#کالم

پاکستانی ادب کے معمار : ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

shaid bukhari

قسط: 45

شاہد بخاری

لیکن مجھے اس وقت خوشی ہوئی جب شاہد بخاری صاحب نے مجھے بتایا کہ آپ نے نہ صر ف مجھے یاد رکھا ہے بلکہ مجھ سے بات کرنے کی خواہش کی ہے۔ پھر انہوں نے آپ کی میرے ساتھ فون پر بات کرابھی دی۔ اب میں نے آپ کا ارسال کردہ رسالہ بھی پڑھا اور معلوم ہوا کہ آپ نے سفید چھڑی والوں کی خدمت اور بہتری کے لئے مشن قائم کر رکھا ہے اور اس میں خود کو پوری طرح Involvedکیا ہوا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت دے اور کامیابیوں سے سرفراز کرے آپ کی قائم کردہ ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ کی کاوشوں میں ایک چھوٹا سا حصہ ارسال کر رہا ہوں۔ قبول فرمائیں۔ امید ہے آپ رسالہ سفید چھڑی آئندہ بھی بھیجتے رہیں گے۔ ڈھیروں ساری دعاو¿ں کے ساتھ۔“ڈاکٹر سلیم اختر: ”سرگودہا سے ماہنامہ”سفید چھڑی“ کئی برس سے باقاعدگی سے طبع ہو رہا ہے اور پاکستان میں یہ واحد پرچہ ہے جس میں ایسے مضامین شائع کئے جاتے ہیں جو نابینا کے ساتھ ساتھ بینا حضرات کے بھی کام آ سکتے ہیں۔ مجھے یہ پرچہ باقاعدگی سے ملتا ہے اور میں اس سے استفادہ بھی کرتا ہوں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر شیخ اقبال کی کاوشیں لائقِ صد تحسین ہیں۔ وہ خود بھی پڑھے لکھے، دانشور ہیں نفسیات اور ایسے ہی کئی موضوعات پر ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن سے لوگ استفادہ بھی کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں نابینا حضرات کا ب±را حال ہے کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس ضمن میں ہماری بے بضاعتی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نابینا کو حافظ جی کہتے ہیں۔ تو ایسے معاشرے میں سفید چھڑی جیسا بامقصد پرچہ جاری کرنا اور پڑھے لکھے لوگوں تک اس کی باقاعدہ ترسیل کرتے رہنا بذاتِ خود ایک کارنامہ ہے۔ میں اقبال صاحب کودلی دعا دیتا ہوں کہ ان کی یہ مساعی سود مند ثابت ہو“(۱۱)مندرجہ بالا خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ سفید چھڑی کی کارکردگی کا کیا معیار رہا ہے اور اس سے ڈاکٹر شیخ اقبال کی ادارت کی خوبیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اور ان کی صحافت کے محاسن بھی منصہ شہود پر آ جاتے ہیں ڈاکٹر اقبال سرگودہا ڈویڑن کی ایڈیٹر کونسل کے ایگزیکٹو رکن سالہا سال رہے ہیں۔ وہاں بھی انہوں نے صحافتی ارتقا کے لئے بے پناہ کام کیا ہے۔ بہر حال سفید چھڑی کا گزشتہ ۸۲ سال سے شائع ہوتے رہنا اس میں ملک کے قد آور اور ممتاز ادیبوں اور شاعروں کا اور تخلیقات کا شائع ہوتے رہنا اور سفید چھڑی کا دنیا ئے ادب میں روز بروز مقبول ہوتے رہنا ڈاکٹر صاحب کی صحافتی صلاحیتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال بیک وقت ایک شاعر، ادیب نقاد انشائیہ نگار افسانہ نویس اور جانے کیا کیا کچھ ہیں اور ا س کے ساتھ ساتھ ماہنامہ”سفید چھڑی“جیسے ہر دل عزیز پرچے کی باقاعدگی سے ادارت کرتے ہیں یہ سب اللہ کا کرم ہے اور ان کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ وہ ہر ایک میدان میں اپنے اشہبِ فکر کی جس طرح جولانیاں دکھاتے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے اس ضمن میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن مجوزہ کتاب کی ضخامت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ان کی صحافتی کاوشوں کا مختصر سا ذکر نذرِ قارئین کیا گیا ہے۔ صحافتی کارکردگی کی تحسین کے طور پر ایڈیٹرز کونسل سرگودہا ڈویڑن نے انہیں دوبار خصوصی ایوارڈ کے قابل سمجھا۔ماہنامہ”سفید چھڑی“پر ایم۔ فل کامقالہ ہمارے لئے یہ تقویت کا باعث ہے کہ ماہنامہ”سفید چھڑی“ سرگودہا کی ادبی خدمات پر تحقیقی کام بہت سی یونیورسٹیز میں جاری ہے بلکہ ایم فل کا ایک مقالہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر ڈگری بھی ایوارڈ ہو چکی ہے۔ عنوان: مجلہ سفید چھڑی کے مضامین کا توضیحی اشاریہ۔۔۔مقالہ نگار: ضمیر خان نگران مقالہ: حافظ عبدالعزیز ملک،۔۔۔ایم فل۔شعبہ اردو 2018ء فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہومینٹیز، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس فیصل آباد (یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOLبتاریخ 27 مئی 2025 قسط وار شائع کر رہے ہیں)

پاکستانی ادب کے معمار : ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

سرحد پار کی صدا اور ڈی جے

پاکستانی ادب کے معمار : ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

مٹی پاو، آگے بڑھو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے