#کالم

دھرتی راکھ بنائے گا

amjad ali

امجد علی

اب کے عذاب خدا کا ایسے آئے گا
انساں خود یہ دھرتی راکھ بنائے گا(جلیل عالی)
کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی چھوٹا سا ٹکڑا ہو تو بظاہر وہ محض ایک بے وقعت شے بھی ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ایک معمولی سا تنکا, لیکن اگر وہ ہاتھ کسی جوہری کا ہو تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس کی ہتھیلی پر رکھا ننھا سا ٹکڑا سونے کا کوئی نادر زیور یا کسی بیش قیمت نگینے کا پارچہ ہوگا۔ کیونکہ قدر و قیمت کا تعین محض شے کے حجم سے نہیں، بلکہ اسے پرکھنے والی نگاہ کی بصیرت سے ہوتا ہے۔بعینہ شاعر کے تخلیق کردہ مذکور باکمال اشعار بھی سخن کے سمندر میں چھپے ہوئے ایسے ہی یاقوت ہیں، جس کی تابانی سطح آب پر کھڑے ہو کر نہیں، بلکہ غواصی فکر کے بغیر دریافت نہیں کی جا سکتی۔ سیپ کی تہہ میں پوشیدہ موتی ہوں یا صدف کے دل میں دمکتا یاقوت، ان تک رسائی کے لیے سمندر کے سینے میں اترنا، موجوں کی مزاحمت سہہ کر گہرائیوں میں اتر کر گوہر نایاب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح شعر کی ظاہری سطح سے گزر کر اس کی تہہ میں اترنے والی نگاہ ہی اس کے باطن میں پوشیدہ فکری جواہر، معنوی تہہ داری اور تخلیقی ندرت کو دریافت کر سکتی ہے۔ شعر کہنا ایک ہنر ہے، مگر شعر کے باطن میں چھپے یاقوت کو پہچاننا صاحب نظر ہونے کی دلیل ہے۔ وہ سچ ہی تو کہتے ہیں کہ یہ دنیا اعمال کی کھیتی اور حساب و احتساب کی سرزمین ہے۔ یہاں جو بیج بویا جاتا ہے، بالآخر وہی فصل کاٹنی پڑتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر ایک ایسی مخلوق کی حیثیت حاصل ہے جسے خالق کائنات نے زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا، اسے اشرف المخلوقات کا شرف بخشا اور اس کے سپرد زمین، اس کے وسائل اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی نگہبانی و آبادکاری کی ذمہ داری کی۔ اس سے توقع تھی کہ وہ اپنی عقل، بصیرت، علم اور دوراندیشی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے اس جہان خاکی کو امن، عدل، محبت، آسودگی اور خوش حالی کا گہوارہ بنائے گا۔ اسے خیر و شر کی تمیز سکھائی گئی، صراط مستقیم کی نشان دہی کی گئی، انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے پیغام ہدایت پہنچایا گیا اور اعمال کے نتائج و عواقب سے آگاہ کیا گیا، تاکہ وہ اپنے اختیار کو تعمیر حیات کے لیے بروئے کار لائے، نہ کہ اپنی ہی بربادی کا سامان پیدا کرے۔ یوں زندگی کا کارواں اپنے مقررہ سفر پر رواں دواں ہوا۔ مگر اس سفر میں ایک ایسا فتنہ بھی انسان کے تعاقب میں رہا جس نے اسے خیر کی شاہراہ سے ہٹا کر شر کی پرپیچ وادیوں میں بھٹکانے کی کوشش کی۔ شیاطین نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے انسانی خواہشات، حرص، تکبر اور خود غرضی کو ایسے راستوں پر ڈال دیا جہاں گناہ میں لذت، ظلم میں قوت، استحصال میں کامیابی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے میں برتری محسوس ہونے لگی۔ انسان اپنے ہی مرتبے، اپنے منصب نیابت اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو کر ایسی بے سمت مسافتوں کا اسیر ہوتا چلا گیا جن کی منزل تباہی کے سوا کچھ نہ تھی۔ دوسری جانب وہ نفوس قدسیہ اور اہل بصیرت بھی موجود رہے جو شر و فساد سے محفوظ رہ کر انسانیت کو بھٹکنے سے بچانے، اسے حقیقت حیات سمجھانے اور پیغام ہدایت عام کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ تاریخ انسانی کے اوراق گواہ ہیں کہ جب قوموں نے مسلسل سرکشی اختیار کی، عدل و انصاف کو پامال کیا، اخلاقی حدود سے تجاوز کیا اور حق کی آواز کو رد کرنے پر اصرار کیا تو بعض اقوام کو ایسے عذابوں اور تباہیوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا ذکر قرآن حکیم و عظیم میں عبرت و نصیحت کے لیے محفوظ ہے۔ مگر انسانی المیے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عذاب کی تباہ کاریوں کے آثار دیکھنے والے، اجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات سے مسلسل سفر کرتے گزرتے اور تاریخ کے نوحہ کناں صفحات پڑھنے والے بھی اکثر دیرپا سبق حاصل نہیں کرتے۔ کچھ وقت کے لیے خوف، ندامت اور اصلاح کی باتیں جنم لیتی ہیں، فکری نشستیں سجتی ہیں، مکالمے ہوتے ہیں اور عہد و پیمان باندھے جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی انسانی کمزوریاں دوبارہ سر اٹھانے لگتی ہیں اور وہی معاشرے، جو کبھی دوسروں کے انجام سے سبق لینے کا دعویٰ کرتے تھے، پھر بے راہ روی کی انہی پگڈنڈیوں پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ گذرتے وقت میں جو کچھ ہو چکا ہوتا ہے وہ کتاب وقت کے اوراق پر نقش ہو جاتا ہے شاعر نے اسی تصور کو کس خوبصورتی سے "وقت کے سینے میں” کہہ کر قلم بند کیا ہے۔ یوں مادی کائنات کے جمیع معاملات کے رازوں کا امین وقت کا سینہ ہی تو ہے۔ یعنی آفرینش سے سدرہ المنتہیٰ تک کل و ہم مادی وجودات و موجودات وقت کے وجود میں بس رہے ہیں، سانسیں لے رہے ہیں۔ جسے علامہ اقبال نے اپنے فکر انگیز کلام میں یوں بیان کیا ہے کہ سلسلہ? روز و شب ہی حوادث زمانہ کی نقش گری کرتا ہے اور یہی حیات و ممات کی اصل حقیقت ہے۔
سلسلہ روز و شب، نقش گر حادثات
سلسلہ روز و شب، اصل حیات و ممات
اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے پوچھتے ہیں” تخت پر بیٹھنے والوں کو کس مقصد کے تحت کون لاتا ہے” پر اشارے کنائے میں نوشتہ دیوار کی طرف انگشت زنی کرتے ہیں۔ یوں وہ نقطہئ ابتدائ سے منتہا تک دونوں اشعار میں سارے حساب و عذاب کا تذکرہ کر گئے ہیں۔
جانے کیا نقشہ ہے وقت کے سینے میں
کس مقصد سے تخت پہ کسے بٹھائے گا
بلاشبہ اس سفر میں بہت سے نادر الوجود انبیائ ، صلحائ اور حکمائ (سائنسدان، فلاسفر) بھی تشریف لائے تاہم تاریخ کا مطالعہ یہ تلخ حقیقت بھی آشکار کرتا ہے کہ مادی ترقی، سائنسی ایجادات، معاشی وسعت اور وسائل کی فراوانی لازماً اخلاقی بلندی، اصول پسندی اور انسانی شرافت کی ضمانت نہیں بنتیں۔ انسان نے زمین کی تہوں سے خزانے نکال لیے، فضاو¿ں کو مسخر کر لیا، سمندروں کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کر لی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے فاصلے سمیٹ دیے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نے اپنے باطن کی تاریکیوں پر بھی اسی قدر قابو پایا؟ کیا اس کی قوت کے ساتھ اس کی ذمہ داری، اس کے علم کے ساتھ اس کی حکمت اور اس کے اختیار کے ساتھ اس کا احساس جواب دہی بھی پروان چڑھا؟ بسا اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ مادی عروج کی بلند عمارت کے نیچے اخلاقی بنیادیں مسلسل کمزور ہو کر دفن ہوتی جا رہی ہیں۔ انسان نے اپنے لیے آسائشوں کے بے شمار در وا کیے، مگر اصول، عدل، قناعت، برداشت، قربانی اور احترام آدمیت جیسی بنیادی قدروں کو پس پشت ڈالنے لگا۔ جلیل عالی کا مندرجہ ذیل شعر، چند مصرعوں اور لفظوں کے حاشیے میں اسی صورت احوال کو قلمبند کر رہا ہے۔ اللہ عجز و جل تو بہت کریم ہے رحمن و رحیم ہے۔ جیسے کہ اللہ خود فرماتا ہے۔ ”اللہ تمہیں کیونکر عذاب دے گا، اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لے آو¿؟ اور اللہ بڑا قدر دان، خوب جاننے والا ہے۔“ (القرآن -سور? النسائ )۔۔ پھر بھی تباہی ہو رہی ہے، عذاب اتر رہے ہیں۔ جس کے بارے میں شاعر نے صدیوں کے چہرے پر نقش تاریخ کو اپنے لہجے میں چند لفظوں میں یوں سمو دیا ہے۔
اب کے عذاب خدا کا ایسے آئے گا
انساں خود یہ دھرتی راکھ بنائے گا
غالباً جلیل عالی کے شعر میں بھی اسی نوعیت کی کسی فکری و تہذیبی کیفیت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایسی کیفیت جس میں انسان کے موجودہ رویوں کے ساتھ اس کے ممکنہ انجام کی ہولناکی کے پنہاں راز کو بھی منکشف کر رہے ہیں۔ جب حرص، اقتدار کی ہوس، وسائل پر اجارہ داری، جنگی جنون اور فطرت کے بے دریغ استحصال کو ترقی کا نام دیا جانے لگے تو خطرے کی گھنٹیاں محض دور کہیں نہیں بجتیں، وہ انسان کے اپنے گھر کی دہلیز پر سنائی دینے لگتی ہیں۔ زمین جسے انسان کو آباد کرنے، سنوارنے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اسی کے سینے پر وہ اپنے ہاتھوں سے ایسی تباہی کے نقوش ثبت کرنے لگتا ہے جو بالآخر اس کے اپنے وجود کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو وہ دن بھی بعید نہیں جب انسان اپنی ہی حرص و ہوس، باہمی عداوت اور تباہ کن قوتوں کے ہاتھوں اس کرہ ? ارض کو ناقابل رہائش بنانے کے خطرے سے دوچار کر دے۔ پھر صورت حال کچھ یوں ہو گی کہ نہ زمین کی زرخیزی باقی رہے گی، نہ زندگی کی رونق، نہ وسائل کی افادیت اور نہ ہی اس ترقی کا کوئی وارث جس پر انسان آج نازاں ہے۔ گویا ”نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری“ کا محاورہ ایک تہذیبی المیے کی صورت اختیار کر لے گا۔ یہ خود اپنے ہاتھوں سے زمین کو راکھ کرے گا اسی کے اعمال بد اور گمراہی اس جنت ارضی کو دوزخ بنا دے گی۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ دنیا کس سمت جا رہی ہے؟ آج کے فیصلے آنے والے کل کی صورت گری کیسے کریں گے، ہم اپنی انڈسٹری کے گروتھ اشاریوں کو تو مسلسل زیر نظر رکھ کر زیادہ سے زیادہ منافع بخش بناتے ہیں مگر انسانی معاشروں کی بہتری کے لیے تڑپتے انسانوں کی چیخوں پر بھی کام دھرنا گوارا نہیں کرتے اور اگر انسانی رویوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو اس سفر کا انجام کیا ہو گا؟ ان سوالات کے قطعی جوابات کسی کے پاس نہیں۔ مستقبل کے تمام گوشے انسان پر منکشف نہیں، مگر ماضی کے شواہد ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تاریخ محض گزرے ہوئے زمانوں کے واقعات کا مجموعہ نہیں، یہ انسانی اعمال، اجتماعی رویوں، تہذیبی عروج و زوال اور ان کے نتائج کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس کے اوراق میں کامیابیوں کے اسباب بھی درج ہیں اور تباہیوں کے محرکات بھی۔ اس میں قوموں کے عروج کے راز اور ان کے زوال کی نشانیاں بھی پوشیدہ ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کو محض پڑھنے کی چیز نہ سمجھیں، بلکہ اس سے مکالمہ کریں، اس کے شواہد کا دیانت داری سے جائزہ لیں اور اپنی اجتماعی زندگی کے لیے رہنما اصول اخذ کریں۔المیہ یہ نہیں کہ مستقبل نامعلوم ہے اصل المیہ یہ ہے کہ ماضی کے نتائج ہمارے سامنے ہوتے ہوئے بھی ہم ان سے سبق حاصل کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ تاریخ خود کو بعینہ? نہیں دہراتی، لیکن انسانی کمزوریاں، حرص، تعصب، ظلم اور اقتدار کی ہوس نئے لباس میں پرانے المیوں کو ضرور جنم دے سکتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے رویوں کا محاسبہ کیا، علم کو حکمت سے، ترقی کو اخلاق سے، اختیار کو ذمہ داری سے اور وسائل کو امانت سمجھنے کے شعور سے وابستہ کر لیا تو آنے والے کل کو بہتر بنانے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔آخرکار، زمین ہماری جاگیر نہیں، امانت ہے۔ زندگی محض لطف اندوزی کا نام نہیں، ذمہ داری بھی ہے اور انسان کی عظمت صرف اس کی ذہانت، طاقت یا مادی کامیابیوں میں نہیں، بلکہ اس کے عدل، کردار، رحم دلی اور احساس جواب دہی میں پنہاں ہے۔ تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ پہچان لینا ہی دانش مندی کی ابتدا ہے۔ جو قومیں اس آئینے سے نظریں چرا لیتی ہیں، وہ اکثر اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہوتیں، بلکہ اس انجام کی طرف بڑھتے ہوئے بھی خود کو دھوکا دیتی رہتی ہیں۔ یہ نفع نہیں خسارہ ہے۔ دماغ کے لیے جو راستہ انتہائی سہل تھا، اسے اختیار کرنے کی بجائے انسان نے اپنے پورے وجود کو دشواریوں میں دھکیل دیا۔ عقل پر جہالت، امن پر جنگ اور اجتماعی مفاد پر جزوقتی منفعت کو ترجیح دی، یوں لمحاتی فائدے کی خاطر اپنے پورے مستقبل کو کنویں میں پھینک دیا۔شاعر نے بین السطور وقت کے سینے میں محفوظ، الم ناک مناظر کی فلم سے اڑتی ہوئی راکھ کو محسوس کیا ہے۔ وہ اس انسانی المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں عقل کے دعوے دار اپنے بانجھ شعور سے ایسی خاک اڑاتے ہیں کہ تباہی کے آثار تو فضا میں پھیل جاتے ہیں، مگر اس اڑتی خاک اور قریہ قریہ پھیلی تباہی کو دیکھ کر سہہ جانے والی چشم دل کہاں سے آئے؟ ایک ہی جست میں شعور کی کل جہتوں کو خیرہ کر دینے والی دل کی کھلی آنکھ ان خون آلود مناظر کو کیسے دیکھے گی۔ مگر شعور ہی بانجھ ہو تو اس کی اڑائی دھول کو دل بینا کیسے دیکھے کس طرح سمجھائے؟شاعر نے اپنے اسلوب میں بانجھ شعور اور دل بینا کی نزاکت کے تضاد و اضداد کو محض لفظی صنعت کے طور پر نہیں، بلکہ ایک گہری فکری معنویت کے ساتھ برتا ہے۔ عقل کے مقابل جہالت، امن کے مقابل جنگ، اور بصیرت کے مقابل بانجھ شعور کو رکھ کر اس نے انسانی رویوں کے تضادات کو نہایت مو¿ثر انداز میں نمایاں کیا ہے۔ شعر کا حسن یہ ہے کہ یہاں خاک اڑانا محض تباہی و بربادی کا استعارہ نہیں، بلکہ اس میں حساس انسان کے لیے ذہنی و فکری کوفت اور رنج و الم کی علامت بھی ہے۔ گویا بانجھ شعور کے پیدا کردہ، اڑایا ہوا کربناک گرد و غبار چشم دل کیسے کر دیکھ پائے گی؟ انسانی معاشرے میں آج تلک پھیلی تباہیوں کا موجب تو بانجھ شعور ہی ہے اور زندہ دل اس منظر کو نہیں دیکھ سکے گا۔ یہی تضاد شعر کی فکری تہہ داری اور اس کے معنوی حسن کو جلا بخشتا ہے۔
دل آنکھوں سے کیسے دیکھی جائے گی
عالی بانجھ شعور جو خاک اڑائے گا۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم تاریخ کے صفحات کو محض ورق گردانی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے آج کی اصلاح اور آنے والے کل کی حفاظت کے لیے پڑھیں، کیونکہ ماضی بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں، مگر اس سے سبق لے کر مستقبل کی بہتر سمت متعین کرنا یقیناً ہمارے اختیار میں ہے۔ آخر پر شاعر محترم کے لیے بہت محبت۔

دھرتی راکھ بنائے گا

دھرتی راکھ بنائے گا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے