#کالم

حیات لے کے چلو کائنات کے چلو

Untitled 1 Recovered copy

بشیر احمد حبیب (امریکہ) دشتِ امکاں

مخدوم محی الدین نے بہت پہلے یہ شعر کہا اور بعد میں جان نیش نے اس پر مبنی تھیوری پیش کر کے 1994میں اکنامکس کا نوبل پرائز جیتا۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے فلم A Beautiful Mind دیکھی ہوگی۔ اور اگر نہیں دیکھی تو کوئی شام اس کے نام کریں اور فلم اور جان نیش کی تھیوری کا بھر پور مزہ لیں ۔
کہانی کے ہیرو، پروفیسر جان نیش، پرنسٹن یونیورسٹی اس ارادے سے آتے ہیں کہ وہ معمولی ریاضی دان بن کر واپس نہیں جائیں گے۔ وہ کچھ ایسا کریں گے جو نیا ہو ، اور اقتصادیات میں یہ کمال انہوں نے اپنے PHD کے تھیسس میں کر دکھایا ، یہ الگ بات ہے یہ تھیسس انہوں نے 1551 میں لکھا اور نوبل پرائز انہیں 1994 میں ملا ۔
گیم تھیوری کے ضمن میں نیش نے ایک نئی سمت دکھائی جسے اب دنیا نیش ایکوی لبریم کے نام سے جانتی ہے ۔ اب ہم نیش ایکوی لبریم (Nash Equilibrium) کو سادہ زبان میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیش سے پہلے عام خیال یہ تھا کہ اگر گیم میں ہر شخص صرف اپنا فائدہ دیکھے تو مجموعی طور پر سب کا فائدہ ہو جائے گا۔ نیش نے کہا:

“یہ بات آدھا سچ ہے، پورا نہیں۔” نیش کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ میں کیا چاہتا ہوں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ
میں کیا چاہتا ہوں + دوسرا کیا چاہتا ہے + وہ میرے جواب میں کیا کرے گا۔

ریاضی کی زبان میں نیش نے اسے یوں باندھا:

ایک گیم میں، ایک مستحکم نتیجہ تب حاصل ہوتا ہے جب کوئی بھی کھلاڑی اپنی حکمت عملی کو یونیلیٹرلی تبدیل کر کے اپنا نتیجہ بہتر نہیں کر سکتا،

اس کی آ سان مثال یہ ہے کہ دو مجرموں کو جنہوں نے بینک ڈکیتی کی اور پکڑے گئے ، پولیس کو علم ہوا یہ مجرم ماضی کی ایک اور واردات میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں جس کے مجرم ابھی تک پکڑے نہیں گئے ،پولیس نے تفتیش کے لیے انہیں دو الگ کمروں میں بٹھایا اور ان کو بتایا کہ اگر ان میں سے ایک اقرار جرم کرے گا اس کو تین سال سزا ملے گی اور اگر دونوں اقرار جرم کریں گے تو ایک سال ، اگر ایک ہاں اور ایک ناں کرے گا تو ہاں کرنے والے کو تین سال اور نفی والے کو دس سال اور اگر دونوں نفی کریں گے تو دونوں کی سزا دس دس سال قید ہوگی ۔

اس صورتحال میں گو وہ الگ کمروں میں بیٹھے ہونگے مگر یہی فیصلہ کریں گے جرم قبول کریں تا کہ اگر دونوں قبول کرتے ہیں تو سزا ایک سال ، ایک قبول کرتا ہے تو اسے سزا تین سال ، دوسرے کو دس سال ، اور اگر دونوں نفی کرتے ہیں تو دونوں کو دس دس سال۔

اس سچوئشن میں دونوں میں سے ہر ایک نفی سے خود کو بچائے گا تا کہ دس سال کی یا تین سال کی سزا سے تو بہرحال بچ سکے۔

اور ایسی سچویشن میں اس تھنکنگ پروسس تک پہنچنے کو Nash Equilibrium کہا جاتا ہے۔

نیش ایکوی لبریم کا استمال سیاسی افق پر بھی نہایت اہم ہے ہے ، چلئے اسے ہم پاکستانی سیاست کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ ہماری سیاست میں مسئلہ یہ نہیں کہ سب برے لوگ ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اکیلا جیت گیا تو ملک خود بخود جیت جائے گا۔ کوئی ادارے کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے، کوئی مخالف کو ختم کرنا، اور کوئی خود کو واحد نجات دہندہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ نتیجہ؟ عدم توازن، کشیدگی، اور ایک ایسا نظام جس میں کوئی بھی مطمئن نہیں۔
نیش ہمیں یہ نہیں کہتا کہ سیاست دان نیک بن جائیں۔ وہ کہتا ہے:
نظام ایسا بناؤ کہ خود غرضی بھی حد میں رہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب بالکل سادہ ہے:

سیاست دان یہ مان لیں کہ وہ اکیلے ریاست نہیں چلا سکتے

ادارے یہ سمجھ لیں کہ طاقت کا استعمال نہیں، توازن ہی اصل طاقت ہے

اور عوام یہ جان لیں کہ ہر لڑائی آخری لڑائی نہیں ہوتی

جب سب اس مقام پر آ جائیں کہ کوئی فریق اپنی چال بدل کر باقیوں کو نقصان نہ پہنچا سکے، وہی لمحہ پاکستان کے لیے نیش کا توازن ہوگا۔

جان نیش تاریخ میں اس لیے زندہ ہے کہ اس نے ہمیں یہ بتایا کہ اصل ذہانت شور مچانے میں نہیں، ساتھ چلنے کے لیے اس مقام تک پہنچنے میں جہاں کوئی بھی کھلاڑی اپنی حکمت عملی کو یونیلیٹرلی تبدیل کر کے اپنا نتیجہ بہتر نہ کر سکے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی اپنی سیاست کو جذبات کے بجائے نیش ایکوی لبریم کے مطابق ڈھال کر ایک متوازن معاشرے کی تکمیل کا سفر کر سکیں ۔

نیش نے جو تھیوری پیش کی بات وہی ہے جو مخدوم نے بہت پہلے کہہ دی تھی:

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

یہی نیش کا سبق ہے، اور شاید تاریخ کا بھی۔

حیات لے کے چلو کائنات کے چلو

05/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

حیات لے کے چلو کائنات کے چلو

شور بہت ہے، سمت نہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے