میرا آبائی شہر منٹگمری
تسنیم کوثر
میں آج کل اپنے آبائی شہر ساہیوال میں ہوں۔عرصے بعد یونہی بیٹھے بٹھائے گھر سے جی اوب گیا تومیں اپنے بہن بھائیوں سے ملنے ساہیوال چلی آئی جہاں اب میری امی جان اور ابا جان تو نہیں ہیں مگر میرے ماں جائے یہیں رہتے ہیں جن سے مل کر محبتوں کے در کھلتے ہیں اور یادوں کے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ یہ ساہیوال کبھی منٹگمری ہوا کرتا تھا۔ ۵۶۸۱ءمیں انگریز دور حکومت میں اس شہر کو ضلع کا درجہ دے کر پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر رابرٹ منٹگمری کے نام سے منسوب کر دیا گیا تھا مگر اب پھر یہ شہر جو ساہی قوم کے یہاں آباد ہونے کی وجہ سے پہلے ساہیوال کہلاتا تھا، اب پھر اپنے پرانے نام سے ہی جانا جاتا ہے ۔ساہیوال ایک پرسکون شہر ہے۔ اس شہر کی کشادہ سڑکوں کے کنارے اب بھی صدیوں پرانے گھنے درخت ایستادہ ہیں۔ ان درختوں کی چھا¶ں میں اب بھی فرنگی دور کی سرسراہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ سرخ اینٹوں کی بنی عمارتیں اس شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان عمارتوں کی مضبوط دیواروں اور اونچی چھتوں سے ہندو طرز تعمیرجھلکتا ہے۔اب تو یہ شہر بھی دوسرے شہروں کی طرح پھیلتا جا رہا ہے ۔ہمارے وقتوں میں اس شہر کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا تھا۔ اس کی بلند و بالا چھتیں،چونے کی چنائی سے اٹھائی گئی موٹی موٹی دیواریں،گھروں کے باہر بڑے بڑے چبوترے اور ان چبوتروں کے ساتھ گھروں کو اپنے حصار میں لئے باڑ اور بیل بوٹے عجب منظر پیش کرتے تھے۔ یہاں نکاسی آب کا بہت عمدہ انتظام تھا جو اس شہر کے پرانے باسیوں کے اعلیٰ ذوق کا پتہ دیتا تھا ۔صاف ستھری کشادہ سڑکیں اس شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھیں۔ ہائی سٹریٹ پر تو رات گئے تک رونقیں جاری رہتی تھیں۔ پرتاب باغ کی شادابیاں اور ان شادابیوں میں اترتی ہوئی شام کے ملگجے سائے عجب طلسماتی رنگ بکھیرتے تھے۔ان درختوں کی قطاروں سے اترتی ہوئی گہری اداسی اور اس اداسی میں لپٹی ہوئی گھمبیر خاموشی مجھے بہت پسند تھی۔ مجھے اپنے شہر ساہیوال کا ریلوے اسٹیشن بھی بہت پسند تھا۔ بہت پرسکون سے اس ریلوے اسٹیشن کی تعمیر بھی انگریز دور حکومت میں کی گئی تھی۔ ساہیوال ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم پاکستان کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں زندگی اب بھی کسی سبک خرام ندی کی طرح رواں دواں رہتی ہے۔ وہاں لاہور ریلوے اسٹیشن جیسی بھگڈر نہیں ہے، گہما گہمی نہیں ہے،اک عجب طرح کی پراسراریت ہے۔ ریل گاڑی میں سفر کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ میں نے اوکاڑہ سے ساہیوال اور لاہور کے بہت سے سفر ریل گاڑی ہی سے کئے ہیں مگر اب تیز رفتار زندگی میں اور کچھ ریلوے کی خستہ حالی کے پیش نظر ریل گاڑی کا سفر ممکن نہیں رہا مگر میں پھر بھی کبھی کبھی اپنا یہ شوق پورا کر لیتی ہوں۔میں اپنے آبائی شہر کی پھول کلیوں سے مہکتی فضاو¿ں اور سوندھی مٹی کی خوشبو¶ں بھری ہوا میں جب بھی جا¶ں، میرے بیتے زمانے میرے سامنے آجاتے ہیں۔پنجاب کے اس پرانے شہر میں مجھے ممتا کی سی چھا¶ں کا احساس ہوتا ہے اور دل کو بہت طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ اس شہر میں آتے ہی مجھے اپنے بچپن کے دن اور ان دنوں میں کی گئی اپنی معصوم شرارتیں یاد آنے لگتی ہیں ۔تقریباً نصف صدی پہلے جب رشتوں میں جڑت اور اپنائیت تھی، ہمارے والدین کے سب بہن بھائیوں کے بچے ایک دوسرے کی سنگت میں رہنا پسند کرتے تھے تب پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی۔ سب چھٹیاں ہونے کا انتظار کرتے تھے اور پھر مل جل کر خوب اودھم مچاتے تھے۔پانچویں چھٹی کلاس کی بات ہے جب میرے تایا زاد بھائی نے نئی نئی موٹر سائیکل لی تھی اور ہم سب کو باری باری اس موٹر سائیکل کی سیر کروائی جاتی تھی۔ اس موٹر سائیکل پہ ہمیں ہوائی جہاز کا سا گمان ہوتا تھا، اس کی سیر کرنے کو جی مچلتاتھا اور ہم بھائی کی نظر کرم کے منتظر رہتے تھے ۔اس سیر کے بدلے ہم سے بہت سی خدمات کروائی جاتی تھیںبلکہ یہ سیر ہمیں کڑی شرائط پر کروائی جاتی تھی اور ہم سب بچے شوق کے مارے ان کی شرطیں مان لیا کرتے تھے۔ ہمارا گھر ہائی سٹریٹ کے عقب میں مور والا چوک میں تھا اب تو وہاں یادوںکے نقش بھی نہیں رہے کہ بھائی نے صرف ایک پورشن اپنے لئے رکھ کر باقی گھر کو مارکیٹ کی شکل دے دی ہے اور اس کی بنیادوں اور ملبے میں ہمارے خوبصورت دن بھی سمٹ گئے ہیں ۔ہمارے وقتوں میں شہر کی آبادی کم تھی۔ شام ڈھلتے ہی گلی محلوں کی رونقیں ماند پڑ جاتی تھیں البتہ ہائی سٹریٹ پر روشنیاں جگمگاتی رہتی تھیں۔ شام ہوتے ہی ہم پر سیر کا جنون طاری ہو جاتا تو بھائی ہمارے سامنے اوکھے اوکھے کاموں کی فہرست رکھ دیتے ۔کہیں سے گملے اٹھا کر بھاگنا ہے، کبھی انہیں گول چکر سے ٹھاہ والی بوتل اپنے جیب خرچ سے پلانی ہے، کبھی انہیں ڈھونڈنا ہے اور جو ڈھونڈ لے اسے انعام میں موٹر سائیکل کی دو بار سیر کرانا ہے ۔ہم سب موٹر سائیکل کی سیر کے چسکے میں ان کی بات مان لیا کرتے تھے۔ میرا روٹ میری دلیری کے سبب ہمیشہ فرید ٹا¶ن کا ہوا کرتا تھا ۔باقی بچے ڈر جاتے تھے مگر میں اپنی بہادری پہ ناز کرتی ہوئی ان کی مددگار ہوا کرتی تھی۔فرید ٹاو¿ن کا خاموش سناٹا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔شہر کی گہما گہمی سے دور،پُر سکون فضاو¿ں میں آباد گھر ۔یہیں کہیں ان گھروں میں مجید امجد کا گھر بھی ہوا کرتا تھا لیکن اس عمر میں ہمیں مجید امجد کا پتہ تھا اور نہ ان کے گھر کا۔ہم ایک موٹر سائیکل پر تین لوگ سوار ہوتے تھے ۔گملا اٹھانے کا کام میرا اور کبھی میرے خالہ زاد کا ہوا کرتا تھا۔بھائی کچھ فاصلے پر بائیک سٹارٹ کیے ہمارا انتظار کیا کرتے تھے۔فرید ٹا¶ن کے گھروں میں جو گملا سب سے زیادہ خوبصورت لگتا،وہ اس کی طرف اشارہ کردیتے۔ میں بھاگم بھاگ وہ گملا اٹھاتی اور اپنے خالہ زاد کو پکڑا دیتی اور پھر بھائی موٹر سائیکل کی کک لگاتے اور ہم یہ جا وہ جا۔یہ سلسلہ شاید کچھ اور چلتا اگر ہم معصوم چوروں کی گھات میں بیٹھا ہوا گھر کا مالک باہر نہ نکل آتا ۔اس بار گملااٹھانے کی باری ہمارے خالہ زاد کی تھی سو جونہی اس نے گملا اٹھانا چاہا۔ گھر کادروازہ کھلا ،بتیاں جلیں، بھائی نے موٹرسائیکل کو کک لگائی اورہم بھاگ نکلے۔ہمارا خالہ زاد جانے کیسے اس آدمی کی آنکھوں میں دُھول جھونک کراس کے عتاب سے بچتے ہوئے، پیدل دو گھنٹے کی مسافت طے کرکے جب ہائی سٹریٹ پر پہنچا تووہ بے ہوش ہونے کو تھا۔جب وہ گھر پہنچا تو بھائی لحاف میں دبکے ہوئے تھے ۔ پھردونوں میں خوب گرما گرمی ہوئی اور ہمارے تایا پر بھائی کے دوست کے تحفتاً دیئے گئے گملوں کا راز بھی فاش ہو گیا۔ڈانٹ ڈپٹ تو ہوئی سو ہوئی، بھائی کی چوہدراہٹ بھی گئی کہ ہمارے تایا نے موٹر سائیکل کی چابی ضبط کر تھی اور ہم سب کی سیر کرنے کی حسرتیں دل کی دل میں ہی رہ گئی تھیں۔






