار بن جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک جھوٹ ہزار شیئرز کے ساتھ سچ پر غالب آ جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور کا سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ یہاں نقصان نظر نہیں آتا مگر اثر گہرا ہوتا ہے۔
یہ سب لکھتے ہوئے کسی مایوسی کی تبلیغ مقصود نہیں۔ اگر مکمل مایوسی ہوتی تو قلم ہی نہ اٹھتا۔ اس بات پر یقین ہے کہ بحران قوموں کو توڑتے نہیں، نکھارتے ہیں اگر وہ سیکھنے پر آمادہ ہوں۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں قربانیاں دی ہیں، یکجہتی دکھائی ہے اور راستے نکالے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم آج بھی وہی اخلاقی جرات رکھتے ہیں.
حل اوپر سے نیچے نہیں، اندر سے باہر آتا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے یہ ضروری ہے، مگر معاشرہ بھی اپنا کردار پہچانے۔ تعلیم کو محض ڈگری نہیں، کردار سازی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ میڈیا کو ریٹنگ کے بجائے ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ مذہب کو نفرت نہیں اخلاق کی بنیاد بنانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھنا ہوگا شناختوں سے پہلے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ ہمیں شور کم اور مکالمہ زیادہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کو سننا سیکھنا ہوگا، اختلاف کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ کیونکہ جو معاشرہ






