ہم پاکستانی جشنِ آزادی کیوں مناتے ہیں
فیصل زمان چشتی
دنیا کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض کیلنڈر کا ایک ورق نہیں ہوتے بلکہ قوموں کی تاریخ، جدوجہد، قربانی، امید اور مستقبل کی علامت بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے لئے 14 اگست ایسا ہی ایک تاریخی دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کی طویل سیاسی، نظریاتی اور جمہوری جدوجہد اپنے ایک اہم مرحلے میں کامیاب ہوئی اور دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک پاکستان وجود میں آیا۔ ہر سال جب اگست کا مہینہ آتا ہے تو پورا پاکستان سبز و سفید رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ گھروں، بازاروں، اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں پر قومی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں۔ بچے سبز و سفید لباس پہنتے ہیں، ملی نغمے گائے جاتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور پاکستان کے قیام کی خوشی منائی جاتی ہے۔ لیکن ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ ہم پاکستانی جشن آزادی کیوں مناتے ہیں۔ کیا صرف اس لیے کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا یا اس دن کے پیچھے کوئی ایسی عظیم داستان بھی ہے جسے یاد رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جشنِ آزادی محض خوشی منانے کا نام نہیں۔ یہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، اپنی آزادی کی قدر کرنے، اپنی قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے لیے نئے عزم کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کسی قوم کو آسانی سے نہیں ملتی۔ اس کے پیچھے نسلوں کی محنت، قربانیاں، سیاسی جدوجہد، ہجرت، خون، آنسو، امید اور بے شمار قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آزادی کیا ہے۔ آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوئی ملک کسی دوسری طاقت کے زیرِ اقتدار نہ ہو۔ آزادی ایک وسیع تصور ہے۔ حقیقی آزادی میں سیاسی خودمختاری، قومی وقار، قانون کی حکمرانی، معاشی خود انحصاری، سماجی انصاف، مذہبی آزادی اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا حق شامل ہے۔ ایک غلام قوم کے پاس اپنے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس کی سیاست، معیشت، تعلیم، خارجہ پالیسی اور بہت سے اہم معاملات دوسروں کے مفادات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس آزاد قوم اپنے اجتماعی مفادات کے مطابق اپنے راستے کا تعین کرتی ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اسی آزادی کی خواہش کا نتیجہ تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ انہیں اپنی مذہبی، تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک ایسی سیاسی وحدت کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنے اجتماعی نظریات اور اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اسی جدوجہد کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کے قیام کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر موجود تھا اور پاکستان کی آزادی کی تاریخ کا ذکر قائداعظم محمد علی جناح کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ قائداعظم ایک عظیم سیاسی رہنما، قانون دان اور غیر معمولی مدبر تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری جدوجہد کی۔ قائداعظم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد، نظم و ضبط اور یقینِ محکم کا پیغام دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے سیاسی مطالبات کو منظم انداز میں پیش کیا۔ 1940 کی قراردادِ لاہور نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو ایک واضح سمت دی۔ اس کے بعد پاکستان کے قیام کا مطالبہ ایک مضبوط عوامی تحریک بن گیا۔ قائداعظم کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ انتخابات، مذاکرات، سیاسی تحریکوں اور عوامی رابطوں کے ذریعے مسلمانوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں واضح فیصلہ رکھتے ہیں۔بالآخر 1947 میں برصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر نمودار ہوا۔ 14 اگست 1947 پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے۔اس دن ایک نئی مملکت نے جنم لیا۔ یہ ملک جغرافیائی اعتبار سے دو حصوں، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان، پر مشتمل تھا۔ اس نئے ملک کو بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ وسائل محدود تھے، انتظامی ڈھانچہ کمزور تھا، لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے پاکستان پہنچ رہے تھے اور ریاست کو تقریباً ہر شعبے میں نئے سرے سے نظام قائم کرنا تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کے اندر ایک نیا جذبہ تھا۔ وہ جذبہ آزادی کا تھا۔ وہ جذبہ ایک نئی مملکت کی تعمیر کا تھا۔ وہ جذبہ اس یقین کا تھا کہ ہم اپنے مستقبل کو خود سنوار سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آزادی کی سب سے دردناک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ اس کے حصول کے لیے بے شمار لوگوں نے ناقابلِ تصور قربانیاں دیں۔ 1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر، زمینیں، کاروبار، جائیدادیں اور آبائی علاقے چھوڑ دیے۔ لوگ پیدل، ٹرینوں، بیل گاڑیوں اور مختلف ذرائع سے نئے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ بہت سے خاندان بچھڑ گئے۔ بے شمار لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خواتین، بچے، بوڑھے اور نوجوان سب نے اس ہجرت کی مشکلات برداشت کیں۔کئی خاندان پاکستان پہنچے تو ان کے پاس اپنے جسم پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ انہوں نے نئے ملک میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کی۔ یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آزادی کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ جب ہم جشنِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہراتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اس پرچم کے سائے میں آزاد زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ اس سوال کا سب سے بنیادی جواب یہ ہے کہ ہم جشنِ آزادی اس لیے مناتے ہیں تاکہ ہمیں اپنی آزادی کی قدر کا احساس رہے۔اگر کوئی قوم اپنے ماضی کو بھول جائے تو وہ اپنی شناخت بھی کھو سکتی ہے۔ قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرکے مستقبل بناتی ہیں۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور روایات کا ملک ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگ اپنی اپنی ثقافتی خصوصیات رکھتے ہیں۔ لیکن ان سب کی ایک مشترکہ شناخت ہے پاکستانی۔ جشنِ آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری علاقائی اور لسانی شناختیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ہماری سب سے بڑی اجتماعی شناخت پاکستان ہے۔ سبز ہلالی پرچم کے نیچے ہم سب برابر ہیں۔جشنِ آزادی کے موقع پر ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کے تصورات کو بھی یاد کرنا چاہیے۔ قائداعظم ایک ایسے پاکستان کے خواہاں تھے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، شہریوں کو انصاف ملے، اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہوں اور ہر فرد اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرسکے۔انہوں نے بارہا اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط پر زور دیا۔یہ تینوں اصول آج بھی پاکستان کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم ایمان کے ساتھ محنت کریں، اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو پاکستان بہت سے مسائل پر قابو پاسکتا ہے۔






