پاکستانیوں کھلاڑیوں نے عالمی مقابلوں میں وطن کا نام روشن کردیا
اقبال کھوکھر
اس میں کوئی شک نہیں کہ کامیابی خدا کی طرف سے ملتی ہے مگر اس میں انسان کی محنت اور نیت کا بہت بنیادی کردار ہے۔ خدا تب ہی سرفرازی وکامیابی سے نوازتا ہے جب انسان خود محنت کرکے اس کی ذات پر بھروسہ رکھے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کی محنت اسے خدا کی قربت میں لاتی ہے اور پھر کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے وہ دنیا میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے اور آخرت میں بھی قربِ الہٰی سے فیض یاب ہوتا ہے۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہمارے نوجوان طبقہ میں بے شمار صلاحیتیں ہیں وہ طب،دفاع، تعلیم، تکنیک،شوبز ،سپورٹس سمیت زندگی کے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں مگر بدقسمتی سے سب کو وہ مواقع اور حالات وسہولیات میسر نہیں ہوتیں جس میں وہ جلد اپنی قوت کا مظاہرہ کرسکیں۔یہی وہ وجہ ہے جو ان کے ترقی کے سفر کو پانچ سال سے بڑھا کر پچاس سال تک لے جاتی ہے اور بعض اوقات تو دیہاتوں،قصبوں اور دوردرواز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایسے ایسے ہیرے مٹی کی دھول میں دب جاتے ہیں جو جوہری کی توجہ اور دلچسپی سے دور ہوتے ہیں۔مگر سلام ہے ان نوجوانوں کو جواپنی محنت ،لگن اور جرات سے نامساعد حالات ،کم وسائل اور مواقع کی عدم فراہمی کے باوجود اپنے مقاصد کی تکمیل میں کوشاں رہتے ہیں اور پھر اپنی صلاحیتوں سے دنیاکو حیران کردیتے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے ملک کے کچھ سپوت ہیں جنہوں نے کوالالمپور(ملائشیائ) میں ہونے والے حالیہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں نہ صرف شرکت کی بلکہ سو سے زائد ملکوں کے کھلاڑیوں میں سے اولین پوزیشن حاصل کرکے چونکادیا۔اس ٹورنامنٹ میں میزبان ملک ملائشیاءکے اسی سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیا مگر صرف نو میڈل جیتے جبکہ ہمارے پاکستانی دستے میں شامل نوشیروں نے سات طلائی تمغے جیتے جو پاکستان کے لئے ایک قابل فخر اور قابل ذکر اعزاز بھی ہے اور کارنامہ بھی جسے ہمیشہ سراہا جائے گا۔پاکستان کے تاریخی شہر لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع ©©©©©©©میکاڈو جوجِتسو اکیڈمی کے نو رکنی پاکستانی دستے نے جوجِتسو کے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر سات طلائی تمغے حاصل کیے۔ٹیم کے نمایاں کھلاڑی پرپل بیلٹ امجد خان نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین طلائی تمغے اپنے نام کیے اور پاکستان کا نام روشن کیا۔نو کھلاڑیوں پر مشتمل اس ٹیم کی سات طلائی تمغوں کی کامیابی نہ صرف کھلاڑیوں، ان کے والدین، کوچز، میکاڈو جوجِتسو اکیڈمی بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے اپنے سے نمایاں کم عمر حریفوں اور خطرناک ٹانگوں پر گرفت اور جوڑوں کو قابو کرنے کی مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کا سامنا کیا۔ انہوں نے اپنی حکمتِ عملی، بہترین دفاع اور پرسکون انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے گہری گرفت اور خطرناک حملوں سے خود کو بچایا، حریفوں کے خلاف زیادہ پوائنٹس حاصل کیے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباًتمام مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کے ان کھلاڑیوں نے اس بین الاقوامی مقابلے میں اپنے ذاتی اخراجات پر شرکت کی اور انہیں کسی قسم کی سرکاری یا نجی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ محدود وسائل کے باوجود کھلاڑیوں نے اپنی محنت، جذبے اور عزم سے شاندار نتائج حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ امجد خان اور پوری پاکستانی جوجِتسو ٹیم کے لئے ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میںانہیں بھرپور سرپرستی اور مالی معاونت حاصل ہوگی تاکہ وہ مزید بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کے لیے اعزازات حاصل کر سکیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے ماسٹ،/سینئر اور مجموعی بیسٹ ایڈلٹ کی کیٹیگریز میں نمایاں اور اعلیٰ پوزیشن حاصل کی۔ پرپل بیلٹ کے حامل امجد خان برازیلین جیو جِتسو (BJJ) کے مقابلوں کے علاوہ علاقائی مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) کے مقابلوں میں بھی اپنی اسٹرائیکنگ اور گرَیپلنگ کی مہارتوں کو عملی طور پر آزماتے رہے ہیںجہاں وہ مختلف فائٹ کارڈز میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔امجد خان محنتی،لگن اور کچھ کرگزرنے کے جذبے سے سرشار کھلاڑی ہے جو اپنے وطن سے بہت پیار کرتا ہے اور یہی پیار اسے ہمیشہ متحرک رکھتا ہے۔وہ لاہور، پاکستان میں قائم اکیڈمی میکادو جِیو جِتسو (Mikado Jiu-Jitsu) کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسی اکیڈمی میں بطور کوچ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستان کا نام روشن کرنے پر امجد خان اور پوری پاکستانی جوجِتسو ٹیم کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آپ کی محنت، لگن اور عزم ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔روزنامہ عوامی محبت اور ہیلپ وے امجد خان اور ان کے تمام ساتھی کھلاڑیوں کو اس شاندار کامیابی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اوردعاگو ہے کہ آپ مستقبل میں بھی اسی طرح کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرتے رہیں






